نریندر مودی کے وزیر کے بیٹے کی ریپ کیس میں عبوری ضمانت سے ہائی کورٹ کا انکار
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) بھارت کی ریاست تلنگانہ کی ہائی کورٹ نے نریدنر مودی کی مرکزی حکومت کے وزیر کے بیٹے کو ریپ کیس میں عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ بھارت کے مرکزی وزیر بنڈی سنجےکے بیٹے کی گرفتاری تب بھی نہیں ہوئی۔ اس پر تلنگانہ مین ایک کم عمر بچی کا جنسی استحصال کرنے کے الزام میں مقدمہ درج ہے۔
تلنگانہ کی ہائی کورٹ کی خاتون جج جسٹس ٹی مادھوی دیوی نے بھاگیرتھ کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر کہا کہ ’’میں نے متاثرہ بچی کا بیان پڑھا ہے۔ اسے دیکھنے کے بعد، اس مرحلے پر میں کوئی بھی عبوری ریلیف دینے کے حق میں نہیں ہوں۔‘‘
بھارت کے میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کے بیٹے بنڈی بھاگیرتھ کو ہائی کورٹ سے جھٹکا لگا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ نے ’پاکسو‘ قانون کے تحت درج ایک مقدمہ میں بھاگیرتھ کو گرفتاری سے عبوری ریلیف دینے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ہائی کورٹ کی ویکیشن بنچ نے جمعہ کی شام بھاگیرتھ کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت شروع کی تھی۔ جسٹس ٹی مادھوی دیوی کی سربراہی میں یہ سماعت تقریباً آدھی رات تک چلتی رہی۔ طویل بحث کے بعد جج نے قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔ لیکن بھاگیرتھ کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ آخری فیصلہ آنے تک بھاگیرتھ کی گرفتاری پر روک لگائی جائے۔ حالانکہ عدالت نے اس مطالبے کو سرے سے مسترد کر دیا۔
سماعت کے دوران بھاگیرتھ کے وکیل نے دلیل دی کہ شکایت کنندہ نے خود تسلیم کیا تھا کہ ان کی بیٹی 2025 سے بھاگیرتھ کے ساتھ رشتے میں تھی اور دونوں کے درمیان اچھے تعلقات تھے۔ دوسری جانب متاثرہ کے وکیل نے بھاگیرتھ کو کسی بھی قسم کی راحت دیے جانے کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے دلیل دی کہ ملزم کے والد (بنڈی سنجے) ایک انتہائی بااثر شخصیت ہیں۔ ایسے میں اگر ملزم کو راحت ملتی ہے، تو وہ ثبوتوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیئے: بارشوں کی خوشخبری، ساتھ ہی ژالہ باری کا بھی خطرہ
8 مئی کو ایک 17 سالہ نابالغ لڑکی کی ماں نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا کہ بھاگیرتھ ان کی بیٹی کا دوست تھا اور اس نے لڑکی کا جنسی استحصال کیا۔ پولیس نے پہلے بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) اور پاکسو ایکٹ کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ لیکن عدالت کے سامنے متاثرہ بچی کا بیان درج ہونے کے بعد مقدمہ میں پاکسو قانون کی مزید سخت دفعات شامل کر دی گئیں۔
مرکزی وزیر بنڈی سنجے کمار کے بیٹے پر نابالغ لڑکی کے جنسی استحصال کا الزام عائد ہونے کے بعد اپوزیشن کانگریس کی جانب سے حکومت پر سخت تنقید کی گئی لیکن ملزم کی گرفتاری اب تک نہیں ہو سکی۔
یہ بھی پڑھیئے: سندھ بلوچستان میں شدید گرمی کی لہر برقرار، آنے والے دنوں میں کیا ہوگا؟
اس دوران یہ ہوا کہ بھاگیرتھ نے بھی کریم نگر پولیس میں لڑکی اور اس کے اہل خانہ کے خلاف ایک جوابی شکایت درج کرائی۔ ریپ کے ملزم بھاگیرتھ کا دعویٰ ہے کہ لڑکی سے اس کی جان پہچان تھی اور وہ اس کے خاندان کی ایک تقریب میں بھی گیا تھا۔ اس نے الزام عائد کیا کہ لڑکی اور اس کے والدین اس پر شادی کا دباؤ ڈالنے لگے تھے۔ جب اس نے شادی سے انکار کر دیا، تو وہ پیسوں کا مطالبہ کرنے لگے اور جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کی دھمکی دی۔ بھاگیرتھ کا الزام ہے کہ اس نے لڑکی کے والد کو 50000 روپے دیئے تھے، لیکن بعد میں خاندان نے اس سے 5 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا اور مانگ پوری نہ ہونے پر ماں نے خودکشی کرنے کی دھمکی دی۔
یہ بھی پڑھیں: موسم میں بڑا بدلاؤ، بھارت کی 15 ریاستوں میں ہیٹ ویوو کے ساتھ تھنڈر سٹارم کا الرٹ