مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے،جہاں سے گرفتاری ڈالی گئی وہ گھر میرا نہیں:انمول عرف پنکی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)منشیات فروشی کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کو چہرہ ڈھانپ کر سخت سکیورٹی میں سٹی کورٹ کراچی لایا گیا اور پھر انہیں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔
ڈیوٹی مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں پولیس نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو پیش کیا، دوران سماعت ملزمہ انمول عرف پنکی نے اپنے بیان میں عدالت کو بتایا کہ مجھے مارا گیا ہے، مجھ پر جھوٹے مقدمات بنائے گئے ہیں، میرے ساتھ ظلم ہوا ہے۔
جج نے ملزمہ سے نام پوچھتے ہوئے کہا کہ آپ آرام سے بیٹھ جائیں، پانی پئیں، یہ سٹی کورٹ ہے، یہاں آپ کو کوئی ہراساں نہیں کرے گا۔
ملزمہ نے عدالت کے استفسار پر بتایا کہ میرا نام انمول ہے، مجھے 20دن سے اٹھایا ہوا ہے، مجھ پر بوری بھر بھر کر منشیات ڈالی گئی، 6 آدمی مجھے گاڑی میں ڈال کر لے کر آئے، 15دن بعد مجھے پولیس کے حوالے کیا گیا ،مجھ پر زور زبردستی سے لوگوں کے نام کہلوائے جارہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بجلی مزیدمہنگی ہوگی؟ حکومت نے بڑا فیصلہ کرلیا
عدالت میں بیان دیتے ہوئے انمول عرف پنکی نے بتایا کہ مجھ سے کہا جارہا ہے کہ جو ہم نام بتارہے ہیں، ان سب کا نام لو۔
عدالت نے کہا کہ آپ کا اقبالی بیان نہیں ہو رہا ہے ابھی، عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ پرانا آرڈر کہاں ہے،ملزمہ سے پوچھا کہ آپ کی طبیعت ٹھیک ہے؟
ملزمہ نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے مزید بتایا کہ میرے خلاف 20 سے 25 پرچے ڈالے جارہے ہیں ، کہا جارہا ہے کہ سب کچھ قبول کریں ورنہ آپ کی فیملی کو اٹھا کر لیں جائیں گے، اسی طرح بنی گالہ کے ایک بندے کا نام لیا جارہا ہے، کہا جارہا ہے کہ اس کا نام لو، پہلے دن مجھے وین میں لائے تھے، انہوں نے کہا تھا ایسے آپ نے چلنا ہے، میری گرفتاری جہاں سے ڈالی گئی، وہ گھر میرا نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سینیٹ میں ہنگامہ،مسلح جھڑپ،گرفتاری کیلئے مطلوب سیاستدان فرار
عدالت نے حکم دیا کہ نظر ثانی اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے پرانے دونوں آرڈر پیش کیے جائیں۔
دوران سماعت بغدادی تھانہ پولیس کے تفتیشی افسر کی جانب سے قتل کیس میں تفتیش کے لیے مزید ریمانڈ طلب کیا گیا۔
عدالت نے آئی او سے استفسار کیا کہ آپ نے ملزمہ سے کیا تفتیش کی؟، جس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ ہم نے معائنہ کیا، مزید 11مقدمات درج کیے گئے ، ملزمہ کی نشاندہی پر منشیات بھی برآمد کی گئی ۔ تینوں کیسز میں پہلی دفعہ ملزمہ کو جیل بھیجا گیا ، ملزمہ بہت عرصے بعد پکڑی گئی ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل کراچی سٹی کورٹ کی راہداری میں اس وقت صورتحال کشیدہ ہوگئی جب منشیات کیس میں پیشی کے دوران خاتون پولیس اہلکار مبینہ طور پر انمول عرف پنکی کے قریب موجود رہی اور دورانِ گفتگو اس کے منہ پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی گئی۔