افغان سیاسی قیادت نے پاکستان کیساتھ کشیدگی کا ذمہ دار طالبان کو ٹہرا دیا

Mar 15, 2026 | 09:38:AM
افغان سیاسی قیادت نے پاکستان کیساتھ کشیدگی کا ذمہ دار طالبان کو ٹہرا دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)افغانستان کی سیاسی قیادت نے پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار طالبان حکومت کی پالیسیوں کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کی غیر ذمہ دارانہ حکمت عملی اور شدت پسند گروہوں کی حمایت نے ملک کو نہ صرف عالمی سطح پر تنہائی کا شکار کیا بلکہ داخلی سطح پر بھی شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔

افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے رہنما احمد مسعود نے کہا ہے کہ پاکستان کی حالیہ فضائی کارروائیاں طالبان حکومت کی غیر ذمہ دارانہ پالیسیوں اور دہشت گرد تنظیموں کی سرپرستی کا نتیجہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے القاعدہ، فتنہ الخوارج، جیش العدل اور دیگر شدت پسند تنظیموں کو پناہ دے کر خطے میں کشیدگی کی فضا پیدا کی۔

احمد مسعود نے مزید کہا کہ طالبان حکومت نہ صرف عالمی سطح پر اپنی قانونی حیثیت کھو چکی ہے بلکہ ملک کے عوام کو سیاسی نظام سے بھی باہر رکھا ہوا ہے۔

دوسری جانب افغان سیاسی رہنما محمد محقق نے بھی طالبان حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے عوام پر زور دیا کہ وہ امید کا دامن نہ چھوڑیں اور ملک میں بڑی تبدیلی کے لیے تیار رہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا کے پاس اب بھی وقت ہے جیت کا اعلان کرکے جنگ ختم کردے:اعزاز چوہدری

انہوں نے افغانستان میں ہزارہ برادری کے خلاف مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں ہزارہ ہونا کوئی جرم نہیں اور نسلی بنیادوں پر نشانہ بنانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق طالبان حکومت کی جارحانہ پالیسیوں اور شدت پسند گروہوں کی مسلسل سرپرستی پر نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ افغان معاشرے کے مختلف حلقوں میں بھی سوالات اور تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی طرز حکمرانی نے افغانستان کو عالمی تنہائی کی طرف دھکیل دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق احمد مسعود اور محمد محقق کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ افغانستان کے اندر طالبان حکومت کے خلاف سیاسی اور عوامی سطح پر بے چینی بڑھ رہی ہے اور مستقبل میں اس کے اثرات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔