فادرزڈے:خوب صورت رشتے کی خوشبوسے مہکتاتہوار

ہردن فادرز ڈے ہونا چاہئے،مصطفٰی قریشی، باپ کے عاشق کا زمانہ عاشق ہوجاتا ہے،عارف لوہار

Jun 15, 2025 | 11:41:AM
فادرزڈے:خوب صورت رشتے کی خوشبوسے مہکتاتہوار
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )انسان کیلئے بڑھاپے میں سب سے بڑا سہارا روپیہ پیسہ یا مال ودولت نہیں بلکہ اپنی اولاد ہوتی ہے,ماں بچّے کوجنم دیتی ہے توباپ اس بچّے کوپروان چڑھانے کیلئے موسموں کی سختیوں سے لے کر محنت ومشقّت کی گرانباری تک سے نہیں گھبراتااوربچّوں کاپیٹ بھرنے اوران کی دیگر ضروریات پوری کرنے کیلئے سردھڑکی بازی بھی لگادیتا ہے۔کہتے ہیں ماں باپ کے دس بچّے بھی ہوں تووہ کسی کوگھر سے نہیں نکالتے بلکہ اپناپیٹ کاٹ کراوراپنی دیگر ضروریات کومحدود بسا اوقات ختم کرکے بچّوں کی پرورش کرتے ہیں لیکن دس بچّوں کے والدین کوبڑھاپے میں بعض اوقات سرچُھپانے اورچندنوالے روٹی کھانے کیلئے بھی دربدردھکے کھانے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے اب ہمارے ہاں بھی یورپ کی طرز پرایسے بدنصیب والدین کیلئے اولڈایج ہوم قائم کئے جارہے ہیں۔

 ماں کی مامتاسب کو دکھائی دیتی ہے اور دکھائی دینی بھی چاہیے لیکن باپ کی محبّت کو عموماً اس اتھارٹی کے بھاری بوجھ تلے دبا دیا جاتا ہے جو بظاہر باپ کی سخت گیری لیکن دراصل اولاد کی بہترین تعلیم و تربیت اور کردار سازی کا ایک ذریعہ ہوتی ہے,اولاد کے ساتھ محبّت کا خوبصورت ترین پہلو یہ ہے کہ باپ اس محبّت کی خاطر اپنی تمام مُحبتیں اور چاہتیں قربان کردیتا ہے،وہ موسم کی سختیوں یا دیگر کسی بھی مشکل کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے بچّوں کا پیٹ بھرنے کے لئے گھر سے نکلتا ہے اور خود سارا دن بھوکا پیاسا رہ کر بھی خوشی خوشی اپنے بچّوں کے درمیان لوٹ جاتا ہے، باپ اپنی اولاد میں جیتا اور اس کی خوشی میں سانس لیتا ہے لیکن شاید وہ اس طرح اپنے بچّوں کے ساتھ محبّت اور پیار کا اظہار کرنے سے قاصر رہتا ہےجو ماں بڑی سہولت اور آسانی سے کر دیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جیون ساتھی کیساہوگا؟کومل میرکے جواب نے نئی بحث چھیڑدی

 آئیڈیل صورتحال کی بات کریں تو ہر بچّے کا اصلی ہیرو اس کا باپ ہوتا ہے لیکن آج کے معاشرے میں ہمیں یہ ہیرو منظر سے ہٹا ہوا دکھائی دیتا ہے۔شاید اس ہیرو کو واپس لانے کے لئے ہی اب عالمی سطح پر فادرز ڈے منایا جاتا ہے، سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو باپ اپنی ساری زندگی اپنے بچّوں کی ضروریات پوری کرنے اور ان کے لئے دُنیا بھر کی خوشیاں اور راحتیں جمع کرتے ہوئے گزار دیتا ہے اس کے لئے سال میں محض ایک دن مخصوص کر کے حق ادا کیا جا سکتا ہے؟

”فادرزڈے“کو عموماً جون کے تیسرے اتوارکومنایاجاتاہے۔لیکن کئی مُلکوں میں الگ الگ تاریخوں میں بھی منایاجاتاہے،اس دن کومنانے کاآغازامریکہ سے ہواتھا اورپہلا”فادرزڈے“19جون1910ء کوواشنگٹن منایاگیاتھا،کہاجاتاہے کہ یہ دن منانے کا خیال سنوراسمارٹ ڈوڈ نامی ایک خاتون نے اس وقت پیش کیاتھا جب وہ 1909ء میں ماؤں کے عالمی دن کے موقع پر ایک خطاب سُن رہی تھیں،سنوراکی پرورش ماں کی وفات کے بعد اس کے باپ ولیم سمارٹ نے کی تھی اوروہ اپنے والد کو بتاناچاہتی تھی کہ وہ اس کیلئے کتنے اہم ہیں اس لئے اس نے اپنے والد کی سالگرہ کے دن یعنی 19جون کو”فادرز ڈے“ کے طور پر منایا،پھر1956ء میں امریکی کانگرس نے ایک قراردادکے ذریعے اسے باقاعدہ طور پر”فادرز ڈے“ تسلیم کرلیا،اب پاکستان سمیت دُنیاکے بیشتر ممالک میں جون کا تیسرا اتوار”فادرزڈے“کے طور پر منایاجاتاہے۔

مصطفٰی قریشی کاشُمارپاکستان فلم انڈسٹری سے وابستہ لیجنڈزمیں ہوتا ہے،ان کے دو بچّے ہیں،ایک بیٹا اورایک بیٹی,بیٹاعامر قریشی بھی شوبزمیں  ہے۔مصطفیٰ قریشی نے فادرز ڈے کے حوالے سے جذبات کااظہار کرتے ہوئے بتایاکہ باپ محنت کرکے اپنے بیٹے کوجوان کرتا ہے،اس کی خواہش ہوتی ہے اس کا بیٹا بلندیوں تک پہنچے،ماں کی طرح باپ کی بھی بہت اہمیت ہے لیکن آج کل اولاد ماں باپ کی اس طرح سے فرمانبردار نہیں ہے۔جہاں تک میرے بیٹے عامر قریشی کا تعلق ہے توعامر قریشی ماشاء اللہ بالکل صالح اولاد ہے،وہ ہر طرح سے میرا ہمدرد اور صالح ہے، بہت باادب ہے،وہ جوکچھ کررہا ہے،اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پرکر رہا ہے۔میرے خیال میں ہردن فادرز ڈے اور مدرز ڈے ہونا چاہئے۔

 غلام محی الدین کا شُمار بھی فلم انڈسٹری سے وابستہ لیجنڈزمیں ہوتاہے،فلموں کے ساتھ ساتھ ٹی وی پر بھی بہت کام کیاہے،وہ ذاتی زندگی میں انتہائی ملنسار اوراپنے بچّوں سے بہت زیادہ محبّت کرنے والے شفیق باپ ہیں،ان کے بیٹے علی محی الدین بھی شوبزمیں رہے ہیں، غلام محی الدین نے بتایا کہ فادرز ڈے منانے میں کوئی ہرج نہیں ہے،مغرب نے بھی ہماری بہت ساری اچھی چیزیں مستعار لی ہیں، فادرز ڈے ایک قسم کی یاددہانی ہوتی ہے کہ باپ کی کیا اہمیت ہے، نئی نسل کو پتہ ہونا چاہیے کہ مدرز ڈے کیا ہے اور فادرز ڈے کیا ہے؟ ان کی اہمیت کیا ہے،جہاں تک میرے بیٹے علی محی الدین کا تعلق ہے تو وہ ماشاء اللہ میرا دوست ہے،ہماری اس حد تک انڈرسٹینڈنگ ہے کہ ہم آپس میں مل بیٹھ کر ہر چیز ڈسکس کرتے ہیں،باپ بیٹے کے درمیان ایسی انڈرسٹینڈنگ ہونی چاہیے،باپ بیٹے کے تعلق میں وقت کے ساتھ تبدیلی آئی ہے،باپ کا بیٹے کی گرومنگ میں اہم کردار ہوتا ہے،وہ اپنی زندگی بھر کا نچوڑ اور تجربہ اولاد کے ساتھ شیئر کرتا ہے، یہ دن منانے سے پیارمحبت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگر مدرز ڈے پر ماں کے لئے کچھ لاتے ہیں یا فادرز ڈے پر باپ کیلئے کچھ لاتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتے ہیں، اس سے رشتوں میں مضبوطی آتی ہے۔

عرفان کھوسٹ دُنیائے فن میں اپنے خاندان کی دوسری اور ان کے بیٹے سرمدسلطان کھوسٹ تیسری نسل کی نمائندگی کررہے ہیں، عرفان کھوسٹ نے فادرز ڈے کے حوالے سے بتایا کہ بلاشبہ ماں کے پیروں تلے جنت ہے لیکن باپ بھی کم نہیں ہے،باپ کی دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی،ماں اورباپ دونوں ایسے رشتے ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا،باپ واحد رشتہ ہے جو اولاد کو اپنے سے آگے دیکھنا چاہتا ہے۔

فن کے سلطان سلطان راہی کے صاحبزادے حیدرسلطان نے فادرز ڈے کے حوالے سے بتایا کہ ابوبہت پیار کرنے والے اور ہرایک کا خیال رکھنے والے تھے ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو دُنیا کو ساتھ لے کرچلتے ہیں،ہر باپ اولاد کے لئے ہیرو ہوتا ہے لیکن راہی صاحب توہمارے علاوہ باہر بھی ہیرو اور کئی لوگوں کے باپ تھے کیونکہ ان کی وجہ سے کئی گھروں کے چولہے جلتے تھے،وہ لوگ انہیں ہم سے بھی زیادہ مِس کرتے ہیں،باپ کے رشتے کوصرف ایک دن تک محدود کردینا اس مقدس رشتے سے زیادتی کے مترادف ہوگا۔

پنجاب کی ثقافت اورلوک گائیکی سے آگاہ لوگ عارف لوہار کے نام سے بخوبی آگاہ ہیں،عارف لوہار نے بتایا کہ میں اپنے والد حاجی عالم لوہار کا عاشق ہوں جو اپنے باپ کا چہرہ دیکھ کر خوش ہوتاتھا بلکہ میں توکہاکرتاہوں کہ جو اپنے باپ کے عاشق ہوتے ہیں زمانہ اُن کا عاشق ہوجاتا ہے۔آج مجھے اللہ نے جو بھی مقام دیا ہے وہ والد کی دعاؤں کا نتیجہ ہے،میں سمجھتا ہوں والد اللہ کی ایسی نعمت ہے جو بچّے کا سب سے پہلا ہیرو ہوتا ہے۔