عشرت فاطمہ کو ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑنا پڑا؟  لیجنڈ  نیوز ریڈرنے حقائق خود بتا دیئے

Jan 15, 2026 | 20:46:PM
 عشرت فاطمہ کو ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑنا پڑا؟  لیجنڈ  نیوز ریڈرنے حقائق خود بتا دیئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) شہرہ آفاق  براڈ کاسٹر اور نیوزکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کے ساتھ 45 سالہ رفاقت کا خاتمہ کر دیا ۔ اس سے پہلے کہ ان کے مداحوں کی طرف سے یہ سوال سامنے آئے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہی تھیں، پھر انہوں نے ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑ دیا، عشرت فاطمہ نے خود ہی حقائق بتا دیئے کہ انہیں ریڈیو پاکستان کیوں چھوڑنا پڑا۔

پاکستان ٹیلی ویژن کے خبرنامے سے شناخت بنانے والی سینئر نیوز اینکر اور براڈکاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کے ساتھ اپنی 45 سالہ طویل وابستگی ختم کرنے کا اعلان ریڈیو پاکستان سے ہی کیا۔ عشرت فاطمہ  کے اس فیصلے نے میڈیا  کےحلقوں اور ان کے مداحوں کو جذباتی کر دیا، کیونکہ عشرت فاطمہ کا نام دہائیوں تک پاکستان میں پروقاراور سنجیدہ نیوز ریڈنگ کی علامت سمجھا جاتا رہا ہے۔

عشرت فاطمہ نے ایکس پر  اپنے مداحوں کے لئے ریڈیو پاکستان سے اپنے آخری خبرنامے کی ویڈیو شیئر  بھی کی، اور اس کے ساتھ یہ بھی تفصیل بتا دی کہ انہیں ریڈیو پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیوں کرنا پڑا۔ 

عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کے آخری نیوز بلیٹن میں  اپنے سامعین سے رخصت لیتے ہوئے کہا کہ وہ سننے والوں سے  45 سالہ رفاقت کو الوداع کہہ رہی ہیں۔ یڈیو پاکستان اور سامعین کا وہ دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہیں، جنہوں نے اس طویل سفر میں ان کا ساتھ دیا۔

 اس کے ساتھ ہی ایک 13 منٹ طویل ویڈیو پیغام میں عشرت فاطمہ نے اپنے ریڈیو پاکستان کی نوکری چھوڑنے کے  فیصلے کی وجوہات  پر کھل کر بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ میرے لئے انتہائی مشکل تھا اور میں شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھی۔ میں نے  اس فیصلے سے پہلے اللہ سے دعا کی کہ اس میں بہتری اور آسانی ہو۔

عشرت فاطمہ نے بتایا کہ میرا کا نیوز ریڈنگ کا باقاعدہ سفر 1984 میں شروع ہوا، جبکہ 1983 سے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سے وابستہ ہوں۔خبریں پڑھنا میرےلیے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک جذبہ، عشق اور جنون رہا ہے، اور آج بھی ہے۔  میری آواز، تلفظ، صحت اور کام کی صلاحیت میں کوئی کمی نہیں آئی اور  میں ہمیشہ وقت کی پابند اور اپنے کام سے مخلص رہی ہوں۔

یہ بھی پڑھیئے: 45 سالہ رفاقت ختم، عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان کو خیر باد کہہ دیا

عشرت فاطمہ نے بتایا ،  اس کے باوجود  مجھے کام کرنے کے مناسب مواقع فراہم نہیں کیے گئے۔ مجھے  بارہا سینئر اور لیجنڈ قرار دیا گیا، لیکن عمللاً میری محنت اور تجربے کو وہ مقام نہ مل سکا جس کی میں حق دار تھی۔ مجھے بار بار یہ احساس دلایا گیا کہ اب  آپ  کی ضرورت نہیں رہی، یہ  میرےلیے نہایت تکلیف دہ تجربہ تھا۔

عشرت فاطمہ نے بتایا، میں نے کافی عرصہ حالات بہتر ہونے کا انتظار کیا، مگر بالآخر  ریڈیو پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

عشرت فاطمہ نے اپنے مداحوں کو یقین دلایا کہ میں منظر سے غائب نہیں ہوں گی اور سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے چاہنے والوں سے رابطے میں رہوں گی، اپنی یادیں اور تجربات شیئر کرتی رہوں گی۔

عشرت فاطمہ کو ان کی شاندار خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے پرائیڈ آف پاکستان اور تمغۂ امتیاز جیسے اعلیٰ اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن کے معروف رات نو بجے کے اردو خبرنامے کی اینکر رہ چکی ہیں، جبکہ ان کے کیریئر کا آغاز ریڈیو پاکستان کے پروگرام ’کھیل اور کھلاڑی‘ سے ہوا۔ شستہ اردو، پُراثر آواز اور باوقار انداز نے انہیں 1980 اور 1990 کی دہائی میں ایک نمایاں مقام دلایا۔

عشرت فاطمہ کی وفات کی افواہ

گزشتہ سال اکتوبر میں عشرت فاطمہ کی وفات کی افواہ بھی سوشل میڈیا پر پھیلائی گئی۔ متین اور بردبار عشرت فاطمہ نے اس افواہ کے جواب میں اپنے بخیریت ہونے کی اطلاع دیتے ہوئے  بتایا کہ  انہین اس بات پر اطمنان ہے کہ ان کے بارے میں افواہ صرف مرنے کی پھیلائی گئی۔ انہوں نے  کہا، میں مرنے سے پہلے حج کرناچاہتی ہوں، مداح میرے لئے عزت کی دعا دیں زندگی کی نہیں:عشرت فاطمہ نے مزید کہا، موت برحق ہے ،میں تو انتظار میں ہوں کہ کب بلاواآجائے۔ لیکن اس کے ساتھ انہوں نے اپنے انتقال کی افواہوں  کو پھیلانے میں ملوث افراد کے متعلق ایک لفظ بھی نہیں کہا۔

 اپنے سوشل میڈیا پیغام میں عشرت فاطمہ نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر کسی افواہ کے متعلق سن کر میں بہت زیادہ گھبراگئی کہ اللہ نہ کرے میرے بارے میں کوئی منفی بات نہ ہوگئی ہولیکن انہوں نے بتایاکہ نہیں نہیں آپ کی زندگی کے بارے میں خبریں گردش کررہی ہیں کہ خدانخواستہ آپ اس دنیامیں نہیں رہیں۔میں نے اس پرسکون کاسانس لیاکیونکہ میں نے اپنی پوری زندگی میں بہت پھونک پھونک کرقدم رکھاہے،ہمیشہ کوشش کی ہے کہ کوئی ایسی غلطی نہ کربیٹھوں جس سے مجھے اپنے والدین،بہن بھائیوں،شوہراوربچوں کے سامنے شرمندہ ہوناپڑے۔

یہ بھی پڑھیئے: مرنے سے پہلے حج کرناچاہتی ہوں،عزت کی دعا دیں زندگی کی نہیں:عشرت فاطمہ