عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ بھی مشکل ہو گا، 28ویں ترمیم پر کوئی علم نہیں، بلاول بھٹو

May 14, 2026 | 19:44:PM
عوام مشکل میں ہیں، آئندہ بجٹ بھی مشکل ہو گا، 28ویں ترمیم پر کوئی علم نہیں، بلاول بھٹو
کیپشن: بلاول بھٹو پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئیر ارکان کے ساتھ پیڈیا کے نمائندوں کے سوالات کے جواب دے رہے ہیں۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز) پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین  بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے صوبوں کے لئے 26 ویں اور 27 ویں ترمیم میں حقوق لئے۔ ابھی تک 28 ویں ترمیم سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی،کل کیا ہو گا، اس کا  ابھی مجھےعلم نہیں۔ سپریم کورٹ اور آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی پیپلزپارٹی کی وجہ سے  ممکن ہوئی۔ پیپلز پارٹی کے بغیر کوئی ترمیم منظور ہو سکتی ہے نہ بجٹ منظور ہو سکتا ہے۔

چئیرمین بلاول بھٹو نے یہ باتیں آج پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو  کرتے ہوئے کہیں۔ 

بلاول بھٹو نے بتایا کہ آج این ایف سی کی ٹیکنیکل کمیٹی کی گفتگو ہوئی۔  آئینی ترمیم سے متعلق پیپلزپارٹی سے کوئی بات نہیں کی گئی۔

بلاول بھتو نے سوالات کے جواب میں کہا،  27 ویں ترمیم سے متعلق میں نے خود بات کی تھی۔

عوام مشکل میں ہیں

پیپلز پارٹی کے چئیرمین اور سابق وزیر خارجہ نے کہا، ملک کو مالی معاشی بحران کا سامنا ہے۔  پاکستان کے عوام مہنگائی کے بم گر رہے ہیں ۔ عوام مشکل میں ہیں۔ 

انہوں نے کہا،  سیاسی جماعتوں کو عوام کا دکھ محسوس ہوتا ہے۔  مشکل وقت میں وزیراعظم کے عوام کو ریلیف دینے کے اقدامات کو ویلکم کیا۔  پاکستان کے عوام مشکل میں ہیں۔ ہمیں عوام کو ریلیف دینا ہے۔ 

بلاول بھتو نے بتایا کہ  وزیر اعظم شہباز شریف نے صوبوں سے درخواست کی تھی کہ مہنگائی کے خاتمے میں وفاق کی مدد کریں۔  پٹرول سے متعلق موٹر سائیکل سواروں کو ریلیف دیا جارہا ہے۔  
وفاق اور صوبوں سے مل کر عوام کو ریلیف دینے کی کوشش کریں گے۔ 

سوالات کے جواب میں چئیرمین بلاول بھٹو نے کہا،  بھارت کے ساتھ جنگ اور  امریکہ ایران جنگ میں قومی ایشوز ہوتے ہیں۔ مشکل وقت میں ہم۔سب پاکستانی ایک ہو جاتے ہیں۔ 
 بلاول بھتو نے کہا، ہم حب الوطنی کی وجہ سے یکجہتی کا ہیغام دیتے ہیں۔

جنگ کے دوران میں فوج میں بھی نہیں تھا  اور وزرات خارجہ میں بھی نہیں تھا۔ میں نے بین الاقوامی میڈیا پر بھارت کے بیانیہ کو شکست دی۔  پاک بھارت جنگ کے بعد وزیراعظم نے امن کمیٹی کی سربراہی کی مجھے دی۔  

یہ بھی پرھیں: بارش برسانےوالے سسٹم کی انٹری، گرج چمک کیساتھ بارش اورژالہ باری کی پیش گوئی  

سوالات کے جواب میں بلاول بھٹو نے کہا، امریکہ ایران جنگ اور مذاکرات سے متعلق مجھے کوئی پیش کش نہیں کی گئی۔
 انہوں نے اسلام آباد مذاکرات کے متعلق سوالات کے جواب میں کہا،  وہ وقت دور نہیں ہے جب مذاکرات کامیاب ہوں گے۔   بلاول بھٹو  نے کہا،  ایران میں امن قائم کرنے کے وزیراعظم اور فلیڈ مارشل کوشش کر رہے ہیں۔ ہم خواہاں ہیں کہ ایران میں امن ہو ۔  وزیراعظم اور فلیڈ مارشل دنیا میں امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اٹھائیس ویں ترمیم، پر کوئی بات میرے سامنے نہیں آئی

اٹھائیس ویں آئینی ترمیم کے متعلق سوالات کے جواب میں چئیرمین بلاول نے کہا، ہم نے صوبوں کے لئے 26 ویں اور  27 ویں ترمیم میں حقوق لئے۔  سپریم کورٹ اور آئینی عدالت میں تمام صوبوں کی نمائندگی پیپلزپارٹی کی وجہ سے ہوا۔ ابھی تک 28 ویں ترمیم سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی،کل کیا ہو گا، یہ مجھے علم نہیں۔

انہوں نے کہا 28 ویں ترمیم پر ردعمل تب دونگا جب کوئی بات سامنے آئے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی سپورٹ کے بغیر  کوئی آئینی ترمیم  یا بجٹ پاس نہیں کرسکتے ، یہ ناممکن ہے

آنے والے بجٹ میں بھی مشکلات ہوں گی

چئیرمین بلاول بھٹو نے مزید کہا، معاشی مشکلات میں اضافہ نظر آرہا ہے، کمی نہیں  ہو رہی۔ آنے والے بجٹ میں بھی مشکلات ہوں ہوگی ۔

حکومت کو معاشی مشکلات کو دیکھ کر ریلیف کا فیصلہ کرنا ہوگا

بجٹ پر مشاورت کیلئے پیپلز پارٹی کی کمیٹی

پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے بجٹ مذاکرات پر پیپلزپارٹی کی چار رکنی ٹیم بنا دی ہے۔

اس مشاورتی اور مذاکراتی کمیٹی میں  سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف،سلیم مانڈی والا، محترمہ شیری رحمان اور نوید قمر  شامل ہیں۔ یہ چار سینئیر لوگ پیپلز پارٹی کی طرف سے  بجٹ سے متعلق حکومت سے بات چیت کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں عید الاضحیٰ کی چھٹیاں کب سے شروع ہوں گی؟ تاریخ سامنے آگئی