بینک کا قرضہ واپس نہ کرنیوالے ہوشیار، ترمیمی بل منظور

May 14, 2026 | 15:42:PM
 بینک کا قرضہ واپس نہ کرنیوالے ہوشیار، ترمیمی بل منظور
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز) فنانشل انسٹیٹیوشن ترمیمی بل 2026 کے تحت ڈیفالٹ کی صورت میں بینک قرض لینے والی کی پراپرٹی پر قبضہ کر سکیں گے۔

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے "فنانشل انسٹیٹیوشن ترمیمی بل 2026” کی منظوری دے دی۔

اس نئے قانون کے تحت بینکوں کو قرض نادہندگان کے خلاف انتہائی سخت کارروائی کے اختیارات دے دیے گئے ہیں، جس میں جائیداد پر قبضہ اور عوامی سطح پر نام کی تشہیر شامل ہے۔

ترمیمی بل کے مطابق، اگر کوئی شخص بینک سے لیا گیا قرض واپس نہیں کرتا تو بینک کو اختیار ہوگا کہ وہ ڈیفالٹ کی صورت میں قرض لینے والے کی پراپرٹی پر قبضہ کر سکے۔

بینک ڈیفالٹر کو براہِ راست قبضہ کرنے سے قبل 90 دنوں کے اندر تین نوٹسز ارسال کرنے کا پابند ہوگا۔

وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے واضح کیا کہ پراپرٹی پر قبضے کے لیے بینک حکومت کو باقاعدہ درخواست دے گا۔

بل میں ہاؤس فنانسنگ حاصل کرنے والوں کے لیے شرائط کو مزید سخت کر دیا گیا ہے، ہاؤس فنانسنگ کے تحت لی گئی پراپرٹی کو کسی تیسرے فریق کو کرایے پر دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔

ڈیفالٹ کرنے والے شخص (مارگیجر) کا نام اور گھر کا پتہ اخبار میں شائع کیا جائے گا۔