لندن کی لیبر پارٹی میں اپنے ہی وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے کشمکش

May 14, 2026 | 01:30:AM
لندن کی لیبر پارٹی میں اپنے ہی وزیراعظم کو ہٹانے کے لیے کشمکش
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)لندن میں برسرِ اقتدارلیبر پارٹی( Labour Party )کے اندر سیاسی کشمکش میں شدت آ گئی ہے، جہاں اپنے ہی وزیراعظم کیئر سٹارمر( Keir Starmer )کو ہٹانے کی کوششیں جاری ہیں، ایسے حالات میں کنگ چارلس( King Charles III) نے نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر حکومت کے مجوزہ قوانین اور پالیسی ترجیحات پیش کر دیں۔

رپورٹس کے مطابق روس یوکرین جنگ، امریکہ ایران کشیدگی، بڑھتی مہنگائی، لارڈ مینڈلسن کی بطور امریکی سفیر متنازع تعیناتی اور حالیہ انتخابات میں لیبر پارٹی کی شکست کے بعد وزیراعظم کیر اسٹارمر پر استعفے کے مطالبات میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اب تک 87 لیبر اراکین وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر چکے ہیں جبکہ 110 اراکین ان کی حمایت میں سامنے آ گئے ہیں۔ چار وزرا کے استعفوں کے باوجود تاحال کسی رہنما نے باضابطہ طور پر قیادت کو چیلنج نہیں کیا، تاہم ہیلتھ سیکریٹری ویس سٹریٹنگ( Wes Streeting) کے ممکنہ امیدوار کے طور پر سامنے آنے کی قیاس آرائیاں جاری ہیں۔

ویس اسٹریٹنگ نے وزیراعظم سے ڈاؤننگ اسٹریٹ میں ملاقات بھی کی، جس کے بعد انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر این ایچ ایس کی کارکردگی کا ذکر کیا۔ قیادت کے دیگر ممکنہ امیدواروں میں انجیلا ریانر( Angela Rayner )کا نام بھی لیا جا رہا ہے، جبکہ سابق لیبر رہنما ایڈ ملی بینڈ( Ed Miliband )نے قیادت کی دوڑ میں شامل ہونے کی خبروں کی تردید کی ہے۔

دوسری جانب لیبر پارٹی کو مالی معاونت فراہم کرنے والی 11 یونینز واضح کر چکی ہیں کہ کیر اسٹارمر آئندہ انتخابات میں پارٹی کی قیادت نہیں کریں گے، ادھر بادشاہ چارلس نے اپنے خطاب میں 35 نئے مجوزہ قوانین کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پولیس، این ایچ ایس اور کریمنل جسٹس سسٹم میں اصلاحات کی جائیں گی۔ انہوں نے اقتصادی ترقی کو عوام کے معیارِ زندگی میں بہتری سے مشروط قرار دیا۔

شاہ چارلس نے یورپ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے، ڈیجیٹل آئی ڈی سسٹم کے فروغ، مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام اور اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

انہوں نے اپنی تقریر میں دنیا کو’’خطرناک اور غیر مستحکم‘‘ قرار دیتے ہوئے خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ نئی قانون سازی کے ذریعے امیگریشن اور پناہ گزینوں کے نظام پر عوامی اعتماد بحال کرنے کے ساتھ جدید ریلوے نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستان کے مجموعی قرضے نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے