پنجاب حکومت ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ چوسنے والے مصنوعی درخت بنا لائی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) پنجاب کی حکومت سڑکوں پر آلودگی کم کرنے اور ہوا کو صحت مند رکھنے کے لئے کاربن ڈائی آکسائیڈ چوسنے والے مصنوعی درخت سڑکوں پر لے آئی۔ یہ درخت ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس جذب کر کے اس کی جگہ آکسیجن گیس ہوا میں چھوڑیں گے۔ ان کو لیکوئیڈ ٹری کہا جا رہا ہے۔
وزیراعلی مریم نواز شریف نے ماحول دوست صوبہ بنانے میں انقلابی پیش رفت کرنے پر ماحولیاتی تحفظ کے ادارے (ای پی اے)، محقیقین اور اس پروجیکٹ کی تمام ٹیم کو شاباش دی اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ انہوں نے پاکستان کا پہلا ای پی اے تصدیق شدہ ''لِیکوئڈ ٹری'' بنا لیا ہے۔
1987 سے اب تک پنجاب کی انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایجنسی نے یہ پہلی ٹیکنالوجی بنائی ہے جس کی متعلقہ اداروں نے تصدیق کی ہے۔
ٹیکنالوجی کو استعمال کر کے بنائے گئے سسٹم کو مصنوعی درخت کی صورت میں سڑکوں پر نصب کیا جائے گا۔ یہ سسٹم سڑکوں پر ہوا میN موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس کو جذب کرے گا۔ اس سٹم میں اے آئی بیسڈ کیلکولیٹر بھی نصب ہے جو بتاتا ہے کہ اس وقت کتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب ہو رہی ہے اور کتنی آکسیجن ہوا میں ریلیز ہو رہی ہے۔

وزیراعلی مریم نواز شریف کی آلودگی کے خاتمے کے لیے 'بائیو مصنوعی درخت' کی تیاری پر اپنے پیغام میں کہا کہ لیکوئڈ ٹری کا آزمائشی مرحلہ صوبہ پنجاب کے محقیقین، بائیو سائنٹسٹس اور ای پی اے کی تخلیقی صلاحیت، مہارت اور جذبے کا ثبوت ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے مصنوعی درخت منصوبے میں اہم کامیابی، جدید سائنسی تحقیق سے تیار کردہ 'لیکوئڈ ٹری' کے کامیاب تجربے کو وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور پہلے مرحلے میں لِیکوئڈ ٹریز'' کو بڑے مالز انڈور اور آؤٹ ڈور دونوں جگہوں پر لگایا جائے گا،یہ ٹیکنالوجی شہری علاقوں میں آلودگی کم کرنے کیلئے گیم چینجر ثابت ہو گی
یہ طریقہ شہروں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور سموگ کے خاتمے کا جدید ترین سائنسی طریقہ کار ہے،بڑے پلازوں، کمرشل ایریاز میں مصنوعی درخت اصلی درختوں کی طرح ماحول بہتر بنائیں گے