خیبر پختونخوامیں آٹے کا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے، پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)فلور ملز مالکان نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر پنجاب نے خیبر پختونخوا کو گندم اور آٹے کی ترسیل پر پابندی ختم نہ کی تو رمضان المبارک میں آٹےکا بحران شدت اختیار کر سکتا ہے ۔
صوبائی چیئرمین پاکستان فلور ملز ایوسی ایشن نعیم بٹ کاکہناہےکہ پنجاب نے گزشتہ سال اگست سے گندم اور آٹے کی ترسیل پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس وقت 20 کلو تھیلے کی قیمت 3 ہزار روپے تک پہنچ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب نے فوری پابندی ختم نہ کی تو رمضان المبارک میں آٹے اور گندم کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، رمضان المبارک تک آٹے کا تھیلا 4ہزار روپے تک پہنچنے کا امکان ہے، پنجاب پاکستان کی 75 فیصد گندم پیدا کرتا ہے۔
نعیم بٹ نے الزام لگایا کہ پنجاب سے آنے والے آٹے اور گندم کے لیے چیک پوسٹیں قائم کی ہوئی ہیں، خیبر پختونخوا میں آٹے کا 20 کلو تھیلا 3000 روپے کا فروخت ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:سنگل چارج پر 1058 میل تک بلارکے سفر کرنے والی گاڑی
انہوں نے وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ پنجاب اوروزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے مطالبہ کیا ہےکہ خیبر پختونخوا پر گندم اور آٹے کی ترسیل پر پابندی کا نوٹس لیا جائے اور فوری پابندی ختم کی جائے، پابندیاں لگا کر عوام کا معاشی قتل کیا جا رہا ہے۔
صوبائی چیئرمین پاکستان فلور ملز ایوسی ایشن کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے محکمہ خوراک نے بھی ابھی تک گندم ریلیز نہیں کی، گندم نہ ملنے کی وجہ سے خیبر پختونخوا کی فلور ملز بند ہو رہی ہیں اور اس سے وابستہ مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں، اگر بروقت پابندی نہ اٹھائی گئی تو خیبر پختونخوا میں آٹے کی قلت شدت اختیار کر سکتی ہے۔