اگر میں وہ کروں جو یہ چاہتے ہیں تو اسکا اتنا ڈیمیج ہوگا سوچ بھی نہیں سکتے، سہیل آفریدی کا انتباہ
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ارشاد قریشی) وزیر اعلیٰٰ کے پی کے سہیل آفریدی کو بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی ، فیکٹری ناکے سے واپس روانہ۔ سہیل آفریدی نے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ مجھ پر ایف آئی آر دی گئی ہے، میں اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ گیا تھا,اگر میں وہ کروں جو یہ چاہتے ہیں تو اسکا اتنا ڈیمیج ہوگا جو یہ سوچ بھی نہیں سکتے۔
تفصیلات کے مطابق وزیر اعلٰی کے پی سہیل آفریدی نےاڈیالہ جیل سے واپسی پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کو نقصان دینا نہیں چاہتا، زیادہ ڈمیج کرنا نہیں چاہتا ،میں اس ایف آئی آر کو واش کرنے کی طرف جاؤں گا،جہاں سے دہشت گرد داخل ہورہے ہیں ان کو وہیں روکا جائے ،دہشت گرد کا نہ قوم اور نہ کوئی مذہب ہوتا ہے، دہشت گرد کے لئےرعایت انسان اور ملک دشمنی ہے ،دہشت گردوں کے تانے بانے کسی بھی ملک سے ہوں ان کو سامنے لایا جائے، عبرت کا نشان بنایا جائے۔
ایک صحافی کا سوال پر کہ پختون امن جرگے میں قومی ترانے کے احترام میں نہ کھڑا ہونے والوں کی مذمت کریں گے ؟۔اس پر سہیل آفریدی نے جواب دیا کہ نہ میں جج ہوں کہ کسی کو صحیح غلط کہوں اور نہوکیل ہوں کے کسی کی وکالت کروں گا،ہال میں موجود تمام لوگ قومی ترانے کے حق میں کھڑے ہوئے اور یہ ہر پاکستانی کا فرض ہے کہ قومی ترانے اور ہاکستانی پرچم کا احترام کرے ۔ملک میں قانون اور آئین کا احترام کرنا چاہیئے۔اگر کسی کے تحفظات ہیں تو ان کو بھی سنا جائے، قومی ترانے کے احترام میں کھڑا نہ ہونا کسی کا ذاتی ذاتی عمل ہو سکتا ہے جرگے کا پیغام یہ نہیں تھا ایسی تمام حرکات جس سے پاکستان مخالف ہونے کی بو آئے وہ کسی کو بھی نہیں کرنا چائئے، جو کے پی کے میں امن لانا نہیں چاہتے جو کے پی کے کی عوام کو اینٹی اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں کچھ لوگ ایسے حالات بنانا چاہتے ہیں کہ کے پی کے میں خون کی ہولی ہو ہمیں کسی ایسے شخص کو موقع دینا نہیں چائیے،ہم محب وطن پاکستانی ہیں ،پاکستان کے آئین اور قانون کا احترام کرتے ہیں،جب سے پاکستان بنا ہے احترام کررہے ہیں کرتے رہیں گے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے مزید کہا کہ میں تو ان سے یہی کہوں گا کہ ملاقات نہ کرانے پر ضد کیوں لگائی ہے۔بانی ہمارا لیڈر ہے اگر انکی گائیڈنس ہوگی تو صوبہ مزید ترقی کرے گا۔اگر میں اپنے لیڈر سے ملنا چاہتا ہوں تو اسے کیا ہوگا۔میں نے بانی پی ٹی آئی سے کونسا ایٹمی راز ڈسکس کرنا ہے۔ہمارے سیکورٹی فورسز کو کمزور نہ سمجھا جائے۔ہماری فورسز کسی بھی طرح کے صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں فوج سرحدوں کی حفاظت کرے۔یہ کس نے بتایا میری کوآرڈنیشن نہیں، میں نے وزیراعظم سے درخواست کی تھی میری ملاقات کرائیں۔میں بانی پی ٹی آئی کی وجہ سے وزیراعلی ٰبنا ہوں۔خیبرپختونخواہ میں بانی پی ٹی آئی کو ووٹ ملا ہے۔صوبہ رکا ہوا نہیں صوبائی انتظامی معاملات دب کے چل رہے ہیں۔میں تمام قانونی و جمہوری راستے اختیار کررہا ہوں۔میں ایک جمہوری آدمی ہوں چاہتا ہوں جمہوری طریقے سے معاملات چلائے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں:سکیورٹی خدشات ، تعلیمی ادارے 16 نومبر تک بند رکھنے کا اعلان