ایران امریکہ جنگ بندی؛  اہم  معاہدے  کی دستاویز پر " ڈیجیٹل دستخط" کیوں ہوں گے؟ حقائق سامنے آگئے

Jun 13, 2026 | 21:08:PM
 ایران امریکہ جنگ بندی؛  اہم  معاہدے  کی دستاویز پر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)    جنیوا میں پاکستان کے وفد کیلئے ہوٹیل میں بکنگ کی جا رہی تھی کہ اس دوران ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے جمعہ کی شب  ایک تقریر کےدوران اعلان کیا کہ امریکہ سے معاہدہ پر "ڈیجیٹل" اور "ریموٹلی" دستخط کیے جائیں گے۔  اب یہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ اس اہم  معاہدے  کی دستاویز پر " ڈیجیٹل دستخط" کیوں ہوں گے۔ ابتدا میں صدر ٹرمپ نے خود یہ بتایا تھا کہ جنیوا میں معاہدہ پر دستخط ہوں گے اور وہ خود نہیں جائیں گے البتہ جے ڈی وینس معاہدہ پر دستخط کرنے کے لئے جائیں گے۔

مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والے ایک سفارتی ذریعے نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کے وفود کے لیے جنیوا میں تمام تر انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی تھی کیونکہ یہ دستخط دونوں ملکوں کے سینئیر ترین نمائندوں کو ذاتی حیثیت میں کرنا تھے۔

 سفارتی ذرائع سے سامنے آنے والی معلومات کے مطابق معاہدہ پر دستخط کی تقریب میں جا کر دستخط کرنے سے انکار ایران کی طرف سے آیا۔ ایران میں پالیسی ساز ادارے آخری لمحات میں اس نتیجے پر پہنچے کہ کسی رہنما کو دستخط کرنے کے لئے جنیوا بھیجنے کی بجائے ڈیجیٹل دستخط کر کے معاہدہ کیا جائے۔

معاہدہ اسلام آباد میں ہو رہا ہوتا تو کیا ہوتا؟ 

 سفارتی ذرائع نے بتایا اگر معاہدہ  جنیوا کی بجائے پاکستان میں کیا جا رہا ہوتا تو دونوں فریقوں کے نمائندے اسلام آباد آ کر دستخط کرتے۔   اسلام آباد میں انتظامیہ امریکہ اور ایران کے وفود کی سکیورٹی اور ان کو ٹھہرانے کے انتظامات کے متعلق ابتدائی پلاننگ کر رہی تھی۔  اچانک صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ  میمورنڈم آف اندرسٹینڈنگ کسی یورپی ملک میں سائن ہو گا اور وہ خود دستخط کرنے نہیں جائیں گے بلکہ نائن صدر جے ڈی وینس کو بھیجیں گے۔ اس سے پہلے  صدر ٹرمپ نکے حوالے سے یہ ہی قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ معاہدہ پر دستخط کرنے کے لئے ممکن ہے کہ وہ خود اسلام آباد جائیں۔

ایران کی جانب سے جو  وجوہات بیان کی جا رہی ہیں وہ سکیورٹی سے متعلق ہیں۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ تہران سے جنیوا تک طویل فضائی سفر کے دوران ایرانی وفد کی سکیورٹی یقینی بنانے پرسنگین سوالیہ نشانات تھے۔

 اس کے ساتھ یہ کہا جا رہا ہے کہ دراصل ایران امریکہ کسی صورت بھی اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں۔

اسرائیلی سبوتاژ کا خطرہ

ایران میں اعلیٰ سطح پریہ خدشات بھی تھے کہ کہیں وفد کے اس فضائی سفر کےدوران اسرائیل کی جانب سے سبُو تاژ کا کوئی واقعہ پیش نہ آئے۔ اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل امریکہ اور ایران کے معاہدہ سے مکمل الگ ہے لیکن اس کے ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل اس معاہدہ کو قبول کر رہا ہے۔

غیر معمولی توجہ کا مرکز

ایک رائے یہ بھی سامنے آ رہی ہے کہ ایران میں سخت گیر پاسداران کے حامی  یہ چاہتے ہیں کہ ایران کی قیادت امریکہ کی قیادت کے ساتھ براہ راست ملاقات سے دور رہے۔ ایک قیاس آرائی یہ کی جا رہی ہے کہ تہران میں اب تک یہ واضح نہیں کہ طاقت کے ڈھانچے میں کون کیا ہے۔ معاہدہ پر دستخط کے لئے جس کو بھی جنیوا بھیجا جاتا وہ بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ ایران کے اندر بھی غیر معمولی توجہ کا مرکز بن جاتا۔

اس سوال پر کہ یہ صورتحال تو پہلے سے موجود تھی تو پھر جنیوا میں معاہدے پر دستخط کیلئے آمادگی ظاہر کیوں کی گئی کیونکہ خود امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلان کرچکے تھے کہ وہ نائب صدر جے ڈی وینس کو ڈیل کیلئے یورپ بھیج رہے ہیں؟

بے اعتمادی اور ایم او یو کے بعد امریکہ اقدامات کا انتظار

سفارتی ذریعے نے امریکہ کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں پر کی گئی حالیہ بمباری کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ بداعتمادی اس حد تک ہے کہ ایران کو سو فی صد یقین ہی نہیں تھا کہ معاملہ یہاں تک بھی پہنچےگا۔

 جنگ کے آغاز  میں ایران میں اہم ترین لیڈروں کے اجلاس کو نشانہ بنائے جانے سے کیے جانے کے سبب ایران میں بعض احتیاطی تدابیر پرسختی سے عمل کیا جارہا ہے، اس لیے بالکل آخری لمحات پر تمام صورتحال پر اعلیٰ ترین سطح پر غور وخوض کیا گیا اور پھرریموٹلی ڈیجیٹل دستخط پر آمادگی ظاہر کی گئی۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل دستخط کی تجویز پیش کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آبنائے ہرمز میں امریکہ کے جنگی جہاز تاحال موجود ہیں، ایران کو خدشہ ہے کہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود یہ جہاز اگر واپس نہ گئے تو فٹبال ورلڈکپ کے فورا بعد جنگ کے بادل پھر گہرے ہوسکتےہیں، اس لیے ذاتی حیثیت میں جنیوا آکر امن معاہدے پر دستخط سے ایک درجہ کم کا درجہ قائم کیا جانا چاہیے۔

مصدقہ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بطور ثالث پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفد کو بھی اس موقع پر موجود ہونا تھاجس کی تیاریاں مکمل تھیں۔

پاکستانی وفد کیلئے جنیوا کے ہوٹل میں بکنگ کی جا رہی تھی

جنیوا میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سفارتی وفد کیلئے ہوٹل کی بکنگ شروع کردی گئی تھی۔ اچانک ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے طویل انٹرویو دیا جس میں انہوں نے واضح کیا کہ دستخط کی تقریب ڈیجیٹلی اور ریموٹلی کی جائے گی جس پر تمام ترصورتحال بدل گئی۔

مشرق وسطیٰ سےتعلق رکھنے والے سفارتی ذرائع نے کہا کہ ایران میں بااثرحلقوں کا خیال ہے کہ اگر آئندہ چندروز میں ریموٹلی طے پانیوالے معاہدے پر پوری طرح عمل کیا گیا توبالمشافہ مذاکرات ہوں گے اور حتمی معاہدے پر ایران ذاتی حیثیت میں دستخط پر تیار ہوگا۔