کیا سٹیج صرف اداکاراؤں کے احتساب کے لیے رہ گیا ہے؟

  از: زین مدنی حسینی 

Feb 13, 2026 | 15:40:PM
کیا سٹیج صرف اداکاراؤں کے احتساب کے لیے رہ گیا ہے؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

پنجاب کی تھیٹر انڈسٹری ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ اس بار معاملہ معروف اداکارہ خوشبو خان کو سٹیج مانیٹرنگ ٹیم کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس کا ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی کارروائی لگتی ہے، لیکن جب اس کے پس منظر اور اداکارہ کے موقف کو دیکھا جائے تو یہ معاملہ محض ایک نوٹس تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے تھیٹر سسٹم، احتساب کے معیار اور دوہرے رویوں پر سوالیہ نشان بن جاتا ہے۔
خوشبو خان نے اپنے ویڈیو بیان میں جس انداز سے اپنا مؤقف پیش کیا، وہ محض ایک وضاحت نہیں بلکہ تھیٹر انڈسٹری کے اندر چلنے والے غیر متوازن احتساب کی عکاسی بھی ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا اسٹیج مانیٹرنگ کا نظام واقعی اصلاح کے لیے ہے یا پھر مخصوص چہروں کو نشانہ بنانے کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے؟۔تھیٹر کوئی نئی صنعت نہیں۔ دہائیوں سے یہ عوامی تفریح کا بڑا ذریعہ رہا ہے۔

 مگر وقت کے ساتھ ساتھ اسٹیج پر پیش کیے جانے والے مواد پر تنقید بھی بڑھتی گئی۔ غیر اخلاقی رقص، جملے بازی اور سطحی مزاح کو بنیاد بنا کر اکثر اداکاراؤں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جبکہ پروڈیوسرز، ہدایتکار اور اسکرپٹ رائٹر اکثر اس بحث سے باہر رہتے ہیں۔

 کیا یہ انصاف ہے کہ پورے نظام کی خرابی کا بوجھ صرف ایک اداکارہ کے کندھوں پر ڈال دیا جائے؟اگر کسی پرفارمنس میں حدود سے تجاوز ہوا ہے تو سوال صرف اداکارہ سے کیوں؟ کیا اسکرپٹ کی منظوری دینے والے، شو کی نگرانی کرنے والے اور ٹکٹ بیچنے والے سب بری الذمہ ہیں؟ مانیٹرنگ ٹیم اگر واقعی اصلاح چاہتی ہے تو پھر احتساب کا دائرہ سب کے لیےیکساں ہونا چاہیے۔
خوشبو خان کا مؤقف دراصل اس بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ تھیٹر انڈسٹری کو واضح پالیسی، تربیت اور رہنمائی کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف نوٹسز اور پابندیوں کی۔ اگر کسی فنکار کو دیوار سے لگا دیا جائے تو اس سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ ردِعمل اور تلخی بڑھے گی۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ اسٹیج پر پیش ہونے والا مواد معاشرتی اقدار سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔ لیکن اصلاح کا طریقہ تضحیک یا یکطرفہ کارروائی نہیں بلکہ مکالمہ ہونا چاہیے۔ فنکاروں کو اعتماد میں لیا جائے، انہیں واضح گائیڈ لائنز دی جائیں اور سب کے لیے ایک جیسا معیار مقرر کیا جائے۔

آج خوشبو خان کا نام ہے، کل کسی اور اداکارہ کا ہوگا۔ اگر سسٹم میں شفافیت نہ آئی تو تنازعات کا یہ سلسلہ رکے گا نہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ تھیٹر کو بند گلی میں دھکیلنے کے بجائے اسے باوقار تفریح کا ذریعہ بنایا جائے۔ مانیٹرنگ ہو، مگر منصفانہ ہو۔ احتساب ہو، مگر سب کا ہو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ فنکار کو مجرم بنانے کے بجائے اسے نظام کا حصہ سمجھا جائے۔کیونکہ جب اسٹیج کمزور ہوگا تو صرف ایک اداکارہ نہیں، پوری انڈسٹری نقصان اٹھائے گی۔