دسمبر میں اسٹیٹ بینک ذخائر 15.50 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ، مانیٹری پالیسی رپورٹ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(اشرف خان)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مانیٹری پالیسی رپورٹ جاری کردی،دسمبر 2025 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کےذخائر 15.50 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے،انٹربینک سے ڈالر کی خریداری کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کےذخائر بڑھانے میں مدد ملے گی ،ترسیلات زر میں متوقع اضافے کے باوجود مالی سال 26 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کا ایک فیصد ہوجائے گا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک اب ہر مانیٹری پالیسی کے 15 روز پر تفصیلی رپورٹ جاری کرے گا ،یہ رپورٹ اُس اہم معاشی پیش رفت اور اقتصادی منظرنامے کا خاکہ بیان کرتی ہے۔جون اور جولائی کی مانیٹری پالیسی میں شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھا تھا ۔کمیٹی نے توقع ظاہر کی ہے کہ حقیقی پالیسی ریٹ مہنگائی کو ہدف کے اندر مستحکم رکھنے میں مثبت رہے گا ،بیرونی کھاتے کے حوالے سے ایم پی آر میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ تجارتی خسارہ مزید بڑھے گا۔ترسیلات زر میں متوقع اضافے کے باوجود مالی سال 26 میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ جی ڈی پی کا ایک فیصد ہوجائے گا،انٹربینک سے ڈالر کی خریداری کی وجہ سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھانے میں مدد ملے گی ،دسمبر 2025 کے اختتام تک اسٹیٹ بینک کےذخائر 15.50 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے ،معاشی سرگرمی میں مزید اضافہ متوقع ہے،پالیسی ریٹ میں سابقہ کمی کے اثرات اب بھی مرحلہ وار ظاہر ہو رہے ہیں۔ مالی سال 26 میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کا اندازہ ہے ،زرعی پالیسی رپورٹ میں بنیادی اقتصادی منظر نامے کے لیے ممکنہ بیرونی اور داخلی خطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔پالیسی ریٹ 11 فیصد کم کرنے کے اثرات پر فوکس کیا گیا ،ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں میں اہم مرکزی بینکوں کے فیصلوں پر بھی نظر ڈالی گئی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی افریقن بیٹسمین ڈیوالڈ بریوس نے نئے ریکارڈ قائم کر دیئے