جشن آزادی اورکشمیری عوام کا پاکستان سے لازوال تعلق
تحریر : سفیر رضا چغتائی
Stay tuned with 24 News HD Android App
شام کی ٹھنڈی ہوا میں مظفرآباد کی نیلم روڈ پر زندگی اپنی پوری رونق کے ساتھ رواں تھی ،چہلہ پل کے قریب چائے کے ایک ڈھابے کے سامنے چند بچے کھڑے تھے، ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم اور آنکھوں میں خواب ایک ننھا سا لڑکا جس کی پیشانی پر پاکستان کا سٹیکر چمک رہا تھا، فخر سے بولا’’اس بار میں سب سے بڑا پرچم لہراؤں گا تاکہ سب جان لیں کہ میرا دل پاکستان کے ساتھ ہے“۔
یہ جملہ سن کر قریب کھڑے بزرگ کی آنکھیں نم ہو گئیں،وہ جانتا تھا کہ یہ صرف بچوں کا کھیل نہیں بلکہ ایک عہد ہے جو کشمیری نسل در نسل پاکستان کے ساتھ نبھاتے آ رہے ہیں،ایک ایساایسا عہد جو وادی کیاس پار بھارتی سنگینوں کے سائے میں ہونے والا ظلم توڑ سکا نہ،آزدخطہ میں اس عہد پر کبھی کوئی آنچ آئی، اس عہد میں وقت کے ساتھ کوئی دراڑ آئی نہ فاصلے اس کو مٹا سکے۔
مظفرآباد کے مین بازار، مدینہ مارکیٹ، پرانا ہسپتال ، کچہری روڈ،بینک روڈ،سی ایم ایچ روڈ اور لال چوک اس وقت سبز اور سفید رنگ میں رنگے ہوئے ہیں،سڑ ک کے اطراف، گھروں،دکانوں،گاڑیوں پہ سبز ہلالی پرچم لہرا رہے ہیں،مختلف مقامات پرسٹالز سجے ہوئے ہیں،جھنڈیاں، بیجز، کاغذی ٹوپیاں، چھوٹے بڑے پرچم، حتیٰ کہ گھروں کی بالکونیاں اور گاڑیوں کے شیشے بھی سبز ہلالی پرچم سے مزین ہیں،ہر چہرے پر مسکراہٹ اور ہر دل میں ولولہ ہے،یہ منظر صرف ایک تہوار کا حصہ نہیں بلکہ پاکستان اور کشمیری عوام کے لازوال اور اٹوٹ رشتے کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔
یہی رشتہ گزشتہ مئی میں ایک نئے انداز میں اس وقت ابھرا جب پاکستان کی مسلح افواج نے”آپریشن بنیانِ مرصوص“ میں ایک شاندار عسکری کامیابی حاصل کی،یہ صرف ایک فوجی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک اعلان تھا کہ پاکستان کی سرزمین اور خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں،فیلڈ مارشل جنرل سید عاصم منیر کی مدبرانہ اور دور اندیش قیادت نے اس آپریشن کو ایک عسکری بلکہ نظریاتی اور اسٹریٹیجک کامیابی میں بدل دیا،انہوں نے دشمن کے عزائم کو بخوبی بھانپ کر ایسا منصوبہ تیار کیا جس نے میدانِ جنگ میں پاکستان کو برتری دلائی اور عالمی سطح پر بھی پاکستان کا وقار بلند کیا،پاک فضائیہ کے شاہین جب دشمن کی فضاؤں میں اترے تو ہر حملہ دشمن کے غرور کو خاک میں ملا رہا تھا۔
دشمن کے ریڈار پلک جھپکتے میں خاموش ہوئے، کمانڈ سینٹر مفلوج ہو گئے، اسلحہ ڈپو شعلوں میں لپٹ کر مٹی کا ڈھیر بن گئے۔ زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائلوں نے یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت ہر سطح پر تیار ہے،یہ خبر جب وادیءِکشمیر کے کچے راستوں، سبز وادیوں اور برف پوش پہاڑوں کے پار پہنچی، تو برسوں سے دبے حوصلے ایک بار پھر زندہ ہو گئے۔
سرینگر کی گلیوں میں آزادی کے نعرے بلند ہوئے، نوجوانوں نے پاکستانی پرچم اٹھا کر سڑکوں پر مارچ کیا، اور ماؤں نے دعاؤں میں ہاتھ بلند کر کے اپنے بیٹوں کے محفوظ اور روشن مستقبل کی دعا کی،بزرگوں کی آنکھوں میں وہی پرانا خواب چمکنے لگا کہ ضرور وہ وقت قریب ہے کہ اب سرینگر کے لال چوک میں سبز ہلالی پرچم کا سایہ ہوگا۔
پاکستان کی مسلح افواج اور کشمیری عوام کا رشتہ محض ہمدردی پر نہیں بلکہ قربانی، ایمان اور مشترکہ خواب پر قائم ہے،برفانی چوٹیوں پر پہرہ دیتے جوان ہوں یا وادی کے گلی کوچوں میں جدوجہد کرنے والے نوجوان‘ان کا مقصد ایک ہے‘ کشمیر کی مکمل آزادی اور تکمیل پاکستان،یہی وجہ ہے کہ ”آپریشن بنیانِ مرصوص“صرف عسکری برتری نہیں بلکہ ایک نظریاتی پیغام بھی تھاکہ پاکستان اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر چیلنج کا سامنا کرنے کو تیار ہےتاہم اس خواب کی تکمیل کیلئے ضروری ہے کہ ہم بطور قوم اپنی صفوں کو مضبوط کریں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دشمن کی سب سے بڑی امید ہماری اندرونی کمزوری ہے جو لوگ ذاتی مفاد، تعصب یا بیرونی ایجنڈے کے تحت ریاست میں انتشار پھیلاتے ہیں وہ دراصل دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتے ہیں،کشمیری عوام کا پیغام بالکل واضح ہے کہ ہم ایسے عناصر کو مسترد کرتے ہیں جو ہماری یکجہتی کو نقصان پہنچاتے ہیں،آج ہر ذی شعور شہری کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں گے، اختلاف کو دشمن کے لیے ہتھیار نہیں بننے دیں گے اور ہر اندرونی چیلنج میں اپنے ملکی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی سالمیت اور نظریاتی سرحدوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اگر دشمن نے دوبارہ جارحیت کی کوشش کی تو جواب ایسا ہوگا جو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا،آج آزاد کشمیر کے بازاروں میں سبز ہلالی پرچموں کی بہار ہے، کل وہ دن ضرور آئے گا جب سرینگر کے لال چوک میں یہی پرچم پوری شان سے لہرائے گا، یہ سفر چاہے کٹھن اور قربانیوں سے بھرا ہو مگر اس کا انجام روشنی ہے،وہ روشنی جو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کے ساتھ کشمیر کی فضاؤں میں چمکے گی۔
یہ رشتہ خون سے لکھا گیا ہے، ایمان سے مضبوط کیا گیا ہے اور یہ قیامت تک قائم رہے گا۔ ایک دن آئے گا جب سرینگر کے لال چوک میں پاکستان کا قومی ترانہ گونجے گا اور دنیا گواہی دے گی کہ پاکستان اور کشمیر ایک تھے، ایک ہیں اور ایک رہیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: سینیٹر ایمل ولی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات،اے پی سی میں شرکت کی دعوت دی