پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ممبران نے قیادت کو آڑے ہاتھوں لے لیا
متعدد اراکین کی قومی اسمبلی اجلاس سے بائیکاٹ کی مخالفت ،اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(طیب سیف)پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں ممبران نے قیادت کو آڑے ہاتھوں لے لیا ،متعدد اراکین پارلیمنٹ نےقومی اسمبلی اجلاس سے بائیکاٹ کی مخالفت کردی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کو بااختیار بنانے کا بھی مطالبہ کیاگیا،حکومت سے مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں ؟پارلیمانی کمیٹی ایک نقطے پر اکٹھی نا ہو سکی ،حکومت سے مذاکرات کو بھی بانی تحریک انصاف کی اجازت سے مشروط کر دیا گیا ، کئی رہنما پارلیمانی پارٹی اجلاس چھوڑ کر باہر آگئے۔
اجلاس کے دوران اقبال آفریدی عامر ڈوگر سے بھی الجھ پڑے ،اقبال آفریدی نے باجوڑ آپریشن پر بات کرنے کی کوشش کی تو عامر ڈوگر نے روک دیا جس پر اقبال آفریدی نے عامر ڈوگر کے لیے سخت الفاظ کا استعمال کیا ،باقی اراکین نے دونوں کے درمیان بیچ بچاؤ کرایا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران اراکین کی رائے تھی کہ پارلیمانی پارٹی مضبوط ہو اور اس کے فیصلوں پر عمل درآمد کروایا جائے ،بعض ارکان کی رائے تھی کہجب نواز شریف جیل میں تھے تو ن لیگ نے بھی اپنے فیصلے خود کیے تھے ۔
یہ بھی پڑھیں:پرائیویٹ سکولوں کی فیسوں میں اضافے کا اقدام لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج
پی ٹی آئی ایم این ایزنے اجلاس کے دوران کہاکہ ہمیں قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت ضرور کرنی چاہیے ،ذرائع کے مطابق کئی رہنما پارلیمانی پارٹی اجلاس چھوڑ کر باہر آگئے، ایم این ایز نے اس موقع پر شکوہ کیاکہ ہم نے بل پر محنت کی ہے، جب بھی ہمارا بل پیش کرنے کا وقت آتا ہے آپ بائیکاٹ کرلیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے کئی ایم این ایز کے قیادت پر کمپرومائز ہونے کے الزامات ہیں،ایم این ایزنے قیادت سے سوالات کئے کہ بتایا جائے 14 اگست کیلئے کیا حکمت عملی بنائی گئی ہے؟ ،5 اگست کو جب اپنے اپنے حلقوں میں احتجاج کا فیصلہ ہوا تو اڈیالہ جانے کا کس نے کہا؟ ہمیں کنفیوژ کیوں کیا جارہا ہے؟
پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں اقبال آفریدی اور ساجد مہمند کے درمیان لڑائی بھی ہوئی۔