ایران کا گوگل سمیت کئی امریکی،اسرائیلی کمپنیوں،بینکوں کو نشانہ بنانے کا اعلان، فہرست جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ایران نے عالمی اسرائیلی اور امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی فہرست جاری کرکے ان کے ریجنل ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنانے کا اعلان کر دیا۔
تفصیلات کے مطابق ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خطے میں موجود امریکہ اور اسرائیل سے وابستہ اقتصادی مراکز اور بینکوں کو نشانہ بنانے کی کھلی دھمکی دے دی ہے۔
یہ بیان تہران میں ایک بینک پر ہونے والے حالیہ اسرائیلی حملے کے ردعمل میں سامنے آیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابو الفضل شکارجی نے خبردار کیا ایرانی بندرگاہوں اوراقتصادی مراکز پر حملے کےخلاف جوابی کارروائیں کریں گے، ہماری بندرگاہوں پرحملے ہوئےتوخطے کے دیگر تمام اقتصادی مراکز پر ہمارے حملے جائز ہوں گے۔
ایرانی کارروائیاں پہلے سے زیادہ شدید اور بھاری ہوں گی ، سینٹ کام کے دعوے جھوٹے ہیں، ایرانی فوج شہری،اقتصادی مراکز میں نہیں چھپی، سینٹ کام کے دعوے بہانہ ہیں تاکہ ایران کے اقتصادی مراکز کو نشانہ بنایا جا سکے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ‘تسنیم’ نے ان امریکی کمپنیوں اور انفراسٹرکچر کی ایک فہرست جاری کی ہے جن کے اسرائیل کے ساتھ لنکس ہیں اور جن کی ٹیکنالوجی فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہو رہی ہے،ان کمپنیوں کو ایران کے "نئے اہداف” قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارت میں انسانیت سوز واقعہ: ہندو انتہاپسندوں نے مسلمان خاتون کو کھمبے سے باندھ کر قتل کردیا
جن میں گوگل (Google) ، مائیکروسافٹ (Microsoft) ، پالانٹیر (Palantir) ، آئی بی ایم (IBM) ، این ویڈیا (Nvidia) ، اوریکل (Oracle) شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں کے کلاؤڈ بیسڈ سروسز کے دفاتر اور انفراسٹرکچر جو اسرائیل اور بعض خلیجی ممالک میں واقع ہیں، اب ایران کے جائز اہداف کی فہرست میں شامل ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق 28 فروری کو جنگ کے آغاز سے اب تک امریکی اور اسرائیلی حملوں میں اب تک 1,300 سے زائد عام شہری جاں بحق ہو چکے ہیں۔
ایران کا دعویٰ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ملک بھر میں تقریباً 10,000 شہری مقامات کو بمباری کا نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری براڈکاسٹر نے تہران میں بینک کی ایک شاخ پر رات گئے ہونے والے اسرائیلی حملے کو "جنگ میں ایک غیر قانونی اور غیر معمولی فعل” قرار دیا ہے، ایران کا موقف ہے کہ جب دشمن نے بینکوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے، تو اب ان کے معاشی مراکز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔