انڈونیشیا میں حکومت مخالف مظاہرے” طلبہ نے ملک کو دیوالیہ کی طرف بڑھتا ہوا“ قرار دے دیا

Jun 12, 2026 | 19:27:PM
انڈونیشیا میں حکومت مخالف مظاہرے” طلبہ نے ملک کو دیوالیہ کی طرف بڑھتا ہوا“ قرار دے دیا
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں سینکڑوں طلبہ نے صدر پرابوو سبیانتو کی حکومت کی پالیسیوں اور حالیہ پیٹرول قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے حکومت کے اخراجاتی فیصلوں پر تنقید کرتے ہوئے اسے “Heading to Bankrupt Indonesia” کا نام دیا اور کہا کہ ملک غلط معاشی سمت میں جا رہا ہے،طلبہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے سبسڈیز میں تبدیلی اور بڑھتے ہوئے مالی دباؤ کے باعث حالیہ دنوں میں ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے،مظاہرین نے بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر “فیول پرائس ہائیک واپس لو” اور حکومتی اخراجات کو “غیر ضروری” قرار دینے جیسے نعرے درج تھے۔

طلبہ رہنما کے مطابق احتجاج کے پانچ بنیادی مطالبات ہیں جن میں حکومت کے مفت خوراک پروگرام اور دیہی کوآپریٹو منصوبوں کو ختم کرنا، ایندھن اور بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی اور “غیر ضروری اخراجات” کا خاتمہ شامل ہے۔

ایک طالب علم نے کہا کہ غیر مؤثر اخراجات اور سبسڈیز میں کمی نے ملک کی مالی صورتحال کو مزید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

دوسری جانب حکومتی ترجمان نے کہا ہے کہ احتجاج جمہوری حق ہے اور حکومت عوامی رائے کو سنتی ہے،ان کے مطابق حکومت نے غیر ضروری اخراجات کم کیے ہیں اور مفت خوراک پروگرام کا مقصد عوامی صحت کا تحفظ ہے۔

مظاہرے کے دوران پولیس اور فوج کی بھاری نفری تعینات رہی، جبکہ بعض مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں : سینٹ کیلئے مختص بجٹ میں 61کروڑ 54لاکھ روپے کا اضافہ