سدابہارنغمات کے خالق سیف الدین سیف کوبچھڑے33 برس بیت گئے
بطورنغمہ نگارسب سے زیادہ شہرت فلم ’’گمنام‘‘کے گیت’’تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے‘‘سے ملی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ایم وقار)متعددسدابہارنغمات کے خالق نامورفلمی شاعرسیف الدین سیف کومداحوں سے بچھڑے33 برس بیت گئے لیکن ان کے تخلیق کردہ نغموںکی گونج کانوں میں گونجتی رہے گی۔
20 مارچ 1922ء کو امرتسر کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہونے والے سیف الدین سیف نے ابتدائی تعلیم امرتسر سے حاصل کی،ان کے آبائواجداد کشمیر سے ہجرت کرکے امرتسر میں آباد ہوئے تھے،سیف الدین سیف کابچپن امرتسرکی گلیوں میں گزرا،ابتدائی تعلیم مسلم ہائی اسکول امرتسر سے حاصل کی،میٹرک کے بعد ایم اے او کالج امرتسر میں داخل ہوگئے،شاعری سے لگاؤشروع سے ہی تھا اورکالج کے زمانے میں ہی بہت سی عمدہ غزلیں کہیں،قیام پاکستان کے بعدہجرت کرکے لاہورآگئے اورفلمی دُنیاسے وابستہ ہوکرفلمی کہانیاں لکھنے لگے۔
فلم’’تیری یاد‘‘آزادی سے پہلے بننا شروع ہوئی تھی اور1948ء میں پاکستان میں ریلیز ہوئی جس کے نغمات سیف الدین سیف نے تحریر کئے تھے،اس کے بعد1949ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’’ہچکولے‘‘کے نغمات لکھے لیکن زیادہ شُہرت 1953 میں ریلیز ہونیوالی’’غلام‘‘اور’’محبوبہ‘‘کے نغموں سے ملی۔
سیف الدین سیف نے 1954ء میں ذاتی ادارہ’’راہ نما فلمز‘‘ قائم کیاجس کے بینرتلے پہلی فلم’’رات کی بات‘‘ بنائی جو فلاپ ہوگئی تاہم1957ء میں ریلیز ہونیوالی فلم ’’سات لاکھ‘‘پاکستان کی کامیاب ترین فلموں میں شامل ہوئی،1959ء میں ایک اور فلم ’’کرتار سنگھ‘‘بنائی جس کے ڈائریکٹر،پروڈیوسر،کہانی نگار اورنغمہ نگار وہ تھے۔
انہیں بطورنغمہ نگارسب سے زیادہ شہرت فلم ’’گمنام‘‘کے گیت’’تو لاکھ چلے ری گوری تھم تھم کے‘‘سے ملی جسے اقبال بانو نے گایا تھا،اس کے علاوہ ہچکولے،امانت،نویلی دلہن،غلام،محبوبہ،آغوش،آنکھ کا نشہ،سات لاکھ،طوفان،قاتل،انتقام،لخت جگر،اُمراؤ جان ادا،ثریا بھوپالی،عذرا،تہذیب،انارکلی،انجمن اورشمع پروانہ جیسی فلموں کیلئے نغمے بھی لکھے۔
سیف الدین سیف کے لکھے ہوئے مقبول نغموں کی ایک طویل فہرست ہے جن میں جلتے ہیں ارمان میرا دل روتا ہے(انارکلی)،وہ خواب سہانا ٹوٹ گیا اُمید گئی ارمان گئے(لختِ جگر)،چل ہٹ ری ہوا گھونگھٹ نہ اُٹھا (مادروطن)،جس طرف آنکھ اُٹھاؤں تیری تصویراں ہیں(ثریا بھوپالی)،میں تیرا شہرچھوڑ جاؤں گا(شمع اور پروانہ)،اظہار بھی مشکل ہے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے(انجمن)، جو بچا تھا لٹانے کے لیے آئے ہیں(اُمراؤ جان ادا)،آئے موسم رنگیلے سہانے تو چھٹی لے کے آجا بالما (سات لاکھ)جیسے نغمے شامل ہیں جن کی گونج ہمیشہ ہمارے کانوں میں گونجتی رہے گی۔
یہ بھی پڑھیں:بالی ووڈ سٹار سلمان خان نے ممبئی میں فلیٹ 3 کروڑ روپے میں فروخت کر دیا
انہوں نے فلمی دُنیا میں رہنے کے باوجود ادب سے رابطہ برقراررکھا اور نظمیں اورغزلیں بھی تخلیق کرتے رہے،ان کی شاعری کے مجموعہ کلام میں خم کاکل،کف گل فروش اور دور دراز شامل ہیں،فلمی نغموں کے علاوہ ان کی غزلیں مختلف گلوکاروں نے گائیں جن میں اُستاد امانت علی خان اوراُستاد نصرت فتح علی خان نمایاں ہیں۔وہ 12 جولائی1993ء کولاہورمیں انتقال کرگئے تھے اورماڈل ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔