مس انفارمیشن موجودہ دور کا سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے:عطا تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مس انفارمیشن موجودہ دور کا سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے، سول سوسائٹی کو کردار ادا کرنا ہوگا

Jan 12, 2026 | 18:18:PM
مس انفارمیشن موجودہ دور کا سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے:عطا تارڑ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(خورشید رحمانی)وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ مس انفارمیشن موجودہ دور کا سب سے بڑا اور سنگین چیلنج ہے،اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے حکومت، میڈیا، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی کو کردار ادا کرنا ہوگا۔

انھوں نے آئی بی اے کراچی کے زیر اہتمام ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے فروغ کے بعد غلط معلومات سے نمٹنا مزید مشکل ہو گیا ہے،بطور وزیر اطلاعات اس چیلنج کے تدارک کے لئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں،پاکستان کے پہلے ڈیجیٹل کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہے جو وزارت اطلاعات کا ملحقہ ادارہ ہے۔

 وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزارت کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے معلومات کی تصدیق کی جاتی ہے،جعلی خبروں کو باقاعدہ طور پر فیک انفارمیشن کا لیبل لگایا جاتا ہے،آئی ویریفائی نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ بنائی ہے جو انتہائی حوصلہ افزاہے۔

عطا تارڑ نے بتایا کہ آئی بی اے نے آئی ویریفائی پاکستان کے قیام کے حوالے سے شاندار کام کیا ہے،آئی ویریفائی نے مشکل اوقات میں غلط معلومات سے نمٹنے میں موثر کردار ادا کیا ہے،آئی ویریفائی کے حوالہ جات نہ صرف قومی سطح پر دیئے جاتے ہیں بلکہ بین الاقوامی جرائد اور عالمی میڈیا پلیٹ فارمز بھی اسے کثرت سے بطور مستند ذریعہ استعمال کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا راستہ تعاون اور ہم آہنگی میں مضمر ہے،حکومت تنہاء غلط معلومات کے خلاف موثر کارروائی نہیں کر سکتی،اس ضمن میں میڈیا انڈسٹری پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے،میڈیا ہاؤسز کو آگے آ کر اپنا فعال کردار ادا کرنا ہوگا،مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے اے آئی سے تیار کردہ مواد کو واضح طور پر اے آئی کے طور پر لیبل کرنا شروع کر دیا ہے.

 وزیر اطلاعات نے بتایا کہ تمام اے آئی تیار کردہ مواد کے لئے مناسب لیبلنگ کی ضرورت ہے، آئی ویریفائی جیسا نظام پاکستان میں ذمہ دارانہ صحافت کو فروغ دینے اور جعلی خبروں کی فوری اور موثر نشاندہی کے لئے ناگزیر ہے،اس جدوجہد میں پوری کمیونٹی، حکومت، میڈیا ہاؤسز، تعلیمی اداروں اور سول سوسائٹی سب کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔

عطا تارڑ کے مطابق حکومت پاکستان اس میدان میں اپنا کردار اسی طرح جاری رکھے گی جیسا کہ مئی میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران کیا تھا، الحمد اللہ پاکستان نے اس جنگ میں موثر انداز میں کامیابی حاصل کی،بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران بیانیہ کا چیلنج موجود تھا جس کا ہم نے نہایت موثر طریقے سے مقابلہ کیا.

انھوں نےبتایا کہ وزیراعظم نے مس انفارمیشن کے تدارک کے لئے مکمل مینڈیٹ دے رکھا ہے،پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی سے بھی درخواست ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنا فعال کردار ادا کریں،یو این ڈی پی کے ساتھ پہلے ہی اس ضمن میں ایک پروگرام پر کام کیا جا رہا ہے۔

وزیر اطلاعات نے بتایا کہ ورلڈ اکنامک فورم کی 2024ء کی گلوبل رسک رپورٹ کے مطابق دنیا کو درپیش سب سے بڑا قلیل المدتی خطرہ غلط معلومات ہے،رپورٹ میں غلط معلومات کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ انتشار اور افراتفری پیدا کر سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ٹانک، گومل بازار روڈ پر بکتر بند گاڑی کے قریب دھماکا، 5 پولیس اہلکارشہید