بچے بگڑ رہے ہیں تو والدین کہاں ہیں؟ یوٹیوبر ڈکی بھائی نے بڑا سوال اٹھا دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)پاکستانی یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی نے بچوں کے آن لائن مواد اور ان کے رویوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ والدین کو اپنے بچوں کی انٹرنیٹ سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہیے بجائے اس کے کہ ہر معاملے کا ذمہ دار کانٹینٹ کریئیٹرز کو قرار دیا جائے۔
ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے ڈکی بھائی نے کہا کہ اگر والدین سمجھتے ہیں کہ کسی یوٹیوبر کا مواد بچوں پر منفی اثر ڈال رہا ہے تو انہیں سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ بچے وہ مواد کیوں اور کس طرح دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے اپنے بچپن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ان کے والدین نے انہیں کم عمری میں موبائل فون یا آئی پیڈ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔ ان کے مطابق گیم کھیلنے کی اجازت بھی اچھی تعلیمی کارکردگی سے مشروط تھی۔
ڈکی بھائی نے مزید بتایا کہ ان کے والد نے گھر کے کمپیوٹر پر پیرنٹل کنٹرول سسٹم نصب کر رکھا تھا جس کے ذریعے ان کی آن لائن سرگرمیوں اور سرچز کی نگرانی کی جاتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کے والد ٹیکنالوجی کے ذریعے ان کی نگرانی کرسکتے تھے تو دوسرے والدین بھی اپنے بچوں کے آن لائن استعمال پر نظر رکھ سکتے ہیں۔
یوٹیوبر نے اپنے مواد کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق ان کی ویڈیوز میں ایسی چیز موجود نہیں جو بچوں پر منفی اثر ڈالے تاہم انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان کی ویڈیوز دیکھنا بچوں کے لیے لازمی نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یوٹیوب سکول نہیں ہے اور والدین کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے بچوں کو کون سا مواد دیکھنے کی اجازت دیتے ہیں۔
ڈکی بھائی کے ان خیالات پر سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ بعض صارفین نے والدین کی ذمہ داری کو اہم قرار دیا جبکہ کچھ کا مؤقف ہے کہ بچوں تک پہنچنے والے مواد کے حوالے سے کانٹینٹ کریئیٹرز کی بھی ذمہ داری بنتی ہے۔