اسرائیلی فضائی حملےپر عرب صرف بیانات کی حد تک ہی رد عمل دیں گے،سلیم بخاری
ترکی ، پاکستان اور ایران کو چھوڑ کر خطے کے باقی تمام مسلم ممالک میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ اسرائیل کو جواب دے سکیں
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد) آج کے شو میں بخاری صاحب نے قطر کی جانب سے اپنے دارالحکومت میں ایک عمارت پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید الفاظ مذمت کرتے ہوئے غزہ جنگ بندی معاہدے سے خود کو علیحدہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔قطری وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا یہ حملہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔اس پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئےانہوں کہا کہ یہ عرب سارے کاغذی شیر ہیں ان کے اندر اتنی ہمت نہیں کے وہ اس حملے کا جواب بھی دے سکیں۔وہ صرف بیانات کی حد تک ہی رد عمل دیں گے۔نیپال میں جنریشن زیڈ احتجاجی تحریک، بھارتی مداخلت کے عزائم بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ پر بخاری صاحب نے کہا کہ بھارت نیپالی نوجوانوں کو استعمال کر کے انتشار پیدا کرنے کی سازش کر رہا ہے۔
سلیم بخاری صاحب کا کہنا تھا کہ یہ ایک روایت ہے، کسی بھی ملک کے اندر بمباری کرکے ہلاک کردینا کوئی معمولی بات نہیں کیوں کے جو اپنے ملک کی سرحدوں کی بھی حفاظت نہ کرسکے اس کے متعلق کیا کہا جائے انہوں نے کہا کہ اگر قطر نے جواب نہ دیا تو سوچیں کے اسرائیل کو ہلا شیری ملے گی اور پھر سوچیں اگلا شکار کونسا ملک ہوگا۔یہ جو ہم اس بزدلی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ایک بعد ایک یہ سلسہ کہاں جا کر رکے گا سمجھ سے بالاتر ہے۔انہوں نے کہا کہ ترکی ، پاکستان اور ایران کو چھوڑ کر باقی تمام مسلم ممالک جو کہ اس خطے میں رہتے ہیں ان کے اندر اتنی ہمت نہیں کہ وہ اسرائیل کو جواب دے سکیں۔
انہوں نے کہا کے اسرائیل خود سے یہ جرات ہی نہیں کر سکتا تھا کے وہ ایسی کسی ریاست پر جاکر حملہ کر دے۔جہاں پر امریکہ کا ایک بہت بڑا فوجی اڈہ موجود ہے۔یقینی طور پر اس کاروائی کے پیچھے امریکہ کی مرضی بھی شامل ہے۔اسرائیلی وزیر دفاع کی دھمکی پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ وہ جس پر چاہیں گے حملہ کر دیں گے۔ ان کو اپنی بھولنا نہیں چاہیے کہ ابھی تازہ تازہ ایران نے جو ان کی درگت بنائی ہے ۔ایران نے اسرائیل کی یہ غلط فہمی اچھی طرح سے دور کر دی ہے کیوں کےجو غیرت مند قومیں اپنا دفاع بہت اچھی طرح سے کرنا جانتی ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں کے کہ کیا قطر اب اپنی سرزمین سے امریکہ اڈے ختم کردے گا؟ بخاری صا حب نے کہا کہ ایسا کرنے کے لیےغیرت مند ہونا ضروری ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ جب کسی بھی ملک میں غیر مقبول حکمران مسلط کیے جائیں گے تو وہ ہر وقت اپنی حکومت کو بچانے کی کوشش کرتے رہیں گے۔پھر وہ کسی بھی غیرت اور ملکی بقا کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔اور ہر وقت جس نے اپ کو مسلط کیا ہوتا ہے اس کی منشا اور رضا کے لیے کام کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ سارے ممالک طفیلی ممالک بنا دیئے گے ہیں اور ان طفیلی حکومت کے اوپر کمزور اور غیر نمائندہ حکمران مسلط کر دیئے گیے ہیں۔اب ممالک کے نام لینے کی ضرورت نہیں ہے یہ سب مزمت ضرور کریں گے لیکن عملی طور پر کوئی رد عمل نہیں دیں گے۔
دہشتگردی پر وفاق اور کے پی ایک پیج پر کب آئیں گے؟
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ ان کا پاسپورٹ بلاک ہے لیکن اس کے باوجود وہ بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہدایت پر پاسپورٹ کے بغیر ہی افغانستان جا سکتے ہیں۔بخاری صا حب نے کہا کہ خارجہ امور وفاق کا سبجیکٹ ہے صوبائی حکومت اس میں دخل اندازی نہیں کر سکتی، دوسری بات یہ کہ خان صا حب نے ہدایت کی ہے کہ افغانستان جا کر افغان حکومت کے ساتھ دہشتگردی کے امور پر بات کی جائے ، اس کا مطلب تویہ ہے کہ پی ٹی آئی دہشتگردوں کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ اسی لیے تو پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ٹی ٹی پی کے لوگوں کو یہاں لا کر بسایا گیا تھا تاکہ وہ دہشتگرد پی ٹی آئی کو سپورٹ کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا ایک بہت بڑا ووٹ بینک ان دہشتگروں پر مشتمل ہے اور وہ نہ صرف ان کو انتخابات میں ووٹ دیتے ہیں بلکہ الیکشن میں سپورٹ بھی کرتے ہیں۔
بھارت پر 100فیصد ٹیرف کا مطالبہ ،ٹرمپ کی نئی چال کیا؟
ٹرمپ کا یوٹرن، تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کیلئے بھارت سے مذاکرات کا اعلان، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم مودی کو کئی بار تنقید کا نشانہ بنانے کے بعد دوست قرار دیا تھا اور اب انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کے لیے مذاکرات کا انکشاف کیا ہے اس پر بخاری صا حب نے کہا کہ ٹرمپ ایک بزنس میں ہیں ۔ اور بزنس میں اپنے مفاد کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے۔پہلے بھارت کے خلاف اتنی سخت زبان استعمال کی پھر ایک سخت ٹویٹ کر دی اور پھر ٹیرف 50فیصد کر دیا ۔ اب پھر پینترا بدل کو دوستی کی پینگیں بڑھانی شروع کر دی ہیں۔انہوں نے ٹرمپ کو ایک غیر سنجیدہ انسان کہا ۔جو مودی کے اسقدر خلاف تھا ایک دم سے اسکے اند ر مودی کے لیے اتنی محبت کا جاگ جانا سمجھ سے بالاتر ہے۔
دوسری طرف ٹرمپ کا یورپی یونین سے بھارت اور چین پر 100 فیصد ٹیرف لگانے کا مطالبہ ٹرمپ کو کوئی تو گریس دکھانی چاہیے تھی۔ ایک ہی وقت میں دو مختلف رویے اس پر بخاری صا حب نے ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ سپر پاور کے سب سے طاقتور کو اس قسم کا رویہ زیب نہین دیتا۔
نیپال میں جنریشن زیڈ احتجاجی تحریک، بھارتی مداخلت کے عزائم بھارتی اخبار انڈین ایکسپریس کی رپورٹ پر بخاری صا حب نے کہا کہ بھارت نیپالی نوجوانوں کو استعمال کر کے انتشار پیدا کرنے کی سازش کر رہا ہے۔ ہندوتوا نظریے پر قائم بھارت نہ صرف نیپال بلکہ دیگر ہمسایہ ممالک میں بھی اندرونی مداخلت میں مصروف ہے۔ بھارتی حکومت ان تحریکوں کی پشت پناہی کر رہی ہے تاکہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھا سکے۔انہوں نے کہا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے کہ بھارت نے نیپال کی خودمختاری کو چیلنج کیا ہو۔ اس سے قبل 2019 میں بھارت نے نئے نقشے جاری کیے تھے۔بھارتی مداخلت کے ٹھوس شواہد صرف نیپال تک محدود نہیں۔ مالدیپ میں بھی "بھارت نکل جاؤ" کے نام سے احتجاجی تحریک چلائی گئی تھی، انہوں نے کہا کہ ایسا ملک جس کے اپنے اند ر علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہوں اس کو دوسرے ملکوں میں دہشتگردی اور اس قسم کی تحریکوں او ر مداخلت سے اجتناب کرنا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:نور سحر میں’’صفائی نصف ایمان، نظم و ضبط کامل ایمان‘‘ پر علمی و فکری نشست کا انعقاد