مسلط کردہ پالیسیوں نے صوبے کو بدامنی کی دلدل میں دھکیلا:وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضلع بنوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے فتح خیل پولیس سٹیشن پر دہشتگرد حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ سے ملاقات کی، وزیر اعلیٰ نے شہداء کے درجاتِ بلندی کیلئے فاتحہ خوانی کی اور لواحقین سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے حملے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کی عیادت کیلئے اسپتال کا دورہ بھی کیا اور متعلقہ حکام کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا پولیس نے دہشتگردی کے خلاف بے مثال جرات اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے، عوام کو اپنے حقوق اور امن کیلئے کھڑا ہونا ہوگا، ورنہ مسلط شدہ حالات برقرار رہیں گے۔
وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل کہتے رہے کہ دہشتگرد دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں لیکن 78 سال سے مسلسل بند کمروں کے فیصلے ہم پر مسلط کیے جا رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ایوب خان گادھی کے ڈیرے پر حملے کی مذمت، رپورٹ طلب
انہوں نے کہا کہ مسلط کردہ پالیسیوں نے صوبے کو بدامنی کی دلدل میں دھکیلا جبکہ خیبرپختونخوا کے عوام اور سکیورٹی اداروں نے دہشتگردی کے خلاف بے پناہ قربانیاں دی ہیں اس لیے مزید بدامنی کسی صورت قبول نہیں۔
محمد سہیل آفریدی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صوبائی حکومت اور پولیس مل کر دہشتگردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور ہر اُس فیصلے کی مخالفت کی جائے گی جو صوبے کے امن اور عوامی مفادات کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جانے دی جائیں گی اور صوبے میں امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔