مشترکہ جائیداد کے شریک اپنے حصے سے زائد منتقل نہیں کر سکتے: سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ جاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
( امانت گشکوری )سپریم کورٹ آف پاکستان نے حق مہر میں جائیداد کی منتقلی سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ مشترکہ جائیداد کا کوئی بھی حصہ دار اپنے حصے سے زیادہ جائیداد منتقل نہیں کر سکتا۔
عدالت نے واضح کیا کہ شوہر صرف اپنی ذاتی یا مشترکہ جائیداد میں اپنے قانونی حصے کی حد تک ہی حق مہر کے طور پر جائیداد دینے کا مجاز ہے، جبکہ پورے گھر یا مکمل مشترکہ جائیداد کو حق مہر میں دینے کا دعویٰ دیگر قانونی ورثاء کے حقوق کو متاثر کر سکتا ہے۔
یہ کیس پشاور کی رہائشی نگہت میانداد کی جانب سے اپنے سابق شوہر اور ساس کے خلاف دائر کیا گیا تھا، جس میں حق مہر کی وصولی اور نکاح نامے میں درج گھر کا قبضہ حاصل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا، ٹرائل کورٹ نے مدعیہ کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے گھر کا قبضہ دینے کا حکم دیا تھا، تاہم شوہر کی اپیل مسترد ہونے کے بعد دیگر قانونی ورثاء نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا، جہاں وہ اس مقدمے میں فریق ہی نہیں تھے۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست مناسب قانونی فورم پر نہیں تھی کیونکہ اصل فیصلہ ٹرائل کورٹ نے دیا تھا اور اسے وہیں چیلنج کیا جانا چاہیے تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ترک ایئرلائنز کے طیارے میں آگ لگ گئی،مسافر محفوظ، ایئرپورٹ بند
عدالت نے مزید کہا کہ نکاح رجسٹرار اور نکاح خواں کو حق مہر میں درج جائیداد کی ملکیت کی تصدیق کرنی چاہیے تاکہ آئندہ تنازعات سے بچا جا سکے۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ نکاح نامے میں جائیداد کی ملکیت کے حوالے سے ایک علیحدہ کالم شامل کیا جائے تاکہ غیر ضروری قانونی چارہ جوئی سے بچا جا سکے، آخر میں سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ورثاء کی درخواست خارج کر دی۔