ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر  لاگتوں کے حساب نہیں لگتے، علی پرویز ملک

Mar 11, 2026 | 00:00:AM
 ڈرائینگ روم میں بیٹھ کر  لاگتوں کے حساب نہیں لگتے، علی پرویز ملک
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) پیٹرول، ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے 82 ارب روپے کے ممکنہ منافع کے سوال پروزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ  کہا ہے کہ معاملہ اس طرح نہیں ہوتا کہ ایک بیچ نکال لیا جائے اور پھر اگلےبیچ کی قیمت کے مطابق حساب کیا جائے۔

وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایک نیوز چنیل کے ٹاک شو میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور کمپنیوں کے 82 ارب روپے کے منافع کے دعووں کے  متعلق ماہرمعاشی فرخ سلیم کے مفروضوں پر مبنی سوالات پر  کہا کہ معاملہ اس طرح نہیں ہوتا کہ ایک بیچ نکال لیا جائے اور پھر اگلےبیچ کی قیمت کے مطابق حساب کیا جائے۔

انہوں نے کہاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مسلسل بدلتی رہتی ہیں اور کمپنیوں کو اپنی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے نئی کنسائنمنٹس کی خریداری کا بھی انتظام کرنا ہوتا ہے۔ پاکستان میں آئل امپورٹ کرنے والی کمپنیوں کے لائسنس کی شرط ہوتی ہے کہ وہ کم از کم 20سے 25دن کا سٹاک اپنے پاس رکھیں، چاہے اس کی قیمت 10روپے ہو یا 100روپے، اس کے بعد ہفتہ وار قیمتوں میں جو فرق آتا ہے، اسے کاروباری عمل کا حصہ سمجھ کر برداشت کرنا پڑتا ہے۔

وفاقی وزیر  علی پرویز ملک نے کہاکہ اگر آج کی قیمت کے مطابق کمپنیوں نے 25 دن بعد نیا مال خریدنا ہے تو انہیں قیمتوں کے حوالے سے ایک حد تک پیش بینی اور استحکام دینا ضروری ہوتا۔

فرخ سلیم نے سوال کیا کہ 9 مارچ کو بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ اور پھر تیز کمی واقع ہوئی ،تو کیا پاکستان میں بھی تیل کی قیمتیں کم ہوں گی جس پر علی پرویز ملک نے وضاحت دی کہ عالمی سطح پر ٹینکروں کی کمی ہے، علاقائی حالات کی وجہ سے کئی کمپنیاں ٹینکروں کا انشورنس کرنے سے گریز کر رہی ہیں اور اضافی پریمیم بھی عائد کیا جا رہا ہے، جو حکومت کے لیے مجموعی لاگت میں اضافہ کا سبب بنتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ عملی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے ڈرائنگ روم میں بیٹھ کر لاگت کا حساب نہیں لگانا چاہیے؛ سعودی عرب پاکستان کی بے پناہ  مدد کر رہا ہے اور بڑے ٹینر کا انتظام کر کے دے رہا ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عمان میں لنگر انداز کیا جائے گا اور وہاں سے چھوٹے کیریئر جہازوں کے ذریعے پاکستان منتقل کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات بھی پاکستان کی بے پناہ مدد کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے کہاکہ سعودی عرب نے پاکستان کو بڑے پیمانے پر تعاون فراہم کیا ہے اور حتیٰ کہ Very Large Crude Carrier (VLCC) فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے، تاہم یہ بڑے جہاز پاکستانی بندرگاہوں پر براہِ راست نہیں لنگر انداز ہو سکتے؛ جب روس سے VLCC پہنچتا ہے تو اسے عمان میں لنگر انداز کیا جاتا ہے، پھر پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے جہاز عمان پہنچ کر تیل کو چھوٹے جہازوں میں منتقل کرتے ہیں تاکہ پاکستان لے جایا جا سکے۔ عوام کو گمراہ نہ کریں کیونکہ ملک مشکل وقت سے گزر رہا ہے اور سب امید کرتے ہیں کہ پاکستان ان چیلنجز پر قابو پا لے گا۔