لینڈسلائیڈنگ،اچانک سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کاخطرہ،الرٹ جاری

Jul 11, 2026 | 11:09:AM
لینڈسلائیڈنگ،اچانک سیلاب اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کاخطرہ،الرٹ جاری
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(محمد اویس)این ڈی ایم اے نے 11 سے 13 جولائی تک شمالی علاقوں میں لینڈسلائیڈنگ جبکہ 14 جولائی تک گلگت بلتستان،خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں اچانک سیلاب، ندی نالوں میں طغیانی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات کے پیشِ نظر الرٹ جاری کر دیا۔
این ڈی ایم اے کے مطابق بدسوات، اشکومان، ہنارچی، ترسات ہنڈور، التر، کے علاقے گلیشائی جھیلوں کے سیلاب کے حوالے سے حساس قراردیئے گئے ہیں،اویر، چینٹر، گوپیس، یاسین، روشان، ہاکیس کے علاقےبھی گلیشائی جھیلوں کے سیلاب کے حوالے سے حساس قراردیئے گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے چتیبوئی، ٹھلو-1 اور 2، ریشون، بریپ، بونی ،سردار گول، پنڈورو چاٹ، خپلو، ہسپر-ہپر، غلکن، گلتنگ، گلتنگ اور سراؤنڈ کے علاقے گلیشائی جھیلوں کے سیلاب کے حوالے سے حساس قراردیئے گئے ہیں۔
گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، مری، مانسہرہ، ایبٹ آباد اور قراقرم ہائی وے پر لینڈ سلائیڈنگ اور پتھر گرنے کابھی خدشہ ظاہرکیاگیاہے جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کے حوالے سے جگلوٹ سکردو روڈ، ہنزہ سے گوجال روڈ، گلگت سے غزر،نلتر، بگروٹ اور ہرموش کے علاقے حساس قراردیئے گئے ہیں۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے عوام اور سیاحوں کو غیر ضروری پہاڑی سفر سے گریز اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور بارشوں کے باعث گلیشیائی وادیوں میں اچانک سیلاب، ملبے کے بہاؤ اور ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ ہے۔
این ڈی ایم اے نے عوام کو گلیشیائی علاقوں، ندی نالوں اور سیلابی راستوں سے دور رہنے اور انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ مقامی نالوں میں کٹاؤ اور مٹی و پتھروں کے تودوں کے ممکنہ بہاؤ کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے،مسافر و سیاح پہاڑی اور لینڈ سلائیڈ والے راستوں پر مکمل احتیاط کریں،خطرناک ڈھلوانوں کے قریب سے آمدورفت میں احتیاط برتیں۔

یہ بھی پڑھیں:لاہور میں ابررحمت،گرمی کازورٹوٹ گیا،مزیدبارشوں کی پیش گوئی
این ڈی ایم اے کی جانب سے مقامی انتظامیہ کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔