وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کی حکومت کو اہم ریلیف دے دیا

Jun 10, 2026 | 20:19:PM
 وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کی حکومت کو اہم ریلیف دے دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک)  وفاقی آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا کی حکومت کو اہم ریلیف دے دیا۔

نگراں حکومت میں کی گئی جن بھرتیوں کو پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے تسلیم نہیں کیا تھا، ان کو وفاقی آئینی عدالت نے  بھی غیر قانونی قرار دے دیا۔ 

وفاقی آئینی عدالت سے خیبرپختونخوا حکومت کو ریلیف دیتے ہوئے خیبر پختونخوا میں نگراں وزیر اعلیٰ کی حکومت کے دوران  کی گئی بعض بھرتیاں خلاف قانون قرار دےدیں۔  آئینی عدالت نے خیبر پختونخوا میں نگران دور حکومت میں کی گئی بھرتیوں کے خلاف موجودہ صوبائی حکومت کا موقف درست قرار دے کر نگران حکومتوں کا اختیار بھی واضح کر دیا گیا۔

جسٹس حسن رضوی کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ نگران حکومتوں کا بنیادی کام صرف روزمرہ کے سرکاری امور چلانا ہوتا ہے اور وہ مستقل نوعیت کے فیصلے کرنے کی مجاز نہیں ہوتیں۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نگران حکومت کبھی بھی منتخب حکومت کے ہم پلہ اختیارات کی حامل نہیں ہوتی اور اس کے ہر اقدام کے لیے الیکشن کمیشن کی پیشگی منظوری ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق ملازمین کی بھرتی مستقل نوعیت کا عمل ہے جسے عارضی یا روزمرہ امور کا حصہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

 عدالت نے خیبرپختونخواہ ملازمین برطرفی ایکٹ 2025 کو آئین اور بنیادی حقوق کے مطابق قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی قانون سے چند افراد کا متاثر ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ قانون بنیادی حقوق کے منافی ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ عام انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی خیبرپختونخوا اسمبلی کو قانون سازی کا مکمل آئینی اختیار حاصل ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے برطرف ملازمین کی جانب سے دائر اپیلیں خارج کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سرکاری ہسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ساس کی خدمت مہنگی پڑ گئی 

خیبرپختونخوا کی نگران حکومت نے اپنے دور میں درجہ چہارم کے  امیدواروں کو معمول کے دفتری طریقہ کار پر عمل کرنے کے بعد مستقل بنیادوں پر بھرتی کیا تھا۔  انتخابات کے بعد قائم ہونے والی پی ٹی آئی کی حکومت نے  درجہ چہارم کے اہلکاروں کی ان بھرتیوں کو  غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ان ملازمین کو برطرف کر دیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف  برطرف ملازمین نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔  آج عدالت نے درجہ چہارم کے برطرف شدہ ملازموں کی پیٹیشن کو مسترد کر دیا اور سہیل آفریدی حکومت کے اقدامات کو جائز قرار دے دیا۔ 

یہ بھی پرحیئے: وزیراعظم نےسہیل آفریدی کا سب سے بڑا مسئلہ حل کرنےکا یقین دلا دیا