وزیراعظم نےسہیل آفریدی کا سب سے بڑا مسئلہ حل کرنےکا یقین دلا دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز) خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کا سب سے بڑٓ مسئلہ حل ہو گیا۔ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے بتایا ہے کہ وزیراعظم شہباز شرئف نے ان کو این ایف سی ایوارڈ اپ ڈیٹ کرنے کا یقین دلا دیا ہے۔
سہیل آفریدی نے یہ بھی بتایا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل ہوگا جو خیبر پختونخوا کےکے لیے بڑی خوش خبری ہے۔
میڈیا رپورٹص کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) اپڈیٹ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے تحت ضم اضلاع کو بھی شامل کیا جائے گا جو صوبے کے عوام کے لیے ایک خوش خبری ہے۔
نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس کے بعد میڈیا سے نمائندوں کے سوالات کے جواب میں سہیل آفریدی نے کہا کہ اجلاس میں خیبر پختونخوا کے عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا اور صوبے کے آئینی، مالی اور ترقیاتی حقوق کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف اختیار کیا۔وزیراعظم کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ 180 دن کے اندر این ایف سی ایوارڈ کو اپڈیٹ کرنے کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے، تاہم اگر مقررہ مدت میں اتفاق رائے نہ ہو سکا تو صدر مملکت کو سمری بھجوا کر صدارتی آرڈر کے ذریعے این ایف سی ایوارڈ اپڈیٹ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا جو خیبر پختونخوا کے عوام خصوصاً ضم شدہ علاقوں کے لیے ایک بڑی خوش خبری ہے۔ ضم شدہ اضلاع کے تیز رفتار عمل درآمد پروگرام (اے آئی پی) میں مجوزہ کٹوتی مذاکرات کے بعد کافی حد تک بہتر ہوئی ہے تاہم صوبائی حکومت نے مزید بہتری کے لیے بھی بھرپور مطالبہ کیا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا ضم شدہ اضلاع کے سالانہ ترقیاتی پروگرام اور اے آئی پی میں مزید بہتری لائی جائے گی تاکہ وہاں کے عوام کو ترقیاتی ثمرات بروقت پہنچ سکیں۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 151 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی آزادانہ نقل و حمل یقینی بنانا وفاق کی آئینی ذمہ داری ہے، تاہم اگر اس آرٹیکل پر عمل درآمد ممکن نہیں تو پھر آئین سے اس شق کو ختم کر کے صوبوں کو اپنی پالیسی اختیار کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاسکو کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت ایک لاکھ 75 ہزار ٹن گندم مقررہ نرخ پر خیبرپختونخوا کو فراہم کی جائے گی اور وفاقی حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ گندم کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: کون سے آئی فون پر بہت جلد واٹس ایپ استعمال کرنا ممکن نہیں ہوگا؟ تفصیل سامنےآگئی
انہوں نے کہا، خیبر پختونخوا حکومت ملک بھر میں امن و امان کے قیام کے لیے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے اور 5 اکتوبر 2025 سے اب تک پولیس، محکمہ انسداد دہشت گردی اور سپیشل برانچ کی استعداد کار بڑھانے پر 30 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے تاکہ عوام کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاق کے ساتھ تعلق صوبے اور عوام کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے آگے بڑھائیں گے، این ای سی اور این ایف سی اجلاسں میں شرکت صوبے کے حقوق اور عوامی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگلات کے فروغ کے لیے خصوصی فنڈ مختص کیا جائے گا اور نجی اراضی پر اگائے گئے درختوں کو کاٹنے کے بجائے صوبائی حکومت خود خریدے گی اور مالکان کو ادائیگی کرے گی تاکہ شجرکاری کی حوصلہ افزائی ہو۔
سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ بنجر اراضی پر شجرکاری کرنے والے افراد کو حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کرے گی تاکہ صوبے میں جنگلات کے رقبے میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ہسپتال کی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ساس کی خدمت مہنگی پڑ گئی