ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن خودمختاری اور قومی وقار پرسمجھوتہ نہیں کرےگا: صدر پیزشکیان
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) ایرانی کے صدر مسعود پزشکیان نےکہا ہےکہ طویل جنگ ایران کے مفاد میں نہیں ہے لیکن دھمکیوں سے ایران کو جھکنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، دشمن کا یہ خواب ہےکہ ایران بیرونی جارحیت کے سامنے جھک جائےگا۔
تہران میں آیت اللہ خمینی کی برسی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان نے کہا، ایران جنگ نہیں چاہتا، طویل جنگ ایران کے مفاد میں نہیں، لیکن اگر ملک پر حملہ کیا گیا تو ایران کبھی ہتھیار نہیں ڈالےگا، ایران خودمختاری اور قومی وقار پرکسی قسم کا سمجھوتہ بھی قبول نہیں کرےگا۔ گر وہ جارحیت کا راستہ اختیار کرتے ہیں تو ہم ہرگز پسپائی اختیار نہیں کریں گے، وہ اس خواہش کو صرف ایک خواب ہی سمجھیں،
مسعود پیزشکیان نے کہا، ہمیں اس غیریقینی صورتحال سے نکلنا ہوگا جہاں نہ مکمل جنگ ہے اور نہ ہی پائیدار امن ہے۔ انہوں نے کہا، کہ ان کی حکومت قومی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے سفارتی تعطل کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ بھی پرھیں: ٹرمپ نے ایران کے خلاف غیر متناسب ردعمل کی دھمکی کیلئےٹی وی سیریز کی ویڈیوکلپ استعمال کی
پیزشکیان نے کہا،شہید سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے حکومت کو مذاکراتی عمل آگے بڑھانے کی واضح اجازت دی تھی اور ہدایت دی تھی کہ جاؤ اور اس مسئلےکو حل کرو۔‘
مسعود پزشکیان نے مزید کہا، ہمیں اپنے اندرونی اتحاد اور قومی یکجہتی کو محفوظ رکھنا ہوگا، دشمن اس امید میں ہےکہ وہ ہمارے درمیان تقسیم پیدا کرکے اپنے مقاصد حاصل کرلےگا۔ کسی ملک کو طیاروں، بمباری کے ذریعے سرینڈر کرنے پر مجبور نہیں کیاجاسکتا، وہ غزہ کو تین سال بعد بھی سرینڈرکرنے پر مجبور نہیں کرسکے۔ وہ ایران کو مجبور کرکے سرینڈر کرنے کی توقع کیسےکرسکتے ہیں۔ ایران یقینی طور پر ایسا ملک نہیں جو جھک جائے۔
یہ بھی پڑھیئے: ٹرمپ کی دھمکی، ایرانی بجلی گھر، بجلی گھروں پر حملے، فاکس نیوز، ٹروتھ سوشل