ٹرمپ کی دھمکی، ایرانی بجلی گھر، بجلی گھروں پر حملے، فاکس نیوز، ٹروتھ سوشل

Jun 10, 2026 | 17:41:PM
ٹرمپ کی دھمکی، ایرانی بجلی گھر، بجلی گھروں پر حملے، فاکس نیوز، ٹروتھ سوشل
کیپشن: صدر ڈونلڈ ٹرمپ 9 جون 2026 کو نیویارک کے جان ایف کینیڈی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایئر فورس ون میں سوار ہونے سے پہلے صحافیوں سے بات کر رہے ہیں۔ (فوٹو بذریعہ گوگل)
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) امریکہ کے صدر ٹرمپ  نے کہا ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں پر نئے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے یہ دھمکی یہ  یہ کہتے ہوئےدی کہ تہران معاہدے تک پہنچنے میں بہت زیادہ وقت لے رہا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ رپورٹ شدہ تبصرے، ٹرمپ کے  ٹروتھ سوشل پر یہ کہنے کے فوراً بعد سامنے آئے ہیں کہ ایران نے "ایک معاہدے پر بات چیت کرنے میں بہت زیادہ وقت لگا دیا ہے جو ان کے لیے بہت اچھا ہوتا۔ اب انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔"

اب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں پر نئے حملوں کا حکم دے سکتے ہیں،

واشنگٹن میں فاکس نیوز سے ایک فون انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا،  "میں جاری رکھ سکتا ہوں،" 

ایران کے انفراسٹرکچر بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں  کے منصوبے پر عمل کرنے سے پہلے 8 اپریل کو پاکستان کی کوششوں سے امریکہ اور ایران کی عارضی جنگ بندی ہو گئی تھی جو ابتدا میں دو ہفتوں کے لئے تھی، لیکن بعد میں اس میں توسیع  کر دی گئی لیکن دونوں متحارب ملک  اب تک کسی  عارضی جنگ بندی کے معاہدہ تک نہیں پہنچ سکے۔ حالیہ ڈیڈ لاک صدر ٹرمپ کی طرف سے کئی ہفتوں میں ڈرافٹ کئے گئے میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ کے ڈرافت کے بنیادی نکات میں اہم ترامیم تجویز کئے جانے کے بعد ہوا جو اب  تک جاری ہے۔ 

راتوں رات کیا ہوا؟

گزشتہ روز یہ سامنے آیا کہ خلیج عمان کے علاقہ میں امریکہ کا ایک اپاچی فوجی ہیلی کاپٹر گرا دیا گیا ہے اور اس ہیلی کاپٹر کے عملہ نے گرائے جانے کے دوران بمشکل اپنی جانیں بچائیں۔ بعد مین گزشتہ رات یہ رپورٹس آئیں کہ  امریکہ کی فوج نے ایک امریکی فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کے بدلے میں ایران کے بعض علاقوں میں فوجی ٹارگٹس پر حملہ کیا۔ ان رپورٹس کے بعد یہ خبریں سامنے آئیں کہ ایران  کے پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ کے خطہ میں 21 اہداف پر حملے کئے جن میں کئی امریکی فوجی اڈے بھی شامل تھے۔ 

صدر ٹرمپ کا موجودہ مؤقف

ایک روز پہلے تک صدر ٹرمپ یہ امید ظاہر کر رہے تھے کہ ایران نے اگرچہ بات چیت کرنا بند کر رکھا ہے لیکن انہیں تب بھی امید ہے کہ ایران کی قیادت معاہدہ پر جلد دستخط کر دے گی۔ اس دوران اسلام آباد سے پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی خود ایک ہنگامی وزٹ پر تہران گئے اور انہوں نے ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی،  اور ایران کے وزیر داخلہ سے اہم ملاقاتیں کیں۔

ب حالیہ کشیدگی کے دوران اچانک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ بیانات سامنے آئے ہیں کہ وہ ایران پر بجلی گھروں اور سڑکیوں (اور ٹرین ویز) پر آمد و رفت روکنے کے لئے پلوں پر حملوں کا حکم دے سکتے ہیں۔  ٹرمپ  نے کہا، "انہیں ایک معاہدے پر دستخط کرنے اور زندہ رہنے کا موقع ملا۔"

 مذاکرات میں بہت زیادہ دیر کردی، اب انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی، ٹرمپ کا گزشتہ بیان

فاکس نیوز کے ساتھ انٹرویو سامنے آنے سے پہلے صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنیا جو بیان پوسٹ کیا تھا اس میں انہوں نے کہا تھا،  امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران نے معاہدے پر مذاکرات میں بہت زیادہ دیر کردی، اب انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔

اس بیان میں ٹرمپ نے کہا،  ایران کی فوج مکمل طور پر تباہ و برباد ہو چکی ہے۔ اس کے بہت سے حصے، جیسے بحریہ اور فضائیہ اب عملاً موجود ہی نہیں رہے۔  انہیں مکمل طور پر شکست دی جا چکی ہے۔

انہوں نے اپنے بیان میں تحریر کیا کہ ایران صرف باتیں کرتا ہے، عملی اقدام کچھ نہیں کرتا۔ مشرقِ وسطیٰ کا یہ غنڈہ اب ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے ایسے معاہدے پر مذاکرات کرنے میں بہت زیادہ دیر کردی جو ان کے لیے بہترین ثابت ہو سکتا تھا، اب انہیں اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ 

یہ بھی پڑھیں: مظفرآباد : پاک فوج کا  Mi-17 ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ، تمام اہلکار شہید