اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو:ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا کو دو ٹوک پیغام

Jun 10, 2026 | 09:04:AM
اگر خود محفوظ رہنا چاہتے ہو تو ہمارا خطہ چھوڑ دو:ایرانی وزیر خارجہ کا امریکا کو دو ٹوک پیغام
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24نیوز)ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا محفوظ رہنا چاہتا ہے تو ہمارے خطے سے نکل جائے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر عباس عراقچی نے امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں پر سخت رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے میدان جنگ میں ناکامیوں کے باوجود ایران کے عزم کو آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اپنی شکستوں کے باوجود ہماری قوتِ ارادی کو آزمانے کا انتخاب کیا، ہماری طاقتور مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا جواب دیے بغیر نہیں رہیں گی۔

ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے پیغام میں مزید سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں کسی بھی ممکنہ حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

اس سے قبل اپنے ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا تھا کہ ایران کے علاقے کے قریب موجود غیر ملکی افواج مسلسل خطرے میں رہتی ہیں اور انسانی غلطی، حادثات یا ممکنہ کراس فائر کی صورت میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، تناؤ کم کرنے کا بہترین اور مؤثر حل غیر ملکی افواج کا انخلا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران کے درمیان نئی کشیدگی،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں چڑھ گئیں

انہوں نے کہا کہ ایران سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر دیگر آپشنز بھی موجود ہیں، جس طرح ایرانی مسلح افواج نے ماضی میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا، اسی طرح ایران اپنے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی پانی نہیں بلکہ ایران اور عمان کے درمیان واقع مشترکہ آبی گزر گاہ ہے، یہ امریکی ساحلوں سے ہزاروں میل دور واقع ہے اور اس کی بحری حدود مکمل طور پر واضح ہیں۔

ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق ایرانی مسلح افواج ہر قسم کی فضائی، زمینی اور بحری خلاف ورزی پر ہائی الرٹ ہیں اور ملک کی خودمختاری کے تحفظ کیلئے مکمل طور پر تیار ہیں۔

مزید پڑھیں:امریکا ایران کشیدگی، عالمی گولڈ مارکیٹ میں ہلچل،سونا سستا ہوگیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں موجود غیر ملکی فوجی موجودگی خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے کشیدگی میں کمی اور استحکام کے لیے ان افواج کا جلد از جلد انخلا ضروری ہے۔