امریکہ ایران میں سپیشل فورسز کو بھیجنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے

Mar 09, 2026 | 00:25:AM
 امریکہ ایران میں سپیشل فورسز کو بھیجنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے
کیپشن: سیٹلائٹ سے یکم مارچ کو   لی گئی یہ تصاویر نطنز نیوکلئیر کمپلیکس کی ہیں جہاں ایران نے  نیوکلئیر سینٹری فیوجز کی سب سے زیادہ تعداد رکھی ہوئی تھی اور مبینہ طور پر بم گریڈ کے نزدیک پہنچ چکی یورینئیم انرچ کی جا رہی تھی۔
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) انکشاف ہوا ہے کہ امریکہ ایران میں سپیشل فورسز کو بھیجنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔

ایک امریکی ویب سائٹ  ایکسئیس  AXIOS  نے آج رپورٹ کیا ہے کہ  امریکہ ایران کے جوہری ذخیرے پر قبضہ کرنے کے لیے خصوصی دستے بھیج رہا ہے۔


ویب سائٹ نے بتایا کہ معاملہ پر ہونے والی اہم  بات چیت سے باخبر   چار ذرائع کے مطابق، امریکہ اور اسرائیل نے جنگ کے بعد کے مرحلے میں انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو محفوظ بنانے کے لیے ایران میں خصوصی افواج بھیجنے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

یہ کیوں اہم ہے

 ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا صدر ٹرمپ کے بیان کردہ جنگی مقاصد میں سے ایک ہے۔ حکومت کا 450 کلوگرام 60% افزودہ یورینیم - جو ہفتوں کے اندر ہتھیاروں کے درجے میں تبدیل ہو سکتا ہے - اس مقصد کی ایک کلید ہے۔

مجموعی تصویر

 نیوکلئیر مواد کو قبضے میں لینے کے لیے کسی بھی کارروائی کے لیے ممکنہ طور پر ایرانی سرزمین پر امریکی یا اسرائیلی فوجیوں کی جسمانی موجودگی کی ضرورت ہوگی، جو جنگ کے دوران بھاری قلعہ بند زیر زمین تنصیبات پر خود جائیں۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ امریکی سپیشل فورسز کا تنہا مشن ہو گا یا کہ صرف  اسرائیلی سپیشل فورس وہاں بھیجی جائے گی یا یہ امریکہ اور اسرائیل کا مشترکہ مشن ہوگا۔
یہ ممکنہ طور پر تبھی ہو گا جب دونوں ممالک کو یقین ہو گا  کہ ایران کی فوج اس مشن  میں شامل سپیشل فورسز کے لیے مزید سنگین خطرہ نہیں بن سکتی۔


پردے کے پیچھےکیا ہو رہا ہے

ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق منگل کو کانگریس کی بریفنگ میں، سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو سے پوچھا گیا کہ کیا ایران کی افزودہ یورینیم کو محفوظ بنایا جائے گا۔ روبیو کا جواب تھا کہ  "لوگوں کو جانا پڑے گا اور اسے حاصل کرنا پڑے گا،" انہوں نے یہ بتائے بغیر کہا کہ وہ کون ہ ہیں جن کے جانے کے بارے مین وہ بتا رہے ہیں۔

ویب سائٹ کے مطابق اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ایک اسرائیلی دفاعی اہلکار نے کہا کہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم ایران میں مخصوص مشنز کے لیے خصوصی آپریشن یونٹ بھیجنے پر سنجیدگی سے غور کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے:  پاکستان افغانیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، وہ بدلے میں زہریلی باتیں کرتے ہیں، خواجہ آصف
ایک امریکی اہلکار نے کہا کہ انتظامیہ نے دو آپشنز پر بات کی ہے: ایران سے نیوکلئیر مواد کو مکمل طور پر ہٹانا، یا جوہری ماہرین کو لانا تاکہ اس مواد کو سائٹ پر  ہی کمزور کیا جا سکے۔
اس مشن میں ممکنہ طور پر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ خصوصی آپریٹرز بھی شامل ہوں گے۔

بین السطور

اس مسئلے کے بارے میں علم رکھنے والے دو ذرائع نے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں جنگ سے پہلے ٹرمپ کو پیش کردہ اختیارات کے مینو کا حصہ تھیں۔

ویب سائت نے اپنی رپوڑت مین لکھا کہ این بی سی نیوز نے جمعہ کو اطلاع دی ہے کہ ٹرمپ نے مخصوص اسٹریٹجک مقاصد کے لیے ایران میں امریکی فوجیوں کے ایک چھوٹے دستے کی تعیناتی کے خیال پر بات کی ہے۔
سیمافور نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کے ایران کے اختیارات میں جوہری مقامات پر خصوصی آپریشن کے چھاپے شامل ہیں۔
امریکی اہلکار نے ایران کے یورینیم کو محفوظ بنانے کا آپریشنل چیلنج پیش کیا: "پہلا سوال یہ ہے کہ یہ کہاں ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم اس تک کیسے پہنچیں گے اور ہم جسمانی کنٹرول کیسے حاصل کریں گے؟"

"اور پھر، یہ صدر اور محکمہ جنگ، سی آئی اے کا فیصلہ ہوگا، کہ آیا ہم اسے  (نیوکلئیر مواد کو)جسمانی طور پر منتقل کرنا چاہتے ہیں یا اسے جہاں یہ موجود ہے اس کمپلیکس میں ہی  کمزور کرنا چاہتے ہیں۔"


وہ کیا کہہ رہے ہیں؛ زمینی دستے بھیجنا ممکن ہے

 امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایئر فورس ون پر  اپنے ساتھ سوار نامہ نگاروں کو بتایا کہ زمینی دستے ممکن ہیں - لیکن صرف "ایک بہت اچھی وجہ سے۔"

انہوں نے کہا کہ اگر ہم نے کبھی ایسا کیا تو [اس سے پہلے، ایرانیوں کو] اتنا تباہ کردیا جائے گا کہ وہ زمینی سطح پر لڑنے کے قابل نہیں رہیں گے۔
خاص طور پر یہ پوچھے جانے پر کہ کیا جوہری مواد کو محفوظ بنانے کے لیے فوجیں  ایران میں داخل ہو سکتی ہیں، ٹرمپ نے اسے مسترد نہیں کیا۔ "کسی وقت شاید ہم  یہ کریں گے۔ ہم اس کے پیچھے نہیں گئے ہیں۔ ہم ابھی نہیں کریں گے۔ شاید ہم بعد میں کریں گے۔"
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے Axios کو بتایا کہ ٹرمپ "دانشمندانہ طور پر ان کے لیے دستیاب تمام آپشنز کھلے رکھتے ہیں، اور چیزوں کو مسترد نہیں کرتے۔"


سازش

 یورینیم سے آگے، انتظامیہ کے اہلکار Axios کو بتاتے ہیں کہ ایران کے خام تیل کی تقریباً 90 فیصد برآمدات کے لیے ذمہ دار ایک سٹریٹجک ٹرمینل، کھرگ جزیرہ پر بھی قبضہ کرنے کی بات ہوئی ہے۔

زرا زوم ان کریں

 گذشتہ  سال جون میں ایران کی نیوکلئیر تنصیبات پر امریکی اسرائیلی حملوں نے ایران کے یورینیم کے ذخیرے کو ملبے تلے دبا دیا تھا۔ امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایرانی خود اس امریکی حملے کے بعد سے اب تک اس زمین میں دبے ہوئے خطرناک نیوکلئیرمواد تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔

امریکہ کے بی ٹو بمبار جہازوں سے کئے گئے حملوں نے نظنز نیوکلئیر کمپلیکس میں ایران کے تقریباً تمام سینٹری فیوجز کو بھی تباہ کر دیا، اور اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ایران میں کسی بھی جگہ یورینئیم کی انرچمنٹ/ افزودگی دوبارہ شروع ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: ایران کے سپریم لیڈر کا انتخاب ہو چکا ہے، مجتبیٰ خامنہ ای ایک بار پھر خبروں میں!

یہ بھی پڑھیں: مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا، اسرائیلی میڈیا کی خبر، ایرانی حکام خاموش 
امریکی اور اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ذخیرہ اصفہان میں جوہری تنصیب کی زیر زمین سرنگوں میں دبا ہوا پرا ہے۔  جب کہ بقیہ فرردو اور نطنز کے درمیان تقسیم ہے۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں، امریکہ اور اسرائیل نے نطنز اور اصفہان میں فردو کی تنصیبات  پر حملے کیے جن کا مقصد ان نیوکلئیر تنصیبات کے اندر لے جانے والے  داخلی راستوں کو تباہ کر کے ناقابل استعمال کر دینا /سیل کرنا تھا. اس کا مقصد ممکنہ طور پر کسی بھی مواد کو ان تنصیبات سے کسی دوسری جگہ منتقل ہونے سے روکنا تھا۔


زوم آؤٹ

 امریکہ اور اسرائیل ایران کے 450 کلوگرام 60% افزودہ  ہو چکی یورینیم کو ایک سنگین خطرہ کے طور پر دیکھتے ہیں، کیونکہ اسے  بم گریڈ  تک افزودہ کرنے میں صرف کچھ  ہفتے لگیں گے۔

اگر پورا ذخیرہ 90%  پیوریفیکیشن/ انرچمنٹ  تک پہنچ جائے تو یہ 11 ایٹم بم بنانے کے لئے کافی مواد ہوگا۔


بنیادی نکتہ

 ویب سائٹ نے اس رپورٹ میں ایک سینئیر امریکی اہلکار کو یہ کہتے ہوئے بتایا کہ ایران مین زمین پر امریکی فوج بھیجنے  یا نہ بھیجنے کی بات کرتے ہوئے "ٹرمپ کے لئے "زمین پر جوتے" کا مطلب وہی نہیں جو میڈیا کے لئے اس کا مطلب ہے۔"

چھوٹے سپیشل آپریشن، چھوٹی فورس

ایک اور ذریعہ نے مزید کہا کہ "چھوٹے خصوصی آپریشنز کے چھاپے - ایک بڑی فورس نہیں جا رہی ہے۔"
ایک تیسرے ذریعہ نے کہا کہ "جو بات چیت ہوئی ہے اس کے بارے میں "زمین پر فوج کی موجودگی' کے حوالے سے نہیں سوچا گیا ہے۔" "لوگوں کا خیال ہے کہ فلوجہ۔ اس پر بات نہیں کی گئی۔(عراق کے علاقہ فلوجہ میں ماضی میں امریکی فوج بھیجے جانے کا حوالہ)

اس معاملے سے واقف دو ذرائع کے مطابق جنگ سے پہلے صدر ٹرمپ کو جو مختلف آپشنز پیش کیے گئے تھے، ان میں ایسے آپریشنز بھی شامل تھے۔

ایک امریکی عہدیدار نے اس مشن کی مشکل بیان کرتے ہوئےکہا کہ پہلا سوال یہ ہےکہ یورینیئم کہاں ہے؟ دوسرا سوال یہ ہےکہ ہم وہاں کیسے پہنچیں گے اور اس پر عملی کنٹرول کیسے حاصل کریں گے؟

امریکی حکام کے مطابق یورینیئم کے علاوہ  ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز جزیرہ خارگ پر قبضہ کرنے کے امکان پر بھی بات چیت ہوئی ہے، جہاں سے ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔