حکمران لوگوں کی جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتے تو مستعفی ہوجائیں،علامہ راجہ ناصر عباس
Stay tuned with 24 News HD Android App
(عثمان خان)سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے کہ حکومت لوگوں کی جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی،اگر تحفظ نہیں تو ایسی حکومت کا حق نہیں کہ وہ رہے،ضروری ہے اس وقت انتہا پسندی کا راستہ روکیں۔
سینیٹ اجلاس میں امام بارگاہ دھماکے کے دوران شہید ہونے والوں کیلئے دعا کرائی گئی،سینیٹر مرتضیٰ کامران نے کہاکہ یہ بہت بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہوا معمول کی کارروائی معطل کر کے اس ایشو پر بات کی جائے، طارق فضل چودھری کاکہناتھا کہ ایوان میں ضرور اس پر بات ہونی چاہئے تمام سینیٹرز بات کریں پھر حکومت کی جانب سے اس پر بیان دیا جائے گا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ اسلام آباد میں دہشت گردی کے واقعہ پر بات کرنی چاہیے،جو اہم بلز ایجنڈے میں ہیں انہیں ٹیک اپ کر لیا جائے، جو بل لیے جاسکتے ہیں، انہیں نمٹا لیتے ہیں۔
سینیٹ اجلاس میں اسلام آباد میں ہونے والی دہشتگردی پر قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آباد کے وحشیانہ حملے میں 2 سو سے زائد افراد شہید و زخمی ہوئے،اسلام آباد واقعہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی ہے،ان کاکہناتھا کہ اس سے قبل اسلام آباد کچہری میں دہشتگردی کا واقعہ ہوا،جو افراد اس سانحہ میں شہید ہوئے وہ حالت سجدہ میں تھے،سیکورٹی کا کوئی مناسب بندوست وہاں پر موجود نہیں تھا۔
قائد حزب اختلاف نے کہاکہ ایک نوجوان عون عباس نماز چھوڑ کر بھاگا اور دہشتگرد کو روکا،واقعہ کے موقع پر پولیس کی کوئی سیکورٹی دستیاب نہیں تھی،
واقعہ کے فوراً بعد اسلام آباد پولیس اور آئی جی پہنچے،جس چیز کی واقعہ میں سب سے تاخیر ہوئی وہ ایمبولینسز تھیں،ایمرجنسی نافذ نہیں کی گئی پمز میں صرف ایکسرے مشین ہے،شہداء میں بڑی تعداد نوجوان طلباء کی ہے،ایسے المناک واقعات میں پوائنٹ آف سکورنگ نہیں ہونی چاہیے، اسلام آباد میں اتنا بڑا سانحہ ہوا تو ایک شہر میں ڈھول بج رہے ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے کہاکہ پہلے ٹی ٹی پی تھی اب داعش بھی آ گئی ہے،گویا یہاں اب دہشتگردوں کی تعداد بڑھ رہی ہے،اس وقت پاکستان میں ہم پاکستانی ہیں یہ جرم بن گیا ہے،حکومت لوگوں کی جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی،اگر تحفظ نہیں تو ایسی حکومت کا حق نہیں کہ وہ رہے،ضروری ہے اس وقت انتہا پسندی کا راستہ روکیں۔انہوں نے کہاکہ دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جائے ،سابق آرمی چیف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کو ایوان میں بلایا جائے ،دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے کہ طالبان کو ن لائے۔
یہ بھی پڑھیں:امسال رمضان میں 29 روزے ہوں گےیا 30؟فلکیاتی ماہرین کی اہم پیش گوئی