امریکی شہر منیاپولس میں احتجاج کے دوران آئی سی ای اہلکار کی فائرنگ، خاتون ہلاک
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایک اہلکار نے فائرنگ کر کے ایک خاتون کو ہلاک کر دیا۔
آئی سی ای کے مطابق خاتون نے اہلکار کو گاڑی سے کچلنے کی کوشش کی، جبکہ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون موقع سے گاڑی نکالنے کی کوشش کر رہی تھی۔
یہ واقعہ بدھ کے روز ایسٹ 34ویں اسٹریٹ اور پورٹلینڈ ایونیو پر پیش آیا، جہاں مظاہرین نے مبینہ طور پر آئی سی ای کی گاڑیوں کو گھیر کر انہیں علاقے سے نکلنے سے روکنے کی کوشش کی۔
A US immigration officer has fatally shot a woman in Minneapolis. Federal officials say the officer "defensively shot to protect himself” but the city’s mayor is disputing their account and demanding ICE agents leave the city. pic.twitter.com/l8WMGTzs3I
— DW News (@dwnews) January 7, 2026
ہلاک ہونے والی 37 سالہ خاتون کی شناخت اس کی والدہ نے رینی نیکول گڈ کے نام سے کی،مقامی میڈیا کے مطابق وہ خود کو ایک آئینی مبصر قرار دیتی تھیں۔
آئی سی ای کے مطابق رینی گڈ نے اپنی ایس یو وی گاڑی کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے ایک اہلکار کو کچلنے کی کوشش کی۔ اہلکار نے جان کے خطرے کے پیش نظر 2 فائر کیے، جن میں سے ایک گولی خاتون کے سر میں لگی اور وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گئیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جس میں ایک گاڑی کو آئی سی ای اہلکار سے ٹکراتے اور فائرنگ کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:معروف انفلوئنسر لائیو اسٹریمنگ کے دوران چل بسا
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اہلکار نے اپنے دفاع میں فائرنگ کی اور یہ واقعہ بائیں بازو کے شدت پسند عناصر کی جانب سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ زخمی اہلکار اسپتال میں زیر علاج ہے اور صحتیاب ہو رہا ہے۔
منیاپولس پولیس کے مطابق خاتون سڑک بند کیے ہوئے تھی اور جب ایک اہلکار نے گاڑی کے قریب جانے کی کوشش کی تو وہ وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہی تھی، جس دوران فائرنگ ہوئی، پولیس کا بیان صدر ٹرمپ اور آئی سی ای کے مؤقف سے مختلف ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے پہلے آئی سی ای کی گاڑیوں پر برف کے گولے اور دیگر اشیا پھینکیں، جس پر اہلکاروں نے ہجوم منتشر کرنے کے لیے کیمیکل شیل استعمال کیے۔
واقعے کے بعد مقامی پولیس اور ایف بی آئی نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں، یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب منیاپولس میں امیگریشن کے خلاف کارروائیاں تیز کی جا رہی ہیں۔
منی سوٹا کے گورنر ٹِم والز کو واقعے پر بریفنگ دی گئی، جبکہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کی وزیر کرسٹی نوئم نے واقعے کو گھریلو دہشتگردی قرار دیا۔
منیاپولس کے میئر جیکب فری نے اس واقعے کا ذمہ دار آئی سی ای کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ کبھی پیش نہیں آنا چاہیے تھا، انہوں نے کہا کہ آئی سی ای کی موجودگی شہر میں افراتفری اور عدم اعتماد کو جنم دے رہی ہے اور مطالبہ کیا کہ وفاقی اہلکار شہر چھوڑ دیں۔
مزید پڑھیں:سائنس فکشن فلموں جیسا موبائل فون آگیا، خصوصیات،قیمت جان کر حیران رہ جائیں گے
میئر کا کہنا تھا کہ شہر ٹرمپ انتظامیہ کو فوجی مداخلت کا جواز فراہم نہیں کرے گا اور نفرت کے جواب میں اتحاد اور محبت کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
This morning, an ICE agent murdered a woman in Minneapolis—only the latest horror in a year full of cruelty.
— Mayor Zohran Kwame Mamdani (@NYCMayor) January 7, 2026
As ICE attacks our neighbors across America, it is an attack on us all. New York stands with immigrants today, and every day that follows.
نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ واقعہ ایک ایسے سال میں پیش آنے والا تازہ ترین سانحہ ہے جو پہلے ہی بے رحمی اور تشدد سے بھرپور رہا ہے۔
انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ’ایکس‘ میں اپنی ایک پوسٹ کے ذریعے کہا ہے کہ امریکا بھر میں آئی سی ای کی جانب سے تارکینِ وطن کے خلاف کی جانے والی کارروائیاں دراصل پورے معاشرے پر حملہ ہیں، اور یہ کہ ایسے اقدامات ملک میں خوف اور عدم تحفظ کو بڑھا رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ نیویارک ریاست آج بھی اور آئندہ بھی تارکینِ وطن کے ساتھ کھڑی رہے گی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گی۔