روس سےتیل خریدنے کی پالیسی نے بھارت کو مغربی ممالک سے دور کر دیا ہے، سلیم بخاری

Aug 08, 2025 | 00:50:AM
روس سےتیل خریدنے کی پالیسی نے بھارت کو مغربی ممالک سے دور کر دیا ہے، سلیم بخاری
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(فرخ احمد)سینئر تجزیہ کار سلیم بخاری نے امریکی صدر کی جانب سے بھارت پر50 فیصد ٹیرف  کو  امریکی صدر کامودی   پر بڑا معاشی،سیاسی  اور سفارتی وارقرار دیتے ہوئے کہاہے کہ روس سے سستا تیل خریدنے کی پالیسی نے بھارت کو مغربی ممالک سے دور کر دیا ہے۔ 

پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹرمپ تاش کے پتوں کی طرح کھیل رہے ہیں،دوسرے لفظوں جواء کھیل رہے ہیں، انڈیا کے ساتھ جو تعلقات  میں تلخی آگئی ہے اس کے پس پردہ حقائق کچھ نہ کچھ ضرور ہیں اور مودی کی جانب سے جو رد عمل ظاہر کیا گیا  ہے،انہوں نے بتایا  کہ اس کی دو وجوہا ت ہیں ایک تو انڈیا کی اکانومی بہت مضبوط ہے دوسرا انڈیا خود بہت بڑی مارکیٹ ہے اس کی قیادت کی طرف سےجو گفتگو کی جارہی ہے کہ ہم روسی تیل خردینا بند نہیں کریں گے بیشک مودی کی اپوزیشن نے تو بینڈ بجا دی ہوئی ہے لیکن وہ چپ ہیں کیوں چپ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن یہ کہتی ہے کہ ان کی ایک نشیبی ڈیل ہے جس کی وجہ سے وہ چپ ہیں لیکن اس کی صرف یہ وجہ نہیں ہے،ایک تو یہ کہ بہار کے الیکشن سر پر ہیں اور وہ اپنے اپ کو ایک مضبوط پوزیشن پر کھڑا کررہے ہیں کہ دیکھیں میں نے امریکہ بہادر کے سامنے پوزیشن لی ہے اور دوسرا  جنرل الیکشن بھی آنے والا ہے۔ 

 سلیم بخاری نے کہا کہ امریکی صدر نے بھارت کی جانب سے روسی تیل کی مسلسل خریداری پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا ہے کہ بھارت کو اس فیصلے کی قیمت چکانی پڑرہی ہے،ایک سوال  کے جواب میں کہ ابھی صرف 8 گھنٹے ہوئے ہیں، دیکھیں آگے کیا ہوتا ہے،آپ کو مزید سخت پابندیاں دیکھنے کو ملیں گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف شروعات ہے!انہوں نے کہا کہ امریکی حکام نے عندیہ دیا ہے کہ بھارت پر نہ صرف اضافی ٹیرف بلکہ ممکنہ طور پر مالی جرمانے اور دیگر تجارتی رکاوٹیں بھی عائد کی جائیں گی۔ بھارت میں اس فیصلے کے بعد معاشی بےچینی بڑھ گئی ہے تاکہ مودی کو ٹف ٹائیم دیا جائے اور اپنی شرائط پر امادہ کرنےکی کوشش کی جائے۔

سلیم بخاری نے روس یوکرین جنگ کے حوالے سے کہاکہ ٹرمپ آئندہ ہفتے روسی صدرپیوٹن سے ذاتی طور پر ملنے کے خواہش مند ہیں اور  یہ ملاقات بہت اہمیت کی حامل ہے ہو سکتا  ہے کہ اس میں یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی پر بھی پیش رفت ہو۔

کیا ایران کے  جوہری اثاثے محفوظ ہیں؟

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس بیان پر ایران کی جوہری صلاحیت ختم ہوگئی، مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک معاہدات ابراہیمی میں شامل ہوجائیں، ان کے لیے بہت اہم ہے کہ  تمام مشرق وسطیٰ کے ممالک  معاہدات ابراہیمی میں شامل ہوجائیں پر انہوں نے کہا کہ  یہ ان  کی دیرینہ خواہش ہے لیکن ایسا ہوتا نظر نہیں آتا  کیونکہ سعودی عرب  نے بھی سٹیند لیا ہو ا ہے اور کوئی بھی ملک یا حکومت یا لیڈر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔

امریکی صدر نے اپنے پیغام میں دعویٰ کیا کہ معاہدات ابراہیمی میں  مشرق وسطیٰ کے ممالک کے شامل ہونےکے بعد خطے میں امن یقینی ہوجائےگا،اس سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ اتنی بر بریت کے بعد بھی اگر وہ یہ توقع کریں کے اہل غزہ کو نکال کر اپنی حکومت  بنا سکتا ہے تو یہ ناممکن ہے۔

یہ بھی پڑھیں : آپریشن سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینا چاہیے، نیازاللہ نیازی