جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایرانی عوام میں جشن،فتح کے نعرے ،امریکی، اسرائیلی پرچم نذر آتش
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے اچانک اعلان کے بعد تہران کی سڑکوں پر ایک غیر معمولی صورتحال دیکھنے میں آئی ہے۔
بدھ کی صبح جیسے ہی ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن سے جنگ بندی اور امریکا کی پسپائی کا اعلان کیا گیا، شہریوں کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی۔ جہاں ایک طرف حکومت کے حامی مظاہرین فتح کے نعرے لگا رہے تھے، وہیں دوسری جانب ایک طبقہ اس معاہدے کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔
مظاہرین کے ایک گروہ نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور ان کے پرچم نذرِ آتش کیے۔ مظاہرین کو پرامن رکھنے کے لیے منتظمین نے کوششیں کیں، لیکن عوام کا جوش و خروش کم نہ ہوا۔
"Iranians in the capital Tehran celebrate the declaration of victory over America" pic.twitter.com/volM3JJ06Z
— China in English (@En_chinaNews) April 8, 2026
سڑکوں پر موجود لوگوں کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اس جنگ بندی کو تسلیم کر لیا ہے تو ہم بھی اس فیصلے پر راضی ہیں، کیونکہ ہمیں اپنے لیڈر کی بصیرت پر مکمل اعتماد ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہبازشریف کاجنگ بندی کاخیرمقدم، فریقین کو بات چیت کیلئے اسلام آباد مدعو کرلیا
تاہم، بہت سے شہریوں نے امریکا پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کبھی بھی قابلِ اعتبار نہیں رہا، کیونکہ ماضی میں بھی مذاکرات کے دوران حملے کیے گئے ہیں۔
عاجل | الإيرانيون في العاصمة طهران يحتفلون بإعلان انتصار الجمهورية الإسلامية على العدوان الأمريكي-الإسرائيلي pic.twitter.com/prAq5OKHlB
— إيران بالعربية (@iraninarabic_ir) April 7, 2026
ان مظاہرین کا خیال تھا کہ شاید یہ جنگ بندی صرف اسرائیل کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے وقت فراہم کرنے کا ایک طریقہ ہو سکتا ہے۔
شہریوں کے اس ہجوم میں کچھ لوگ حیران بھی نظر آئے۔
تہران کی ایک خاتون نے سڑک کنارے لگے ایک بڑے اشتہاری بورڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ اس بل بورڈ پر تو لکھا ہے کہ آبنائے ہرمز ہر صورت بند رہے گی، تو پھر اب اسے کیوں کھولا جا رہا ہے؟
یہ سوال ان بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں تھا جو گزشتہ کئی دنوں سے ایک بڑی جنگ کی تیاریوں کی خبریں سن رہے تھے۔
اگرچہ سرکاری سطح پر اسے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، لیکن عوام کی گفتگو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ اب بھی اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ یہ سکون عارضی ہو سکتا ہے۔