پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینا کتنا خطرناک؟

Oct 07, 2025 | 14:18:PM
پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینا کتنا خطرناک؟
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: گوگل
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز)ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینا صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس میں موجود مائیکرو پلاسٹک کے ذرات جسم کے لیے نقصان دہ ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق، عام لوگ ہر سال تقریباً 39 سے 50 ہزار مائیکرو پلاسٹک کے ذرات اپنے جسم میں داخل کرتے ہیں، جب کہ وہ لوگ جو زیادہ تر پلاسٹک کی بوتلوں کا پانی پیتے ہیں، ان کے جسم میں یہ تعداد 90 ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک کے یہ ذرات اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ انہیں انسانی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں، ان کا سائز ایک مائیکرون سے 5 ملی میٹر تک ہوتا ہے، جب کہ نینو پلاسٹک اس سے بھی زیادہ باریک ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیں:رواں سال پاکستان میں شدید سردی کی پیشگوئی

ماہرین کے مطابق سورج کی روشنی اور درجہ حرارت کی تبدیلی کے دوران پلاسٹک کی بوتلوں سے یہ ذرات پانی میں شامل ہو جاتے ہیں کیونکہ اکثر بوتلیں کم معیار کے پلاسٹک سے تیار کی جاتی ہیں،ماہرین  کے مطابق مائیکرو پلاسٹک کے یہ ذرات خون کے ذریعے جسم کے مختلف اعضاء تک پہنچ سکتے ہیں اور دائمی سوزش، ہارمونز میں خلل، تولیدی مسائل، اعصابی کمزوری اور کینسر جیسے امراض کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مائیکرو پلاسٹک کے طویل مدتی اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ اب تک ان کے نقصانات کو مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا،انہوں نے مشورہ دیا کہ پلاسٹک کی بوتل سے پانی پینا صرف ہنگامی حالات میں ٹھیک ہے، لیکن روزمرہ زندگی میں اس عادت کو معمول بنانا صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔