حماس کو شرائط پر مجبور کیا جارہا ہے جن کو مانے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں ؛سلیم بخاری
Stay tuned with 24 News HD Android App
(فرخ احمد)سینئر صحافی وتجزیہ کار سلیم بخاری نے کہاہے کہ حماس کو شرائط پر مجبور کیا جارہا ہے جن کو مانے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں،انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ان مزاکرات میں سے منافقت کی بو اس لیے آرہی ہے کیوں ایسا کہا مزاکرات کس سے ہور ہے ہیں حماس سے اور کون کر رہا ہے اسرائیل اور امریکہ اور غزہ میں حماس کا کوئی رول نہیں اس سے بڑی منافقت کیا ہو سکتی ہے۔
24نیوز کے پروگرام ’’سلیم بخاری شو ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ شرم الشیخ دنیا کا بڑا شہر ہے جو کہ اس لیے مشہور ہے کہ وہاں پر بڑے بڑے کنونشنز ہوتے ہیں چاہے وہ تجارتی ہوں،تعلیمی ہوں یا بین القوامی فورم ہوں، یہ شہر بنا ہی اسی لیے ہے اور اس شہر کی وجہ شہرت ہی یہ بہت بڑے بڑے کنونشن سینٹرز ہیں جس میں بڑی تعداد میں لوگ شرکت کر سکتے ہیں۔
مذاکرات آج مصر کے شہر شرم الشیخ میں ہونے کا اعلان کیا گیا ہے،اسرائیلی وفد بھی مذاکرات کے لیے آج مصر کے شہر شرم الشیخ روانہ ہوگا،بالواسطہ مذاکرات کے لیے خلیل الحیہ کی قیادت میں حماس وفد بھی مصر پہنچ رہا ہے، فلسطینی مذاحمتی تنظیم یرغمالیوں کی رہائی سمیت معاہدے کے دیگر نکات پر بات چیت کے لیے تیار ہے ۔
سلیم بخاری نے کہا کہ جس پارٹی سے آپ مذاکرات کر رہے ہیں جس حوالے سے مذاکرات کر رہے ہیں اس کا رول کوئی نہیں ہوگا،اس کو کیا نام دیا جائے،انہوں نے کہا کہ حماس کو گھیر کر اس طرح مجبور کیا جا رہا ہے اور ان شرائط پر مجبور کیا جارہا ہے جن کو مانے بغیر کوئی چارہ ہی نہ ہو،اب حماس یہ کہ رہی ہے کہ ہم نے بین الاقوامی نگرانی میں ہتھیار دینے پر اتفاق کیا ہےہم نے اسرائیلیوں کی لاشیں اکٹھی کرنا شروع کر دی ہیں ، مشن کو مکمل کرنے کے لیے بمباری روکنا ہوگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے ایک حصے کے طور پر حماس کا کہنا ہے کہ ہم نے اسرائیلیوں کی لاشیں جمع کرنا شروع کر دی ہیں اور مصر کے ذریعے مشن کو مکمل کرنے کے لیے مخصوص علاقوں میں فضائی بمباری روکنے کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ زندہ یرغمالیوں کی حوالگی ایک مرحلے میں ہوگی،اس معاملے میں امریکی لچک کے تناظر میں لاشوں کی حوالگی میں کچھ وقت لگے گا۔
سینئر تجزیہ کار نے کہا کہ تحریک حماس کو قطر کے ذریعے امریکی ضمانتیں ملی ہیں جس میں غزہ کی پٹی سے اسرائیلیوں کے مستقل انخلاء کی شرط رکھی گئی ہے،انہوں نے تصدیق کی کہ حماس نے بین الاقوامی نگرانی میں فلسطینی-مصری کمیٹی کو ہتھیار دینے پر رضامندی ظاہر کی اور امریکہ کو اس کی منظوری سے آگاہ کیا۔
اسرائیلی آرمی چیف کے حماس سے مذاکرات ناکام ہونے کے بیان پرسلیم بخار ی نے کہا کہ اسرائیل جارحانہ کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے،ہر میدان میں دشمن کو تباہ کر رہا ہے اور پورے مشرق وسطیٰ میں حقیقت بدل رہا ہے۔
اس سے قبل امریکی صدر نے بھی دھمکی دی تھی کہ اگر حماس نے غزہ کا کنٹرول چھوڑنے سے انکار کیا تو اس کا مکمل خاتمہ کردیا جائےگا،یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اور حماس میں بقیہ یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات ہونے جا رہے ہیں تو کیا ان حالات میں مذاکرات کامیاب ہو نے کے امکانات کتنے فیصد ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قطر نے حماس کو ضمانت دی ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں اسرائیلی فوج کا انخلا ہو جائے گا۔کیا اس ضمانت پر یقین کی جاسکتی ہے بخاری صاحب نے کہا کہ جس قسم کے معافی نامے ہوئے ہیں امید کی جاسکتی ہے کہ اس بار اسرائیل ایسی کوئی حرکت نہیں کرے گا۔
بھارت کی ایک اور آپریشن کی دھمکی۔۔سندور مٹانے کا وقت دوبارہ آ گیا؟
بھار تی آرمی چیف کے اس بیان پر سلیم بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے تو یہ شخص ایک جوکر لگتا ہے جوکر ہی کہنا بے جا نہ ہوگا کیونکہ ابھی چار مہینے پہلے تو ان کو شکست فاش ہوئی ہے،وہ اس شکست کو بھول کیسے گئے ہیں لیکن یہ جو دوبارہ ہل چل شروع ہوئی ہے اس کی وجہ دیر میں سمجھ آئی انہوں نے پہلگام میں کیا اس کی وجہ بہار میں الیکشن ہونے والے تھے لیکن منہ کی کھانی پڑی کیونکہ دنیا کو یہ دہشت گردی ثابت نہ کرسکے اور پھر پاکستان پر حملہ کرے ان کو منہ کی کھانا پڑی ۔اب پھر الیکشن نزدیک ہیں اور وقت کم ہے تو مودی وہی پرانا فارمولا دھرانا چاہتے ہیں۔لیکن مودی اب یہ بھول گئے ہیں کہ وہا ں کے لوگ اب اچھی طرح سے سمجھ گئے ہیں کہ بھارت کو جنگ میں شرمنا ک شکست کی وجہ سے پوری دنیا میں کس قدر جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پنجاب اور سندھ کی سیاسی لیڈر شپ کا ٹکراؤ پرفارمنس پر یا ذاتی انا پر ؟
اس پر اپنی رائے دیتے ہوئے سلیم بخاری نے کہا پی ٹی آئی کی موجودہ صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیپلز پارٹی یہ کو شش کر رہی ہے وہ سیکنڈ لارجسٹ پارٹی بن کر پارلیمنٹ اور ملکی سیاست میں اپنا رول پلے کرے چناچہ اب وہ کوشش کر رہی ہے کہ حکومت وقت کو ٹف ٹائم دے اور اپنے اپ کو اپو زیشن ثابت کرے۔
دوسر ی بات دونوں پارٹیوں کو کشمش کی ہے تو سندھ اور پنجاب حکومت میں کشیدگی پر صدر زرداری متحرک، وزیر داخلہ کو فوری طلب کرلیااور امید کی جارہی ہے کہ صدر آصف علی زرداری ہمیشہ کی طرح اپنی سیاسی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے اس مسئلے کو اچھے طریقے سے حل کر لیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی اور قومی کرکٹرز کی ابرار احمد کی دعوت ولیمہ میں شرکت