74 ارکان کے دستخط کے بعد ہمارا اپوزیشن لیڈر ہونا چاہیے، بیرسٹر گوہر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24نیوز)چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ ہم نے سپیکر کو کہا کہ رولز کے مطابق ریکوزیشن جمع کرچکے ہیں، لیڈر آف اپوزیشن ان افراد کا حق ہے جو اپوزیشن بینچز پر بیٹھتے ہیں۔
سپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کے بعد بیرسٹرگوہر نے مزید کہا کہ عددی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے 74 ارکان کے دستخط کے بعد ہمارا اپوزیشن لیڈر ہونا چاہیے،سپیکر نے ہمیں کہا کہ اپوزیشن لیڈر کا معاملہ عدالت میں تھا۔
انھوں نے کہا کہ سپیکر نے بتایا سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس آیا ہوا تھا،سپیکر نے کہا جوں ہی سپریم کورٹ سے کاپی موصول ہوتی ہے تو اس پر پیشرفت ہوگی۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے سپریم کورٹ سے کاپی لے کر سپیکر آفس پہنچائیں، ہم نے کہا کہ پیر تک سپیکر آفس میں سپریم کورٹ سے کاپی لاکر جمع کروائی جائے گی، پیر تک اپوزیشن لیڈرکی تعیناتی کا عمل مکمل ہوجائے گا۔
انکا مزید کہنا تھا کہ آرٹیکل 243 فورسز سے متعلق ہے، اس سے قبل بھی یہ کچھ چیزیں ترامیم کیلئے لائے تھے، جب آرٹیکل 243 سے متعلق مسودہ سامنے آئے گا تو ہی بات کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں:8 نومبر کو عام تعطیل کا اعلان
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں گارنٹی دی گئی تھی کہ صوبوں کا حصہ سابقہ حصے سے کم نہیں ہوگا، این ایف سی ایوارڈ میں گارنٹی تھی کہ اس سے وفاق کمزور نہیں مضبوط ہوگا۔
انھوں نے کہا کہ ایوب خان دور میں آئین مختلف تھا، وہاں ایک شخص دو سیٹوں پر بھی اسمبلی میں بیٹھ سکتا تھا، آئین میں ایسی بھی شقیں رہیں کہ بیک وقت ممبر قومی و صوبائی اسمبلی رہ سکتے تھے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ آئین میں ترمیم اتفاق رائے سے ہونی چاہیے نہ کہ اکثریت ہو تو آپ جو مرضی فیصلے کریں، آئین اس لیے اہم ہوتا ہے کیونکہ یہ پوری قوم کا ڈاکیومنٹ ہوتا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا خیبر پختونخوا ہاؤس اہم آفس ہے، وہاں پولیس بھیجنے کی مذمت کرتے ہیں، اگر آپ کو وارنٹ دینا ہے توعدالت کے بیلف کے ذریعے بھی دے سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پڑھے لکھے بیروز گار افراد کیلئے خوشخبری، سرکاری محکموں میں نئی بھرتیوں کا اعلان