پنجاب حکومت بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے جلد آگاہی مہم شروع کرنے کیلئے کوشاں

Jun 07, 2026 | 22:41:PM
پنجاب حکومت بچوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے جلد آگاہی مہم شروع کرنے کیلئے کوشاں
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(24 نیوز )چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا ہے کہ  پنجاب حکومت جلد بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے آگاہی مہمات کا آغاز کرے گی ، حال ہی میں پنجاب حکومت نے کابینہ اجلاس کے دوران بچوں کے حقوق کے حوالے سے پالیسی کی منظوری دی۔

پنجاب حکومت کی جانب سے جلد اس پالیسی کے عملی نفاذ کے لیے ضلعی سطح پر اقدامات اور آگاہی مہمات شروع کیے جانے کا امکان ہے، جس سے صوبے بھر میں بچوں کے حقوق کا تحفظ مزید مؤثر ہو سکے گا۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پنجاب کابینہ نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی جانب سے تیار کردہ چائلڈ پروٹیکشن پالیسی کی منظوری دی ، جسے بچوں کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ایک تاریخی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، اس پالیسی کی منظوری وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں دی گئی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ صوبہ پنجاب میں بچوں کے تحفظ کے لیے ایک جامع پالیسی کو باضابطہ منظوری حاصل ہوئی ہے۔

چائلڈ پروٹیکشن بیورو کی چیئرپرسن سارہ احمد کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت پنجاب کی سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعلیٰ مریم نواز بچوں کے تحفظ کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھتی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ چائلڈ پروٹیکشن پالیسی بچوں کے ساتھ زیادتی، بدسلوکی، تشدد اور استحصال کی روک تھام کے لیے ایک واضح اور مؤثر روڈ میپ فراہم کرتی ہے، جو بچوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

سارہ احمد کے مطابق چائلڈ پروٹیکشن بیورو نے اس پالیسی پر عمل درآمد کے لیے ایک سال قبل کیس مینجمنٹ سسٹم پر کام کا آغاز کر دیا تھا، جب کہ اس پالیسی کا ابتدائی مسودہ دو سال قبل ہوم ڈیپارٹمنٹ کے ذریعے حکومت پنجاب کو ارسال کیا گیا تھا۔ پالیسی کی تیاری میں یونیسیف پاکستان نے تکنیکی معاونت فراہم کی، جس کے باعث اسے بین الاقوامی معیار کے مطابق تشکیل دیا جا سکا۔

 یہ امر قابل ذکر ہے کہ ماضی میں بھی پنجاب میں چائلڈ پروٹیکشن پالیسی بنانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم وہ مختلف وجوہات کی بنا پر عملی جامہ نہ پہن سکیں۔ بعض اوقات سیاسی سطح پر عدم دلچسپی، بجٹ کی کمی، یا ادارہ جاتی تعاون کے فقدان کے باعث ایسی پالیسیاں منظوری کے مراحل سے آگے نہ بڑھ سکیں تاہم اس بار وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی قیادت میں اس پالیسی کو نہ صرف ترجیح دی گئی بلکہ کابینہ کی سطح پر اسے منظور کر کے عملی شکل دی گئی۔

ان کے مطابق یہ پالیسی نہ صرف بچوں کے خلاف جرائم کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو گی بلکہ صوبے میں بچوں کے لیے ایک محفوظ اور معاون ماحول فراہم کرنے کی بنیاد بنے گی۔

یہ بھی پڑھیں :لارڈز ٹیسٹ: انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو 115 رنز سے شکست دے دی