بچے کی گروتھ کا اس کے موٹاپے سے تعلق نہیں:چائلڈ سپیشلسٹ  ڈاکٹر شہرام تبسم

Jan 07, 2026 | 15:26:PM
بچے کی گروتھ کا اس کے موٹاپے سے تعلق نہیں:چائلڈ سپیشلسٹ  ڈاکٹر شہرام تبسم
کیپشن: فائل فوٹو
سورس: 24نیوز
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

 ( ویب ڈیسک ) معروف چائلڈ سپیشلسٹ  ڈاکٹر شہرام تبسم نے کہا ہے کہ والدین کو صحت مند بچے ہی پسند ہوتے ہیں،ان کا خیال ہے کہ  بچہ جتنا موٹا ہوگا اتنا ہی صحت مند ہے ،لیکن ایسانہیں  ہے بچے کی گروتھ   کا اس کے  موٹاپے   سے تعلق نہیں ہے

24نیوزکے پروگرام’’مارننگ ود فضا‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے چائلڈ سپیشلسٹ  ڈاکٹر شہرام تبسم  نے کہا کہ بچے کی ذہنی اور  جسمانی  گروتھ ہوتی ہے  جس  میں دیکھا جاتا ہے کہ بچہ اپنی عمر کے مطابق  ذہنی طور کتنا  مستعد  ہے  ،  وہ دوسروں کے ساتھ کیسے  بات چیت کرتا ہے ، باہمی تعلقات  اور رویے میں کیسا ہے  لیکن فزیکل گروتھ  میں دیکھا جاتا ہے کہ عمر کے مطابق  بچے کا قد کتنا ہے ، وزن کتنا ہے  ،  اگر وزن اور  قد ٹھیک ہے  تو پریشانی والی کوئی بات نہیں کیونکہ   اس کا انحصار انکی نیوٹریشن ، ماحول  سے ہے ۔

چائلڈ سپیشلسٹ  ڈاکٹر شہرام تبسم کے مطابق مائیں فکر مند رہتی ہیں کہ بچہ کچھ کھاتا نہیں ، بچوں کو زبردستی  کچھ نہ کھلائیں اس سے بچے کا وزن بڑھ جاتا ہے  ، وزن بڑھنا بھی خطرے والی بات ہے  ،  بچے کا بی ایم  آئی    ٹیسٹ   بھی ہوتا ہے۔

ڈاکٹر شہرام تبسم نے کہا کہ عام طور  پر جب بچے کا وزن پیدائش کے وقت تین ، ساڑھے تین کلو تک ہوتا ہے ، ایک سال کی عمر تک بچے کا وزن 10 کلو ہوتا ہے ،  پہلے سال بچے کا وزن  زیادہ بڑھتا ہے  اسکے بعد یہ رفتار کم ہو جاتی ہے ، چار سال کے بعد   بچے کو عمومی وزن 12 کلو تک ہونا چاہیے  ،  جو بچپن میں موٹے ہوتے ہیں ان کا بڑے ہو کر موٹے ہونے کا چانس زیادہ ہوتا ہے ، اور ان میں موٹاپے کی بیماریاں  ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

چائلڈ سپیشلسٹ  ڈاکٹر شہرام تبسم نے کہا کہ بچے کی  گروتھ  شکم مادر میں  ہوتی ہے  اس لئے ماں کی نیوٹریشن  ضروری ہے  ، اچھی خوراک  ضروری ہے ، جو مائیں اچھی خوراک  کھاتی ہیں انکے بچے   کی گروتھ بہتر  ہوتی ہے۔

ڈاکٹر شہرام تبسم نے کہا  کہ بچوں کی فزیکل ایکٹوٹی بڑھائیں ،  موبائل یا سکرین ٹائم  زیادہ ہے ، گراؤنڈ  میں کم جاتے ہیں ، بچوں میں وٹامن ڈی یا کیلشیم کی کمی   ہے تو اُسکی علامات کیسے ظاہر ہو ں ۔

انہوں  نے کہا کہ  بچے میں  وٹامن دی کی کمی ہے تو اس میں آئرن ، میگنیشیم کی بھی کمی ہو گی ، وٹا من ڈی کا اثر   صرف ہڈیوں پر نہیں ہوتا ، سکن ، تھائیرائیڈ ، لنگز پر بھی اس کا اثر ہوتا ہے ،  وٹامن ڈی کی کمی سے  کیلشیم  جذب نہیں ہوتا  ہڈیاں کمزور رہ جاتی ہیں ، موٹے بچوں میں بھی غذائیت کی کمی ہوتی ہے  ، بچہ سست ہے  ، کمزور ہے دلچسپی نہیں لیتا  تو یہ  اسکی بیماری بھی ہو سکتی ہے ، ہائپو تھائیرائید  بھی ہو سکتا ہے ، بچے کی  تشخیص یا علاج ضروری ہے  ۔

 چائلڈ سپیشلسٹ  ڈاکٹر شہرام تبسم نے کہا کہ  آیوڈین کی کمی سے  تھائیرائیڈ ہوتا ہے ، بعض اوقات  پورا آیوڈین  لینے کے باوجود تھائیرائیڈ نہیں بن رہا ہوتا اس سے بچے کی ذہنی گروتھ اور قد پر بھی اثر ہوتا ہے  ، بچوں کو قبض ہوتی ہے ، آئرن  کے سیرپ خود سے نہیں پلانے چاہیں ، ڈائٹ پر توجہ دینی ضروری  ہے ، فریش سبزیاں ، تازہ دددھ ، گوشت  روزانہ آتا تھا مگر اپ پراسیس فوڈ  کھاتے ہیں متوازن غذا  بچوں کو دیں۔

 ڈاکٹر شہرام تبسم نے کہا کہ کیلشیم کی کمی پوری کرنے کیلئے   بچوں کیلئے دودھ ضروری ہے    چھ ماہ تک بچے کو ماں کا دودھ پلائیں  مگر دودھ مکمل غذا نہیں ہے   بچے کو   دوسری غذا بھی دینی چاہیے ،  بچے کا قد نہیں بڑھ رہا یا  ہڈیاں ٹیڑھی  ہو رہی ہیں ، تو وٹامن ڈی کی کمی ہو سکتی ہے ، اس میں وٹامن کے ٹو بھی بہت اہم ہے ۔

چائلڈ سپیشلسٹ  ڈاکٹر شہرام تبسم نے کہا کہ  بچوں کی نیند بھی انکی گروتھ کے لئے بہت اہم ہے ، کچھ ہارمونز زایسے ہوتے ہیں جو نیند کے دوران ہی آتے ہیں  اگر سلیپ ہائی جین ٹھیک نہیں تو  اس کا قد چھوٹا رہ سکتا ہے  اس کی  یادداشت متاثر ہو سکتی ہے ، ماں باپ  اگر موبائل دیکھ رہے ہیں تو بچہ کبھی موبائل نہیں  چھوڑتا ، اگر والدین فزیکل ایکٹوٹی کر رہے ہیں تو وہ بھی  اس میں دلچسپی لیتے ہیں ، آپ کے سٹریس میں بچے  متاثر ہوتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ بچوں کے ساتھ جو ماں باپ کھیلتے نہیں  ان کی وجہ سے بچوں میں آٹزم ، ضدی پن بڑھ رہا ہے  ، بچوں کو وقت دیں یہی سب سے بڑی  انوسٹمنٹ ہے۔