پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہر ہفتے مقرر ہوں گی، سرکاری ملازم گھر پر رہ کر ڈیوٹی کریں گے، اہم فیصلے ہوگئے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم کی تیزی سے بدلتی صورتحال کے پیش نظر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے پندرہ دن کی بجائے ہر ہفتے نئے تعین کی منظوری دیدی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پیٹرولیم مصنوعات کے سٹاک، سپلائی اور کنزمپشن پر کمیٹی کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر خزانہ اورنگ زیب نے خود پٹرولیم مارکیٹ کی صورتحال اور پاکستان میں پٹرولیم پروڈکٹس کے سٹاکس، سپلائی، کنزمپشن اور قیمتوں کے متعلق بریفنگ دی۔
ذمہ دار حکومتی ذرائع نے بتایا کہ کمیٹی نے پیٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے تعین کے بارے میں سفارشات پیش کیں جنہیں وزیراعظم شہباز شریف نے منظور کرلیا۔
حکومتی ذرائع نے بتایا کہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) پیٹرولیم مصنوعات کی ہفتہ وار قیمتوں کے بارے میں سفارشات پیش کرے گی۔ ای سی سی سے منظوری کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کی سمری کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی جب کہ تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس اور ٹیچرز کی جسمانی حاضری کی بجائے ورچوئل نظام تعلیم اور سرکاری دفاتر میں انٹرنیٹ کے ذریعہ "ورک فرام ہوم" انتظامات کاپلان پیرکو پیش کرنےکی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعظم نے دفاتر آنے کی بجائےگھر سے کام کرنے کے منصوبہ کی تحریری تجویز مانگ لی
وزیراعظم نے وزیر خزانہ کو صوبوں سے مشاورت کرنے کے بعد پیر کو "ورک فرام ہوم"انتظامات کے بارے میں تحریری تجویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حکومت کو یقین ہے کہ ان اقدامات سے ایندھن کا سٹاک کفایت کے ساتھ استعمال کرنے میں مدد ملے گی اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کم ہو جانے سے پٹرول اور ڈیزل کی طلب میں کمی ہوسکے گی۔
ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے: وزارت پیٹرولیم
آج جمعہ کے روز ہونے والے اس اہم اجلاس کااعلامیہ جاری کردیا گیا ہے۔ اعلامیہ میں بتایا گیا ہے کہ وزارت پیٹرولیم نے بریفنگ میں بتایا کہ ملک میں پٹرول، ڈیزل کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔
اس موقع پر وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کریں، جو پیٹرول پمپ مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ملوث ہو، اس کو فورا بند کیا جائے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اوگرا مصنوعی قلت پیدا کرنے میں ملوث پیٹرول پمپ کا لائسنس منسوخ کرکے قانونی کارروائی کرے جب کہ وزیر پیٹرولیم صوبوں کا دورہ کریں، وزیرپیٹرولیم صوبائی حکومتوں کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی بچت اور عوام کو بلاتعطل فراہمی سے متعلق لائحہ عمل تیار کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حرکت سے متعلق ڈیش بورڈ بنایا جائے، ڈیش بورڈ کے ذریعے صوبوں کے ساتھ رئیل ٹائم میں ڈیٹا شیئر ہو، ڈیش بورڈ کے ذریعے پیٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل کی نگرانی کی جائے۔
نئے انتظامات کی مزید تفصیلات
وفاقی حکومت نے آبنائے ہرمز کی بندش اور ممکنہ توانائی بحران کے تناظر میں درآمدی پٹرولیم مصنوعات اور آرایل این جی کی طلب کم کرنے کے لیے مرحلہ وارتوانائی کی بچت کے منصوبے اور قیمتوں کے نئے طریقہ کار کو حتمی شکل دے دی ہے، اس منصوبے کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہر ہفتے عالمی مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق ردوبدل کیا جائے گا۔
پٹرول بچانے کے لئے سرکاری اداروں میں جسمانی سرگرمی کم سے کم کی جائے گی
سرکاری ملازمین کی سڑکوں پر آمد و رفت کم سے کم کی جائے گی۔ سرکاری اداروں کے اجلاس ورچوئل طریقے سے (انٹرنیٹ رابطہ کے ذریعہ) منعقد کیے جائیں گے۔
پہلے مرحلے میں کووڈ 19 وبا کے دوران اپنائے گئے طریقہ کار کی طرز پر تعطیلات کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ حکومت نے اس حوالے سے پہلے، دوسرے اور تیسرے مرحلے پر مشتمل حکمت عملی تیار کی ہے اور تقریباً تین سے چار درجن تجاویز مرتب کی گئیں جو آج جمعہ کو وزیر اعظم شہباز شریف کے سامنے حتمی منظوری کے لیے پیش کی گئیں۔
وزیراعظم نے آج ضروری اقدامات کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد اب علمدرآمد کا آغاز ہو چکا ہے۔
سینئیر سرکاری ذرائع نے جمعرات کو ہی بتا دیا تھا کہ پہلے مرحلے میں حکومت سرکاری شعبے میں ان اقدامات کو نافذ کرے گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں نجی سکولوں، یونیورسٹیوں میں آن لائن اسائنمنٹس کا نظام متعارف کرایا جائے گا۔ اس کے ساتھ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار اضافہ کیا جائے گا۔
جمعرات کے روز خطے میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر پیٹرول کی قیمتوں کی نگرانی کے لیے وزیر اعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں فنانس ڈویژن میں ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیئے: شہباز شریف کا پیٹرولیم مصنوعات کے ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی کا حکم