اسرائیل نے مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ پر پابندی لگانے کا اعلان کر دیا
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز)اسرائیلی انتظامیہ نے حالیہ کشیدگی کے باعث مسجد اقصیٰ میں نمازِ جمعہ کی اجازت نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سول ایڈمنسٹریشن کے سربراہ بریگیڈیئر جنرل ہشام ابراہیم نے جمعرات کو اسرائیلی فوج کے پلیٹ فارم ”المنسق“ پر جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ ایران کی جانب سے اسرائیل اور خطے پر جوابی حملوں کے بعد سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق جمعہ کے روز مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ، مغربی دیوار اور چرچ آف دی ہولی سیپلکر سمیت تمام مذہبی مقامات عبادت گزاروں اور سیاحوں کے لیے بند رہیں گے اور کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو وہاں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔
گزشتہ ہفتے اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادی امریکا نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی، اس سے پہلے عمان دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں ثالثی کر رہا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ایک معاہدہ قریب ہے کیونکہ تہران اس بات پر رضامند ہو گیا تھا کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار افزودہ یورینیم ذخیرہ نہیں کرے گا۔
مزید پڑھیں:ایران میں آپریشن کامیابی سے آگے بڑھ رہا ہے: امریکی وزیرجنگ
اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد ایران نے میزائل حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی ہے،ان حملوں میں اب تک اسرائیل میں 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ ایران میں اسرائیل اور امریکا کی کارروائیوں کے نتیجے میں کم از کم 1230 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس میں میں عام افراد کے داخلے پر پابندی لگا رکھی ہے اور صرف مقامی رہائشیوں اور دکانداروں کو وہاں جانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
مسجد اقصیٰ کے سینئر امام شیخ عکرمہ صبری نے مسجد کی مسلسل بندش پر سخت تنقید کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حکام ہر موقع کو استعمال کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کو بند کر دیتے ہیں اور یہ اقدام کسی بھی طرح درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔
تاہم مسجد اقصیٰ پر پابندیاں ایران کے ساتھ حالیہ جنگ سے پہلے بھی عائد کی جا رہی تھیں، گزشتہ ماہ اسرائیلی حکام نے اعلان کیا تھا کہ رمضان کے پہلے جمعے کی نماز کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے سے صرف 10 ہزار فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخلے کی اجازت دی جائے گی، جبکہ ماضی میں یہاں لاکھوں افراد نماز کے لیے جمع ہوتے رہے ہیں، مسجد اقصیٰ کے احاطے میں تقریباً پانچ لاکھ افراد کے اکٹھا ہونے کی گنجائش موجود ہے۔