نئی دہلی میں کاکروچوں کا احتجاج،بائیں بازو کا شو آف پاور بن گیا، وزیرتعلیم کے استعفے کے مطالبے
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک) نئی دہلی میں پارلیمنٹ کے قریب جنتر منتر پر ہونے والے کاکروچ پارٹی کے پہلے زمینی احتجاج میں ہزاروں نوجوان اور طلبہ کے ساتھ سینکڑوں جنریشن ایکس اور جنریشن میلینیا کے سینکڑوں لوگ بھی شریک ہوئے۔ بھارت کی تمام کمیونسٹ پارٹیوں اور بائیں بازو کی تحریکوں کے کارکنوں نے اس اجتماع میں شرکت کی۔ ابتدا میں پولیس کی جانب سے لگ بھگ 300 مظاہرین کو حراست میں بھی لیا گیا۔بعد میں پولیس نے احتجاج کرنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا کیونکہ ان کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ مظاہرین وزیر تعلیم کے اسےتعفے کا مطالبہ کرتے رہے۔
احتجاج کا پس منظر اور تعداد
آج صبح سات بجے تک نریندر مودی کی وفاقی ھکومت کاکروچ پارٹی کو جنتر منتر آ کر احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی، جب لوگ از خود یہاں جمع ہونے کے لئے چل پڑے تو حکومت اور شہر کی انتظامیہ نے اچانک ہتھیار ڈال دیئے اور صبح دس بجے سے شام پانچ بجے تک دھرنا دینے کی اجازت دے دی۔
اس کے بعد آج دن بھر جنتر منتر کے کھلے سبز میدانوں میں سڑکوں پر ہزاروں کی تعداد میں نوجوان جمع ہوئے جن میں سے بہت سے نوجوانوں کا تعلق بائیں بازو کی تنظیموں سے تھا، بہت سے نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتابیں، بھارتی پرچم تھے۔ کچھ نےچہروں پر کاکروچ کے ماسک اوڑھ رکھے تھے۔ کچھ نے بائیں بازو کا لٹریچر تصور کی جانے والی کتابیں ہاتھوں میں اٹھا رکھی تھیں۔ احتجاج میں دانشور، پروفیسر، اچھی نوکریاں کرنے والے، میوزیشن، رائٹر سبھی لوگ شامل تھے۔

دہلی پولیس نے سیکیورٹی اور بیریکیڈز کا سخت انتظام کر رکھا تھا اور احتجاج کے دوران ابتدا میں تقریباً 300 "کاکروچز" (مظاہرین) کو حراست میں لیا گیا۔
سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی پوسٹوں کے مطابق بھارت کے کمیونسٹ دہلی کے جنتر منتر میں کاکروچوں کے مظاہرے کو رومینٹیسائز کر رہے ہیں۔
بھارت کے کمیونسٹوں نے آج نئی دہلی میں کاکروچوں کے ساتھ یکجہتی کا باقاعدہ اعلان ہی نہیں کیا بلکہ خود احتجاج میں پہنچ کر جنتر منتر کو بھر دیا۔ جے بھیم کے نعرے لگے، ہلا بول کے گیت گائے گئے اور احتجاج کو مکمل طور پر کمیونسٹوں کے شو میں بدل دیا گیا۔ یہی نہیں بلکہ خود بھی امتحانی نظام میں دھاندلیوں کے ایشو پر ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کر دیا۔
کمیونسٹ پارٹی کی مرکزی طلبہ تنظیم اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (SFI) کی اعلیٰ قیادت نے ذاتی طور پر جنتر منتر میں "کاکروچوں" کے اس ریلی نما مظاہرے میں شرکت کی اور نوجوانوں کے مطالبات کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

کمیونسٹ رہنماؤں کے مطابق، سوشل میڈیا سے نکل کر سڑکوں پر آنے والی یہ مہم دراصل مودی حکومت کی تعلیم کے شعبہ میں اور روزگار فراہم کرنے کے ضمن میں ناکام ہو چکی پالیسیوں کے خلاف ملک کے نوجوانوں اور "جنریشن زی" (Gen-Z) کی مایوسی اور غصے کا عکاس ہے۔
بائیں بازو کی جماعتوں نے بھی کہا ہے کہ بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو NEET پیپر لیک سکینڈل اور امتحانی نظام (NTA) کی بے ضابطگیوں کی وجہ سے فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہیے۔سی پی آئی (ایم) کے آفیشل بیانات میں واضح کیا گیا کہ لاکھوں محنتی طلبہ کے مستقبل کو داؤ پر لگانے والی مودی سرکار سے اب حساب مانگنے کا وقت آ گیا ہے اور "کاکروچ" بن کر سڑکوں پر اترنے والے نوجوانوں کا احتجاج برحق ہے۔

کمیونسٹ پارٹیوں نے صرف تبصروں پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ سٹوڈنتس فیدریشن آف انڈیا SFI نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس تعلیمی بحران اور امتحانی دھاندلی کے خلاف کاکروچ جنتا پارٹی کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ملک گیر سطح پر دستخطی مہم (Mass Signature Campaign) اور بڑے عوامی مظاہرے شروع کر رہے ہیں
کاکروچ تحریک
پچھلے ماہ بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران حکومت پر تنقید کرنے والے بے روزگار نوجوانوں کو "کاکروچ اور طفیلئے" (Parasites) کہا تھا۔ سوشل میڈیا پر بھارتی نوجوانوں نے سیاسی وابستگیوں کو چھوڑ کر چیف جسٹس کے ان ریمارکس پر احتجاج کیا اور بعض نوجوانوں نے اس توہین کا جواب طنز و مزاح سے دینے کے لیے "کاکروچ جنتا پارٹی" بنا ڈالی۔ اس سوشل میڈیا پارٹی میں بعد میں لاکھوں نوجوان شریک ہو گئے۔

جنتر منتر کا احتجاج
آج جنتر منتر پر ہونے والا یہ احتجاج بھارت میں ہونے والے حالیہ امتحانی سکینڈلز (جیسے NEET اور CBSE پیپر لیکس) کے خلاف تھا۔ شرکاء کا بنیادی مطالبہ بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ہے۔
اس احتجاج کی قیادت کاکروچ سوشل میڈیا تحریک کے بانی 30 سالہ ابھیجیت دیپکے کر رہے ہیں، جو امریکہ (بوسٹن یونیورسٹی) سے خصوصی طور پر اس پہلے زمینی مظاہرے کے لیے بھارت پہنچے ہیں۔ اس احتجاج میں مشہور ماحولیاتی اور تعلیمی سماجی کارکن سونم وانگ چک نے بھی شرکت کی۔
سوشل میڈیا پر حکومت کی جانب سے اس پارٹی کا 'ایکس' (ٹویٹر) اکاؤنٹ بلاک کیے جانے کے بعد ڈیجیٹل غصہ سڑکوں پر منتقل ہوا ہے، جسے سیاسی تجزیہ کار مودی حکومت کے خلاف نوجوانوں کی مایوسی کا ایک انوکھا اور جدید اظہار قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے: خاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک، خاتون آغا خان ہسپتال میں زیرعلاج