اوپیک پلس کی پیداوار میں اضافے کے فیصلے کے بعد تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی
Stay tuned with 24 News HD Android App
(ویب ڈیسک)عالمی منڈی میں پیر کے روز خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، جس کی بڑی وجہ اوپیک پلس (OPEC+) کی جانب سے اگست سے تیل کی پیداوار کے ہدف میں مزید اضافے کا فیصلہ اور آبنائے ہرمز کے ذریعے اہم خلیجی ممالک کی تیل برآمدات کی بحالی ہے، جس سے عالمی سپلائی بڑھنے کی توقع ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 24 سینٹ یا 0.33 فیصد کمی کے بعد 71.88 ڈالر فی بیرل پر آ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 11 سینٹ یا 0.16 فیصد کمی کے ساتھ 68.58 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کرتا رہا،اماراتی مربن خام 66 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگیا۔
اوپیک پلس، جس میں روس بھی شامل ہے، نے اتوار کو اگست سے یومیہ 188 ہزار بیرل اضافی پیداوار کے ہدف پر اتفاق کیا، اس سے قبل جون اور جولائی کے لیے بھی اسی نوعیت کے اضافے کا اعلان کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق یہ اضافہ فی الحال عملی طور پر مکمل طور پر سامنے نہیں آ سکا کیونکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی تھی، جس سے سعودی عرب، کویت اور عراق جیسے بڑے برآمد کنندگان کی سپلائی محدود رہی۔
مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سِی کیمور کا کہنا ہے کہ اوپیک پلس کا حالیہ فیصلہ مارکیٹ کی توقعات کے مطابق ہے، تاہم موجودہ حالات میں کئی ممالک ابھی بھی اپنے مقررہ پیداواری اہداف تک نہیں پہنچ سکے، اس لیے اس اضافے کے فوری اثرات محدود رہ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:روس کا یوکرینی دارالحکومت کیف پربیلسٹک میزائلوں سے حملہ،8افراد ہلاک،35زخمی
دوسری جانب خلیجی ممالک نے جنگ کے دوران متاثر ہونے والی تیل کی سپلائی بحال کرنا شروع کر دی ہے، جبکہ جون کے دوران ان کی مجموعی تیل برآمدات مئی کے مقابلے میں 30 لاکھ بیرل یومیہ سے زیادہ بڑھ کر 1 کروڑ بیرل یومیہ سے تجاوز کر گئی ہیں تاہم یہ سطح اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 40 فیصد کم ہے۔
ادھر روس کے مغربی بندرگاہوں سے خام تیل کی برآمدات بھی جون میں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں،ذرائع کے مطابق یوکرین کے ڈرون حملوں سے روسی ریفائنریوں کو نقصان پہنچنے کے باعث ماسکو خام تیل کی برآمدات میں اضافہ کر رہا ہے، اور جولائی میں بھی یہی رجحان برقرار رہنے کی توقع ہے۔