غزہ میں یرغمالی رہنے والے اسرائیلی جوڑے کی شادی ہو گئی
Jul 06, 2026 | 00:53:AM
کیپشن: سکرین شوٹ : ایکس ویڈیو پوسٹ
Stay tuned with 24 News HD Android App
Share
(ویب ڈیسک) اسرائیل کے گاؤں کبوتز نیر عوز سے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے کارکنوں کے ہاتھوں اغوا ہو کر غزہ میں یرغمال رہنے والے دو یرغمالیوں نے آپس میں شادی کر لی۔ سابق یرغمالی ساشا تروفانوف اور سپیر کوہن اب شادی شدہ ہیں۔ غزہ میں تروفانوف کی قید سے رہائی کے تقریباً 17 ماہ بعد آج 5 جولائی کی شام سابق یرغمالی ساشا تروفانوف اور سپیر کوہن کی شادی ہوئی۔
دونوں کو کبوتز نیر عوز سے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے دوران اغوا کیا گیا تھا۔خاتون سپیر کوہن کو تو نومبر 2023 کی جنگ بندی کے دوران دو ماہ بعد قیدیوں کے تبادلے میں رہا کر دیا گیا تھا، لیکن تروفانوف کی رہائی فروری 2025 تک نہیں ہو سکی تھی۔ چار سو دن کی قید سے واپسی پر اسے طویل طبی علاج سے گزرنا پڑا، اس کی ٹانگوں پر گولیاں لگنے سے زخم آئے تھے جن کا غزہ میں حماس کی قید کے دوران علاج نہیں ہو سکا تھا۔
تروفانوف نے اپنی رہائی کے چند ماہ بعد سپیر کوہن کو پروپوز کیا تھا۔
— Documenting Israel (@DocumentIsrael) July 5, 2026
تروناف اور سپیر کوہن کی شادی کی تقریب میں کئی دوسرے سابقہ یرغمالی بھی شامل تھے۔ انہوں نے مہمانوں سے کہا: "میں آج شام کو، اس جذباتی لمحے کو ہمارے ساتھ اس خوشی کو بانٹنے کے لیے آنے کے لیے آپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ ہر قدم پر ہمارے ساتھ رہے ہیں۔ آپ کا بہت بہت شکریہ۔ میں آپ سے محبت کرتا ہوں"۔
Caption حماس کے سابق یرغمالی ساشا تروفانوف اور سپیر کوہن کی یہ فوٹو 9 جولائی 2025 کو ان کی منگنی کے بعد بنائی گئی۔
تروفانوف کی والدہ یلینا اور دادی ارینا تاٹی کو بھی اغوا کر کے غزہ لے جایا گیا تھا اور بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔ اس کے والد ویٹالی 7 اکتوبر کےحملے کے دوران مارے گئے تھے۔
تروفانوف کی رہائی کے فوراً بعد ایک پریس کانفرنس میں، کوہن نے کہا کہ اس نے اسے بتایا کہ تروفانوف نے قید میں دعا کی تھی کہ کوہن کو ایک اور محبت کرنے والا آدمی مل جائے، کیونکہ اسے یقین تھا کہ وہ کبھی گھر نہیں جا پائے گا۔ کوہن نے بتایا کہ تروفانوف نہیں نہیں چاہتا تھا کہ میں ایک ایسے آدمی کا انتظار کروں جوکبھی گھر نہیں آئے گا۔ اسے یقین نہیں تھا کہ وہ زندہ رہے گا۔"