آؤ جاپان چلیں (ساتویں قسط )

حافظ شہباز علی hafee23@gmail.com 

Oct 05, 2025 | 20:31:PM
آؤ جاپان چلیں (ساتویں قسط )
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

18 ستمبر 2025 کو جیولن تھرو کا فائنل شیڈول تھا اور پوری قوم ارشد ندیم کو ایک مرتبہ پھر کامیاب دیکھنے خواہش مند تھی اس روز صبح کے وقت میں نے ارشد ندیم کو وٹس ایپ پر گڈ لک کا میسج کرتے ہوئے لکھا کہ پوری قوم آپ کی کامیابی کے لیے دعا گو ہے اس لیے آج پورے جذبے سے میدان میں اتریں ۔جوابی طور پر ارشد ندیم نے مجھے انشا اللہ کا میسج کیا ۔ اس روز میں ذرا جلدی گھر سے نکلا اور میڈورینو اسٹیشن سے اکھی عبارہ اور پھر یوٹوسایا اسٹیشن سے ہوتا ہوا میں ہوٹل نیو اوٹانی پہنچا تو ہوٹل کی لابی میں اس روز خاصی چہل پہل تھی یہاں صدر اتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان بریگیڈیئر (ر) وجاہت حسین ساہی سے ملاقات ہوئی اور ان سے ارشد ندیم کے ایونٹ کے حوالے سے گفتگو ہوئی ۔

انڈین اتھلیٹکس فیڈریشن کے حکام سے بھی آمنا سامنا ہوا ایک انڈین آفیشل نے کہاکہ میری بات نوٹ کرلیں کہ آج سچن یادیو سرپرائز کرے گا اور یہ لڑکا آنے والے دنوں میں بڑی کامیابیاں حاصل کرے گا۔میرے لیے حیرانگی کی بات تھی کہ  ورلڈ اتھلیٹکس فیڈریشن اس روز 2027 میں ہونے والے اپنے انتخابات کے حوالے سے ایک سیمینار کا اہتمام کر رکھا تھے سمینار میں دنیا بھر سے آئے ہوئے فیڈریشنز کے نمائندے شریک تھے اس سمینار میں دو سال بعد ہونے والے ورلڈ اتھلیٹکس کے انتخابات کے حوالے سے قواعد وضوابط اور روڈ میپ طے کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ اتھلیٹس کمیشن اور دیگر کئی کمیشنز کے ڈائر کار طے کیے گئے اس سیمنار میں ان انتخابات کی اہمیت کے حوالے سے بھی آگاہی دی گئی۔ اس سمینار کے دوران ہی مجھے یوسف مغل کی کال آگئی اور پھر ہم نے کچھ گھومنے پھرنے کا پلان بنایا۔ہوٹل نیو اوٹانی سے ہم ٹوکیو ٹاور یا ٹوکیو ٹری دیکھنے کے لیے گئے ایک طرح سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ٹوکیو ٹاور بالکل شہر کے وسط میں موجود ہے اور یہ ٹاور واقع ہی دیکھنے لائق ہے ،ٹوکیو ٹاور کے بعد ہم نے ٹوکیو کی مختلف عمارتوں اور مقامات کی سیر کی یوسف مغل  مجھے ان عمارتوں کے حوالے سے معلومات دے رہے تھے یہ معلومات حیران کن بھی تھیں اور دلچسپ بھی ٹوکیو کی سڑکوں پر گھومتے پھرتے جب بھوک محسوس ہوئی تو ہم نے ایک ترکش ریسٹورنٹ کا رخ کیا۔ بظاہر یہ چھوٹا سا ترکش ریسٹورنٹ بڑا بارونق تھا کیوں کہ دنیا بھر سے آنے والے مسلم ممالک کے سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی لوگ بھی اس ریسٹورنٹ کے کھانوں کے مداح ہیں اس لیے وہاں خاصی رونق تھی ریسٹورنٹ کا تمام عملہ ترکش نوجوانوں پر مشتمل تھا اور یہ انتہائی خوش اخلاق نوجوان تھے یہاں کھانے کا مزہ دوبالا ہوگیا یہاں پر ترکی سے آئے ہوئے کچھ سیاحوں سے گپ شپ بھی ہوئی ۔ کھانا کھاتے کھاتے ہمیں شام کے پانچ بج گئے جس پر مجھے اب اسٹیڈیم پہنچنے کی جلدی ہوئی میں نے یوسف مغل سے ریکوئسٹ کی مجھے اسٹیڈیم ڈراپ کردے ۔ ارشد ندیم کے جیولن تھرو ایونٹ کے فائنل کے ساتھ ساتھ میرا ٹوکیو میں قیام کا آج آخری روز تھا یوسف مغل کی خواہش مزید گھومنے پھرنے کی تھی مگر مجھے سٹیڈیم پہنچنے کی جلدی تھی اس لیے میں نے ان سے کہا کہ اب ہمیں سٹیڈیم چلنا چاہیے کھانا کھانے کے بعد ہم ٹوکیو کے نیشنل سٹیڈیم پہنچے تو سٹیڈیم کے باہر کچھ پاکستانی باشندوں سے بات چیت ہوئی تو وہ بڑے پرجوش انداز میں ارشد ندیم کو سپورٹ کرنے کے لیے اسٹیڈیم پہنچے تھے اسی طرح اشفاق الرحمن ہاشمی صاحب کے بیٹے اور بھتیجے اور ان کے دوست بھی ارشد ندیم کی کامیابی کے لیے پرجوش  تھے اور دعا گو بھی ۔ میں خود بھی ارشد ندیم کو فائنل میں کامیابی حاصل کرتا دیکھنےکا خواہش مند تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ارشد ندیم 2016  میں جب پہلی مرتبہ قومی چیمپئن بنے تو میں اس وقت سے ان کی ہر قومی کامیابی اور بین الاقوامی ایونٹس کی تیاریوں کو کور کرتا رہا ہوں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ارشد ندیم کے کیرئیر کے تمام اتار چڑھاؤ کا میں عینی شاہد بھی ہوں اور اس کا ایک اہم حصہ بھی اس لیے میری خواہش تھی کہ ارشد ندیم کو ورلڈ چیمپئن شپ میں کامیابی حاصل کرتا دیکھوں۔ 
بہرحال جیولن تھرو فائنل شروع ہوااور ارشد ندیم نے پہلی تین تھروز کے بعد دسویں نمبر پر تھے اور اس مرتبہ قواعد وضوابط میں تبدیلی کے بعد ٹاپ ٹین کو چار تھروز کرنا تھیں اور ارشد ندیم کو چوتھی تھرو کرنے کا موقع ملا مگر بد قسمتی سے وہ تھرو فاول ہوگئی اور ارشد ندیم جن کو اس چیمپئن شپ کے آغاز سے قبل ہارٹ فیورٹ قرار دیا جارہا تھا چار تھروز کے بعد میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے،،، میرے لیے ارشد ندیم کے ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ سے باہر ہونے کی خبر دینا ایک دشوار مرحلہ تھا کیوں گذشتہ چھ سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ جب ارشد ندیم کسی قومی یا بین الاقوامی ایونٹ کے ٹاپ سکس مرحلے میں نہ پہنچے ہوں۔ ارشد ندیم کے بعد اگلے راؤنڈ میں نیرج چوپڑا بھی میڈل کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔۔کیشرون والکوٹ نے گولڈ میڈل اپنے نام کیا جبکہ اینڈریسن پیٹرس نے سلور میڈل جیتا۔۔
ارشدندیم کے میڈل کی دوڑ سے باہر ہونے پر جاپان میں مقیم پاکستانی باشندے انتہائی مایوس تھے ہی یہاں بین الاقوامی میڈیا کے نمائندے اور اتھلیٹکس سے وابستہ لوگ بھی خاصے حیران تھے ۔ بین الاقوامی مبصرین اس بات پر حیران تھے کہ ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ کے فائنل سے 13 ماہ اور آٹھ روز قبل 92.97 میٹر تھرو کرکے اولمپکس ریکارڈ کے ساتھ گولڈ میڈل جیتنے والا ارشد ندیم ایک سال بعد 82 میٹر تھرو تک کیوں اور کیسے آگیا اس ڈرامائی تبدیلی پر ہر کوئی حیران تھا ۔ درحقیقت ارشد ندیم کی ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں حالیہ ناقص کارکردگی کی دو بنیادی وجوہات ہیں ۔ پہلی وجہ توان کی انجری ہے کیوں کہ ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ سے چند ہفتے قبل ہی ارشد ندیم کی پنڈلی کی سرجری ہوئی تھی اور ارشد کے ذہن میں کہیں نہ کہیں اس انجری کا خوف موجود تھا جس وجہ سے ان کی کارکردگی متاثر ہوئی۔ اس حوالے سے کھیلوں سے تعلق رکھنے ماہرین کہتے ہیں اس صورت حال میں عام طور اتھلیٹ خود فیصلہ کرتا ہے کہ اس نے کمپی ٹیشن میں جانا ہے یا کہ نہیں۔ کچھ ماہرین کے خیال میں ارشد ندیم کا سرجری کے بعد  ری ہیب کا عمل مکمل کیے بغیر اور ادھوری فٹنس کے ساتھ ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں جانے کا فیصلہ جذباتی تھا ۔ دوسری وجہ ارشد ندیم کی پیرس اولمپکس کے بعد سے ٹریننگ اور کوچنگ کو قرار دیا جارہا ہے ۔ پیرس اولمپکس کے بعد ارشد ندیم دسمبر تک تو ٹریک سے بالکل دور رہے اور جنوری میں انہوں نے ٹریننگ شروع کی مگر تسلسل سے نہیں ۔ اپریل کے آغاز میں ارشد ندیم تسلسل کے ساتھ ٹریک پر آئے ۔ یہاں ارشد ندیم کے سپورٹ سٹاف یعنی سلمان اقبال بٹ کا کردار انتہائی اہم تھا کہ وہ پیرس اولمپکس کے بعد ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ کو مد نظر رکھتے ہوئے ارشد ندیم کا ٹریننگ پروگرام تشکیل دیتے اور اس پر عمل کرتے مگر ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ جس وقت ارشد ندیم کو عالمی سطح کی ٹریننگ کی ضرورت تھی اس وقت میں ان کے سپورٹ سٹاف نے ان کے لیے کوئی پلان نہیں بنایا جس کا نتیجہ ورلڈ اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں ارشد ندیم کی کارکردگی کی صورت میں سب کے سامنے ہے ۔ 
(جاری ہے)

دیگر کیٹیگریز: بلاگ
ٹیگز: