لاہور سمیت پنجاب بھر میں مسیحی تعلیمی ادارے اقلیت کو واپس کرنے کا مطالبہ

May 05, 2026 | 19:32:PM
لاہور سمیت پنجاب بھر میں مسیحی تعلیمی ادارے اقلیت کو واپس کرنے کا مطالبہ
سورس: Google
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(راو دلشاد )حکومتی رکن اسمبلی فیلبوس کرسٹوفر نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں مسیحی تعلیمی ادارے اقلیت کو واپس کرنے کا مطالبہ کردیا ہے، مریم نواز کی تعلیمی پالیسیوں کے باعث اب تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کے بجائے ان کو دینی تعلیمی دی جا رہی ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کے حکم پر اب سکولوں و کالجز میں اقلیتی طلبہ کو ان کی مذہبی کتابیں پڑھائی جا رہی ہیں۔

 فیلبوس کرسٹوفر نے بتایا کہ گارڈن کالج راولپنڈی ،سینٹ فرانس کالج انار کلی، سینٹ ینتھنی گرلز ہائی سکول، گورنمنٹ رنگ محل ہائی سکول  اور دیگر اضلاع میں قائم اقلیتوں کے تعلیمی ادارے  ہمیں واپس کیے جائیں۔ہمارے ادارے تحویل میں لئے گئے تو یہ ادارے ہمارے ہی تھے جن اداروں پر کوئی مقدمہ بازی نہیں وہ بھی واپس نہیں کئے جا رہے ہیں۔

انھوں نےکہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے دور میں ہماری داد ہو سکتی ہےکئی دہائیوں سے ہمارے مذہبی رہنما ان اداروں کی واپسی کےلیے کام کرتے رہے ہیں۔

ایمانوئیل اطہر نے کہا کہ یہ ادارے ہمارے چرچ کی پراپرٹی ہیں ہمیں واپس کئے جائیں ان کی واپسی سے ہم اسی طریقہ سے خدمت جاری رکھ سکیں،جب سے ہمارے تعلیمی ادارے قومیائے گئے ان میں سہولیات کی شدید کمی دیکھنے میں آئی ، اقلیتوں نے تعلیم و صحت کے میدان میں گراں قدر خدمات سر انجام دیں۔

پارلیمانی سیکرٹری نوشین عدنان  نے کہا کہ محکمہ ہیومن رائٹس کی کمیٹی ایک ماہ میں اقلیتی اداروں کی واپسی کےلیے کام مکمل کرے گی، اقلیتی تعلیمی اداروں کی حوالگی کیلئے جیسے ہی کورٹس سے فیصلہ آئیں گے تو اس پر عمل درآمد کر دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں :راجہ شوکت بھٹی کا پارلیمانی سیکرٹری اسامہ لغاری کے خلاف تحریکِ استحقاق لانے کا اعلان