ماحولیات کا عالمی دن آج ، پاکستان کو درپیش چیلنجز اور ہماری ذمہ داریاں پر ایک نظر
Stay tuned with 24 News HD Android App
(24 نیوز )دنیا بھر میں ہر سال 5 جون کو اقوام متحدہ کے زیر اہتمام عالمی یومِ ماحولیات منایا جاتا ہے، اس دن کے منانے کا مقصد ماحولیاتی آلودگی، موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے حوالے سے عوام میں شعور و آگاہی پیدا کرنا اور ماحول کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنانا ہے۔
ماحولیات انسانی زندگی کی بقا کی بنیادی ضمانت ہے، صاف ہوا، شفاف پانی، سرسبز جنگلات اور متوازن ماحولیاتی نظام نہ صرف انسانی صحت بلکہ معاشی اور سماجی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہیں تاہم صنعتی ترقی، غیر منصوبہ بند شہری توسیع، جنگلات کی بے دریغ کٹائی، فضائی و آبی آلودگی اور پلاسٹک کے بڑھتے استعمال نے دنیا بھر میں ماحول کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
قدرتی نظام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، ایک صحت مند درخت سالانہ اوسطاً 20 سے 25 کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے ماحول کو صاف رکھنے میں مدد دیتا ہے اور آکسیجن فراہم کرتا ہے، جنگلات زمین کے درجہ حرارت کو معتدل رکھنے، بارشوں کے نظام کو متوازن بنانے اور حیاتیاتی تنوع کے تحفظ میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پاکستان اس وقت ماحولیاتی تبدیلیوں اور آلودگی کے سنگین چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے، ملک کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ شدید گرمی کی لہریں، تباہ کن سیلاب، طویل خشک سالی، پانی کی قلت اور خطرناک فضائی آلودگی روزمرہ زندگی کو متاثر کر رہی ہیں۔
فضا میں کاربن گیسوں کی بڑھتی ہوئی مقدار، فوسل فیول کا استعمال، صنعتی اخراج، جنگلات کی کٹائی اور پلاسٹک سے پیدا ہونے والی آلودگی ماحولیاتی بگاڑ کی اہم وجوہات ہیں، ماہرین موسمیات کے مطابق اگر عالمی درجہ حرارت میں اسی رفتار سے اضافہ جاری رہا تو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پر قابو پانا انتہائی مشکل ہو جائے گا۔
2024 دنیا کی تاریخ کے گرم ترین برسوں میں شمار کیا گیا، جبکہ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ طے شدہ حد سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں سیلاب، خشک سالی، جنگلاتی آگ اور دیگر قدرتی آفات کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
پلاسٹک آلودگی: خاموش ماحولیاتی خطرہ
پلاسٹک آلودگی آج دنیا اور خصوصاً پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے, پلاسٹک بیگز اور دیگر مصنوعات نہ صرف زمین بلکہ دریاؤں، نہروں اور سمندروں کو بھی آلودہ کر رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں آبی حیات، زرعی زمینیں اور انسانی صحت شدید متاثر ہو رہی ہے، پاکستان میں پلاسٹک بیگز بنانے والی رجسٹرڈ فیکٹریوں کی تعداد 18 ہزار سے زائد ہے جبکہ لاکھوں افراد کا روزگار اس صنعت سے وابستہ ہے۔
اس کے باوجود پلاسٹک کے بے تحاشا استعمال نے سیوریج نظام کو متاثر کیا ہے اور ماحولیاتی مسائل میں اضافہ کیا ہے، حکومت پنجاب نے گزشتہ برس 5 جون کو سنگل یوز پلاسٹک پر پابندی عائد کی تھی، تاہم اس پر مکمل عملدرآمد اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
تشویشناک حقائق
پاکستان میں جنگلات کا رقبہ صرف 4.8 فیصد ہے جبکہ عالمی معیار کم از کم 25 فیصد ہونا چاہیے، فضائی آلودگی سے متعلق بیماریوں کے باعث سالانہ تقریباً 40 ہزار افراد جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔لاہور، کراچی اور فیصل آباد سمیت بڑے شہروں میں اسموگ کے دوران ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 300 سے 500 تک پہنچ جاتا ہے جو انتہائی خطرناک سطح سمجھی جاتی ہے۔
ملک میں فی کس پانی کی دستیابی کم ہو کر تقریباً 900 کیوبک میٹر سالانہ رہ گئی ہے، جو پانی کی شدید قلت کی نشاندہی کرتی ہے، پاکستان میں سالانہ تقریباً 30 ملین ٹن ٹھوس کچرا پیدا ہوتا ہے، جس کا بڑا حصہ مناسب طریقے سے تلف نہیں کیا جاتا، مون سون بارشوں اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے ہر سال اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔
حکومتی اور سول سوسائٹی اقدامات:
حکومت پنجاب نے گزشتہ دو برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے متعدد اہم اقدامات کیے ہیں، ایک جامع کلائمیٹ ایکشن پلان اور کلائمیٹ پالیسی متعارف کروائی گئی ہے جس کے تحت مختلف محکموں کی ذمہ داریاں واضح کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کلائمیٹ ٹاسک فورس کا قیام اور کلائمیٹ چینج ڈپارٹمنٹ کو مزید فعال بنانے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب سول سوسائٹی تنظیمیں بھی ماحولیاتی تحفظ میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ پنجاب کلائمیٹ ایکشن نیٹ ورک جیسے پلیٹ فارمز پالیسی ایڈووکیسی، ماحولیاتی تعلیم اور عوامی آگاہی کے فروغ میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ بچوں اور نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ کی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے بھی مختلف پروگرام جاری ہیں۔
آگے بڑھنے کا راستہ
ماہرین کے مطابق پاکستان کو ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ درختوں کی شجرکاری مہمات کو وسعت دی جائے، سولر انرجی کے استعمال کو فروغ دیا جائے، پانی کے مؤثر استعمال کے لیے جدید زرعی ٹیکنالوجی اپنائی جائے اور ری سائیکلنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائے۔
اسکولوں میں ماحولیاتی تعلیم کو لازمی مضمون بنایا جانا چاہیے جبکہ نوجوانوں کو ماحولیاتی تحریکوں کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پاکستان کی 64 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جو مثبت کردار ادا کرکے ماحول دوست معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماحولیات کا تحفظ صرف حکومتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا اجتماعی فرض ہے، اگر ہم آج سنجیدہ اقدامات نہ کریں تو آنے والی نسلوں کو کہیں زیادہ سنگین ماحولیاتی مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ عالمی یومِ ماحولیات ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ قدرت سے رہنمائی، آب و ہوا کے لیے، ہمارے مستقبل کے لیے صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں :سڑکوں پر خطرناک صورتحال،5 ماہ، 6 روز میں 445 قیمتی جانیں ضائع