امریکی صدر"آخری وارننگ" دینے کے بعد کیا کرتے ہیں؟ العربیہ نیوز کی رپورٹ

Apr 05, 2026 | 23:22:PM
 امریکی صدر
Stay tuned with 24 News HD Android App
Get it on Google Play

(ویب ڈیسک) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی حکومت کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لئے "آخری وارننگ" میں پیر تک وقت دیا ہے جس کے بعد وہ کہہ رہے ہیں کہ ایران کی حکومت کو جہنم جیسی صورتحال سے دوچار کر دیں گے۔  یہ پہلی بار نہیں کہ کسی امریکی صدر نے کسی جنگ کی صورتحال میں مخالف کو "آخری وارننگ" یا "ڈیڈ لائن" دی ہو۔  العربیہ نیوز نے ایک سرسری جائزہ میں بتایا ہے کہ اس سے پہلے  امریکہ کے صدر رابرٹ کینیڈی، جارج بش سینئیر اور جارج بش جونئیر "آخری وارننگ" دے چکے ہیں۔  دو مرتبہ وارننگ کے بعد جنگ کی گئی اور کینیڈی کی وارننگ کے نتیجہ میں امریکہ کو جنگ کئے بغیر کامیابی مل گئی تھی کیونکہ سوویت یونین نے دباؤ کو تسلیم کر کے سفارت کاری کر کے کیوبا سے میزائل پیچھے ہٹا لئے تھے۔

العربیہ نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ  مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز کو ایران کو کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دی گئی اپنی آخری مہلت کی یاد دہانی کرائی ہے، جس کے مطابق 06 اپریل سنہ 2026ء تک عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں تہران پر "جہنم کے دروازے کھل جائیں گے"۔

الٹی میٹم نتائج حاصل کرنےکا آزمودہ طریقہ

ایران اور دوسری جانب امریکہ و اسرائیل کے درمیان چھٹے ہفتے میں داخل ہونے والی اس جنگ کے دوران عالمی سطح پر یہ خدشات بڑھ رہے ہیں کہ یہ تصادم کئی ہفتوں تک طویل ہو سکتا ہے۔ تاہم ٹرمپ نے جو کچھ کیا وہ بین الاقوامی تعلقات میں کوئی نئی بات نہیں ہے  بلکہ اسے سیاسی اور سفارتی زبان میں "الٹی میٹم" (آخری وارننگ) کہا جاتا ہے جو عالمی تعلقات کی تاریخ میں ایک قدیم اور آزمودہ طریقہ رہا ہے۔ اس کے تحت ایک ملک مخصوص شرائط رکھتا ہے اور ان پر عمل درآمد کے لیے ایک وقت مقرر کرتا ہے، جس کی خلاف ورزی کی صورت میں فوجی کارروائی یا خطرناک حد تک کشیدگی کا آپشن باقی رہ جاتا ہے۔

 
ماضی میں امریکی صدروں کی بڑی وارننگز کیا تھیں
 ٹرمپ سے قبل تین امریکی صدور یہ راستہ اپنا چکے ہیں۔ تینوں کو ان کے مقاصد حاصل کرنے مین کامیابی ہوئی۔ دو نے جنگ لڑ کر کامیابی حاصل کی ، ایک کو جنگ کی نوبت آنے سے پہلے کامیابی مل گئی تھی۔

پریذیڈنٹ جارج بش کا صدام حسین کو الٹی میٹم
 دوسری خلیجی جنگ کے آغاز سے  پہلے اس وقت کے امریکی صدر جارج بش (بش سینئر) نے عراق کے سابق  صدر صدام حسین کو کویت سے  عراق کی فوج واپس لے جانے اور کویت کا قبضہ چھوڑ دینے کے  لئے  آخری وارننگ دی تھی۔ اس وقت امریکہ نے سلامتی کونسل کو بھی اس میں شامل کیا تھا اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس کے لیے 15 جنوری سنہ 1991ء کی مہلت مقرر کی تھی۔ جب یہ مدت ختم ہوئی اور عراقی فوج نے کویت سے واپسی کا راستہ اختیار نہین کیا تھا  تو  دو دن بعد "آپریشن ڈیزرٹ سٹارم" شروع کر دیا گیا تھا۔ اس آپریشن ڈیزرٹ سٹارم میں پاکستان بھی سعودی عرب، کویت اور دوسرے عرب اسلامی ملکوں کے ساتھ امریکہ کی سائیڈ پر تھا۔ اس جنگ میں امریکہ اور نیٹو ممالک کے جنگی طیاروں نے عراق پر محدود بمباری کی تھی اور نو فلائی زون قائم کیا تھا تاہم زمینی کارروائی سے عمومی گریز کیا تھا۔

   
جارج واکر بش  کی  افغان  طالبان کو آخری وارننگ
 سنہ 2001 میں 11 ستمبر کی صبح نیویارک مین ٹوین ٹاورز اور واشنگٹن میں پینٹاگون پر ہائی جیک کئے گئے مسافر طیاروں کو ٹکرانے کے واقعات  (نائن الیون حملوں) کے بعد اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش  (بش جونئیر) نے افغانستان میں طالبان کو القاعدہ کے اس وقت کے سربراہ اسامہ بن لادن کو امریکہ کے حوالے کرنے کے لئے  مہلت دی تھی اور عمل نہ کرنے کی صورت میں خود افغانستان کے اندر آ کر کارروائی کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ طالبان نے  جارج واکر بش کا یہ مطالبہ مسترد کر دیا جس کے نتیجے میں اکتوبر سنہ 2001ء میں افغانستان پر امریکی حملے کا آغاز ہوا تھا اور افغان طالبان کی بیشتر قیادت افغانستان  سے بھاگ کر پاکستان آ گئی تھی۔

صدام حسین کے خلاف دوسری مرتبہ جنگ سے پہلے  دوبارہ مہلت اور الٹی میٹم
 سنہ 2003ء میں عراق پر حملے سے قبل بش جونیئر نے ایک بار پھر صدام حسین اور ان کے بیٹوں کو ملک چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت دی تاکہ جنگ سے بچا جا سکے۔ صدام حسین نے اسے ملک کی خود مختاری پر سمجھوتہ قرار دے کر مسترد کر دیا، جس کے بعد وہ جنگ چھڑ گئی جو اس وقت بعث پارٹی کی ڈکٹیٹر شپ کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا الزام لگا کر شروع کی گئی تھی۔ اس جنگ میں امریکہ اور کئی اتحادی ملکوں کی فوجیں عراق کے اندر گئی تھیں اور عراق کے شیعہ فیکشن نے ایران کی حکومت کی ہدایت سے  صدام حسین کے خلاف جنگ میں امریکہ کا بالواسطہ ساتھ دیا تھا جس کے نتیجے میں کچھ علاقوں پر ایران کے حمایت یافتہ شیعہ گروہ کی ڈی فیکٹو حکومت بن گئی تھی۔

   
کیوبا میں سوویت میزائلوں کی تنصیب کو لے کر صدر کینیڈی کا سوویت یونین کو جنگ کا الٹی میٹم

سنہ 1962ء میں" کیوبا میزائل کرائسس" آیا تھا۔ سوویت یونین نے امریکہ پر دباؤ بڑھانے کے لئے خطرناک سٹریٹیجک پیش قدمی کی تھی اور امریکہ کے بہت قریب واقع کمیونسٹ ریاست کیوبا  کے سربراہ ڈاکٹر فیدل کاسترو کے ساتھ مل کر  کیوبا میں سوویت یونین کے نیوکلئیر وار ہیڈز والے میزائل نصب کرنے کا منسوبہ بنایا تھا۔  ک امریکہ نے اس منصوبے کا علم ہونے کے بعد سوویت  یونین کے علاقہ میں موجود بحری جہازوں کی ناکہ بندی بھی کی اور اس ہی دوران امریکہ کے اس وقت  صدر جان ایف کینیڈی نے سوویت یونین کو کیوبا سے اپنے میزائل ہٹانے کے لیے آخری وارننگ جیسی دھمکی دی تھی اور  دو سپر پاورز سوویت یونین اور امریکہ کے براہ راست فوجی تصادم کا انتباہ دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیئے:   ٹرمپ کی منگل کو ایران میں  پاور پلانٹ اور پل تباہ کرنے کی دھمکی

دونوں اطراف سے خطرناک فوجی پیش قدمیاں کی گئیں اور  کشیدگی اس قدر بڑھی کہ دنیا سہم کر رہی گئی کیونکہ تب تک بہت سے ملک دوسری عالمی جنگ کے دوران ہونے والی بربادی سے ہی نہیں سنبھل سکے تھے۔  اس وقت یہ کشیدگی  بیک چینل ڈپلومیسی سے کنٹرول ہوئی تھی اور آخری لمحات میں ایک سفارتی معاہدہ ہو گیا تھا اور سوویت یونین نے کیوبا مین نیوکلئیر وار ہیڈز والے سوویت میزائل ڈپلائی کرنے کا منصوبہ منسوخ کر دیا تھا۔ اسے کیوبا میزائل بحران کا پر امن اختتام تصور کیا گیا اور یہ مانا گیا کہ  دنیا ایک ہلاکت خیز جنگ سے بچ گئی۔

چھ ہفتوں کی ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش اور عالمی معیشت ؛ آبنائے کھولنے کیلئے پیر تک مہلت
 آج پوری دنیا کی نظریں ان اقدامات پر لگی ہیں جو ٹرمپ کل بروز پیر 06 اپریل تک آبنائت ہرمز کو آمد و رفت کے لئے نہ کھولنے کی صورت میں  ایران کے خلاف اٹھا سکتے ہیں، کیونکہ وہ جہنم جیسی سورتحال کی کئی مرتبہ دھمکیاں دینے کے بعد اب آخری الٹی میٹم میں  توانائی کی تنصیبات اور پلوں پر بمباری سے آگاز کرنے  کی دھمکی دے چکے ہیں۔ اس دھمکی کو "آخری وارننگ" کی حیثیت سے پری سییو کیا جا رہا ہے۔

Caption تھائی لینڈ کے اس فلیگ کیرئیر آئل ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے دوران ایرانی بحریہ نے نشانہ بنا کر حملہ کر  کے تباہ کر دیا تھا۔  آبنائے ہرمز کی ایران کی جانب سے بندش کے نتیجہ مین دنیا مین تیل  اور گیس کی قیمتیں غیر معمولی اضافہ کے ساتھ عالمی معیشت میں سنگین بحران کا سبب بن گئی ہیں۔

ایران کے ساتھ جنگ میں شریک اور ائیر سٹرائیکس مین امریکہ سے ایک قدم آگے چلنے والے اسرائیل نے پہلے ہی ائیر سٹرائیکس کی تیاری کر لی ہے۔اسرائیلی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ تل ابیب ایران کی توانائی کی تنصیبات (بجلی گھروں) پر وسیع پیمانے پر حملوں اور ان کی تباہی کے لیے واشنگٹن کے گرین سگنل کا منتظر ہے۔

ایران کی جانب سے پبلک سطح پر  اتوار اور منگل کی رات تک آبنائے ہرمز کو کھولنے  کی طرف جانے کا کوئی موہوم سا بھی اشارہ نہیں دیا بلکہ یہ بتایا کہ اگر ان کے خلاف بڑی جنگی کارروائی ہوئی تو وہ پورے خطہ میں (اسرائیل کے ساتھ کئی عرب ممالک میں بھی ) اتنے ہی بڑے پیمانہ پر جنگی کارروائیاں کریں گے جتنے بڑے پیمانہ پر ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔

ٹرمپ کے حالیہ الٹی میٹم

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسری مرتبہ امریکہ کا صدر بننے کے بعد ٹیرف بڑھانے کی دھمیاں دنیا کے کئی ملکوں کو دیں، ان تمام دھمکیوں پر کبھی اپنے الٹی میٹم کے عین مطابق، کبھی کچھ لچک دکھا کر، ملتین بڑھا کر بعد میں عمل کیا اور کبھی عمل کو ٹال بھی دیا جیسے ڈنمارک  کے جزیرہ گرین لینڈ پر حملہ کر کے قبضہ کر لینے کی دھمکی پر ٹرمپ نے عمل نہین کیا لیکن فرانس، ڈنمارک اور کئی دوسرے ملکوں پر بھاری ٹیرف نافذ کرنے کی دھمکی پر جزوی عمل کر ڈالا۔ ٹرمپ نے چین پر ٹیرف مین ہوش ربا اضافہ کرنے کی دھمکیاں دیں اور اصل دھمکیوں سے بھی آگے جا کر اقدامات کر ڈالے۔ لیکن انہیں بیشتر ٹیرف دھمکیوں پر عمل درآمد کر دینے کے بعد پیچھے بھی ہٹنا پڑا کیونکہ امریکہ کی اپنی معیشت نے ٹیرف جنگ میں ٹرمپ کے دنیا پر حملوں کے برے اثرات سے بچنے کے لئے ان اقدامات کی مزاحمت کی۔؎

ٹرمپ کے ایران ک یقیادت کو الٹی میٹم

صدر ٹرمپ کے ایران کی قیادت کو الٹی میٹم دینے کی تاریخ کافی پھیلی ہوئی ہے۔ انہوں نے  ایک نمایاں دھمکی ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کی دی۔ اس دھمکی کو اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملہ کے پہلے ہی دن عملی جامہ پہنچایا۔  لیکن اس کے بعد ٹرمپ نے ایران کی تیل کی تنصیبات پر حملوں کے لئے جو الٹی میٹم دیئے ان پر عمل کرنے کی بجائے الٹی میٹم کی ڈیڈ لائن بڑھاتے رہے۔ 

آج اتوار اور پیر کی شب بھی واشنگٹم میں بعض صحاتی ذرائع ٹرمپ کی موجودہ الٹی میٹم کی مہلت میں توسیع کی طرف جانے کے امکان کے اشارے دے رہے ہیں۔

ڈپلومیسی کی نئی کوششیں؟
 ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں اب تک تین ممالک نے ڈپلومیسی کے ذریعہ کشیدگی کے خاتمے کی سعی کی؛ پاکستان، مصر اور ترکیہ نے امریکہ اور عرب ممالک کے ساتھ ایران کے مذاکرات کروانے کے لئے دو طرفہ رابطہ کاری کی اور اس کے نتیجہ میں کسی سطح پر امریکہ اور ایران کے مذاکرات ہو بھی رہے ہیں۔ تاہم امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آخری وارننگ جیسی دھمکی سامنے آنے کے بعد کم از کم میڈیا کی حد تک کوئی ایسا اشارہ سامنے نہیں آیا کہ الٹی میٹم  پر عمل رکوانےکے لئے یا ایرانی قیادت کو آبنائے ہرمز کھولنے پر آمادہ کرنے کے لئے کوئی نئی کوشش کی جا رہی ہے یا نہیں۔

Caption ایران جنگ گزشتہ پانچ ہفتوں کے دوران  امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہزاروں ٹارگٹس پر ائیر سٹرائیکس کی گئیں جن مین بحریہ، زمینی فوج، ائیر ڈیفینس اور ریاست کے مخصوص ادارے پاسداران، بسیج اور کچھ انفراسٹرکچر اہداف شامل تھے۔ اب ٹرمپ براہ راست انرجی  پلانٹس، کمیونیکیشن انفراسٹرکچر پر حملوں سے نئے حملوں کے آغاز کی دھمکی دے رہے ہیں۔